قومی خبریں

دودھ کے بعد کمرشیل ایل پی جی سلنڈر 105 روپے مہنگا

مہنگائی کے نئے بوجھ کے ساتھ مارچ کا آغاز

ممبئی یکم مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) انتخابی نتائج سے قبل ہی اشیاء مہنگی ہونی شروع ہوگئی ہیں۔تیل،دودھ کے بعدا ب عام آدمی کو پھر مہنگائی کا جھٹکا لگا ہے۔ مارچ کا آغاز مہنگائی سے متعلق دو خبروں کے ساتھ ہواہے۔

ریستوراں میں کھانا کھانا یا آن لائن کھانا آرڈر کرنا مہنگا پڑ سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے کمرشیل گیس سلنڈر کی قیمت میں 105 روپے کا اضافہ کر دیا ہے۔

اس سے ٹھیک ایک دن پہلے امول نے دودھ کی قیمتوں میں 2 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا تھا۔ منگل کویکم مارچ سے سرکاری تیل کی کمپنیوں نے 19کلو کے کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 105 روپے تک کا اضافہ کر دیا ہے۔

یہی نہیں بلکہ 5 کلو کے کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں بھی 27 روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس سے طلباء اور مزدوروں کے لیے کھانا پکانا مہنگا ہو جائے گا۔ بات صرف اتنی ہے کہ گھریلو گیس سلنڈر کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔

نئے اضافے کے بعد دہلی میں کمرشل ایل پی جی گیس سلنڈر کی نئی قیمت 2,012 روپے ہو گئی ہے۔ کولکاتہ میں اس کی قیمت 1987 روپے کے بجائے 2095 روپے ہو گئی ہے۔

ممبئی میں کمرشیل ایل پی جی گیس سلنڈر کی نئی قیمت اب 1857 روپے سے بڑھ کر 1963 روپے ہو گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button