
الٰہ آباد ،31جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)الہ آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ ایک کورونا سے متاثرہ شخص جو اسپتال میں علاج کے دوران مر جاتا ہے تو اسے کووڈ کی وجہ سے ’موت‘ سمجھا جانا چاہئے، چاہے فوری وجہ دل کا دورہ پڑنے یا کسی دوسرے عضو کے خراب ہونے کی وجہ سے اس کی موت ہوئی ہو۔ اس سے بہت سے لوگوں کو ریلیف ملے گی، جنہیں تکنیکی وجوہات کی بنا پر معاوضہ دینے سے انکار کر دیا گیا ہے۔عدالت نے کہا کہ ایسے کسی بھی مرنے والے کے زیر کفالت معاوضہ کی رقم کے حقدار ہوں گے جیسا کہ حکومت نے پہلے ہی فیصلہ کیا ہے۔
کْسم لتا یادو اور کئی دیگر لوگوں کی طرف دائر رٹ درخواستوں کو تسلیم کرتے ہوئے جسٹس عطا الرحمن مسعودی اور جسٹس وکرم ڈی چوہان کی ایک ڈویڑن بنچ نے ریاستی حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایک ماہ کی مدت کے اندر کووڈ متاثرین کے زیر کفالت افراد کو معاوضہ کی رقم جاری کریں۔اس معاملے میں درخواست گزار متوفی سرکاری ملازمین کے زیر کفالت تھے، جن کو حکومت نے الیکشن کی ڈیوٹی میں لگایا تھا اور بعد میں کووڈ-19 کی وجہ سے ان کا انتقال ہوگیا تھا۔ انہوں نے 1 جون 2021 کے گورنمنٹ آرڈر (جی او) کی شق 12 کو بنیاد بنا کر عدالت میں چیلنج کیا تھا کہ یہ شق اس صورت میں معاوضے کی ادائیگی کی اجازت دیتا ہے جب موت الیکشن ڈیوٹی کے 30 دنوں کے اندر واقع ہوئی ہو۔
درخواست گزار ایسے کسی بھی مرنے والے شخص کے زیر کفالت افراد کو معاوضے کے لیے ریاستی حکومت کی طرف سے جاری کردہ جی او کے مطابق 30 لاکھ روپے معاوضہ کی رقم کی ادائیگی کا حقدار ہوگا۔ حالانکہ، اس سلسلے میں جاری کردہ حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق اسی طرح دیگر افراد کو بھی معاوضہ دیا جائے گا۔درخواست گزار نے استدلال کیا کہ اس جی او کا مقصد اس خاندان کو معاوضہ فراہم کرنا ہے، جس نے کووڈ-19 کی وجہ سے پنچایت انتخابات کے دوران اپنا کمانے والا کھو دیا ہے۔ یہ دلیل دی گئی کہ ریاستی حکام قبول کرتے ہیں کہ درخواست گزار کے شوہر کی موت کووڈ-19 کی وجہ سے ہوئی ہے، لیکن صرف شق 12 میں موجود حد کی وجہ سے ادائیگی سے انکار کیا جا رہا ہے۔



