غزہ جنگ کے مخالف کولمبیا یونیورسٹی کے طالب علم محمود خلیل کی امریکہ بدری غیر آئینی قرار
محمود خلیل کو ۸ مارچ کو گرفتار کیا گیا تھا،
نیو یارک ۲۹ مئی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)نیو جرسی کی عدالت نے کولمبیا یونیورسٹی کے طالب علم اور غزہ جنگ کے مخالف فلسطینی محمود خلیل کی امریکہ سے ملک بدری کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔ یہ حکم ڈسٹرکٹ جج مائیکل فاربیارز نے بدھ کے روز جاری کیا، تاہم انہوں نے کارروائی اگلے بدھ تک ملتوی کر دی ہے، جب مزید قانونی احکامات جاری کیے جائیں گے۔
محمود خلیل کو ۸ مارچ کو گرفتار کیا گیا تھا، جب امریکی محکمہ خارجہ نے ان کا گرین کارڈ منسوخ کر دیا۔ اس منسوخی کی بنیاد امیگریشن قانون کی اس شق پر رکھی گئی ہے جس کے تحت محکمہ خارجہ ایسے غیر ملکیوں کو ملک بدر کر سکتا ہے جن کی موجودگی امریکہ کی خارجہ پالیسی کے مفادات کے خلاف ہو۔
خلیل کے وکلا اور ساتھی اس فیصلے کو آزادی اظہار رائے کے حق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں کیونکہ محمود خلیل نے امریکی کیمپس میں غزہ جنگ کے خلاف مظاہروں میں حصہ لیا تھا اور فلسطینیوں کی آزادی کے حق میں نعرے لگائے تھے۔ عدالت نے اس وقت یہ واضح نہیں کیا کہ آیا ملک بدری کا فیصلہ پہلی ترمیم میں دیے گئے حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے یا نہیں، لیکن جج نے کہا کہ خلیل کا استدلال مضبوط ہے کہ متعلقہ قانون اتنا مبہم ہے کہ اسے غیر آئینی قرار دیا جا سکتا ہے۔
جج نے اپنے حکم میں لکھا کہ "ایک عام فرد کو معلوم ہونا چاہیے کہ امریکہ میں اس کی تقریر کی بنیاد پر اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے یا نہیں۔” وہ اس قانون کی وضاحت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اسے غیر واضح اور ممکنہ طور پر غیر آئینی قرار دے رہے ہیں۔
محمود خلیل شام کے ایک پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئے اور پرورش پائی۔ وہ 2022 میں اسٹوڈنٹ ویزا پر امریکہ آئے اور اپنی امریکی شہریت رکھنے والی اہلیہ کے ذریعے قانونی طور پر مستقل رہائشی بن گئے تھے۔
یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی انتظامیہ نے غیر ملکی طلبہ کو ملک بدر کرنے کی کارروائیاں شروع کی تھیں، خاص طور پر ان طلبہ کے خلاف جو غزہ میں اسرائیل کی جنگی کارروائیوں کی مخالفت کر رہے تھے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے غزہ جنگ پر احتجاج کرنے والے 30 سے زائد طلبہ کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا ہے۔
حال ہی میں، کولمبیا یونیورسٹی کے دیگر فلسطینی طالب علم محسن مہدوی اور میساچوسٹس یونیورسٹی کی ترک طالبہ رومیسا اوزترک کو بھی عدالت نے رہا کرنے کا حکم دیا تھا جنہیں امیگریشن حکام نے گرفتار کیا تھا۔



