لکشمن سنگھ پر کانگریس کا وار: چھ سال کے لیے پارٹی سے نکال دیا گیا
مدھیہ پردیش کے اس سینئر کانگریس لیڈر کے خلاف کارروائی کی گئی، چھ سال کے لیے پارٹی سے نکال دیا گیا۔
نئی دہلی، 11 جون (اردو دنیا نیوز / ایجنسیز):کانگریس نے مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ کے چھوٹے بھائی اور سابق ممبر پارلیمنٹ لکشمن سنگھ کے خلاف بڑا قدم اٹھاتے ہوئے انہیں چھ سال کے لیے پارٹی سے نکال دیا ہے۔ یہ فیصلہ پارٹی ڈسپلن کمیٹی نے پارٹی مخالف سرگرمیوں کی بنیاد پر لیا۔
ڈسپلن کمیٹی کے رکن طارق انور نے بتایا کہ لکشمن سنگھ کے خلاف متعدد شکایات موصول ہوئیں، جن میں ان کے متنازع بیانات شامل تھے۔ خاص طور پر 24 اپریل کو لکشمن سنگھ نے راہول گاندھی، رابرٹ واڈرا اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر سنگین الزامات لگائے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ عمر عبداللہ دہشت گردوں کے ساتھ گٹھ جوڑ میں ہیں، اور راہول گاندھی کو سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہئے۔
یہی نہیں، لکشمن سنگھ نے طنزیہ انداز میں کہا تھا، "اگر راہل مجھے پارٹی سے نکالنا چاہتے ہیں تو انہیں آج ہی کرنا چاہئے۔” اس بیان پر پارٹی نے سخت ناراضگی ظاہر کی اور 9 مئی کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کرتے ہوئے 10 دن میں وضاحت مانگی، لیکن سنگھ کا جواب غیر تسلی بخش پایا گیا۔
نتیجتاً پارٹی نے ان کی رکنیت ختم کرنے کا فیصلہ لیا، جس پر ہائی کمان نے منظوری دے دی۔ طارق انور نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ لکشمن سنگھ کو چھ سال کے لیے پارٹی سے برخاست کیا جا رہا ہے۔
لکشمن سنگھ مدھیہ پردیش کے راگھو گڑھ شاہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، جہاں سے ان کے بڑے بھائی دگ وجے سنگھ وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں۔ لکشمن سنگھ خود بھی ایم پی اور ایم ایل اے رہ چکے ہیں، تاہم انہیں سیاسی طور پر وہ مقام نہیں ملا جو ان کے بھائی کو حاصل ہوا۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ 2018 میں کانگریس کی واپسی کے بعد بھی جب جے وردھن سنگھ کو وزیر بنایا گیا اور لکشمن سنگھ کو نظر انداز کیا گیا، تو انہوں نے دل میں گہری چوٹ محسوس کی۔ وہ اس مخالفت کا کھل کر اظہار نہیں کرتے تھے، لیکن اندرونی ناراضگی بارہا ان کے بیانات میں جھلکتی رہی۔
کانگریس کی یہ کارروائی مدھیہ پردیش کی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں جب ریاست میں پارٹی اندرونی خلفشار سے گزر رہی ہے۔



