قومی خبریں

کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے کہا – ہم ایوان میں ہوا کھانے نہیں آتے ہیں

انوراگ ٹھاکر نے دیا جواب

نئی دہلی ،11؍اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پارلیمنٹ کے مون سون سیشن میں اپوزیشن کے ہنگامے کی وجہ سے کاروائی آسانی سے نہیں چل سکی۔ لوک سبھا کی کارروائی ملتوی کردی گئی ہے۔ اس پورے معاملے پر لوک سبھا میں #کانگریس کے رہنما ادھیر رنجن #چودھری نے کہا کہ انہوں نے ایوان کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کے فیصلہ پراپوزیشن کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔ پیگاسس جاسوسی، کسان قانون اور مہنگائی پر تبادلہ خیال کریں۔

#پٹرول کی قیمتوں پر آواز بلند کرنے کے باوجود حکومت نے بحث سے گریز کیا۔ #فرانس اور #اسرائیل کی حکومت #پیگاسس کی تحقیقات کر رہی ہے۔ ہر طرف شورہے۔ اس کا معاشرے کے ہر طبقے کے خلاف غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ ہم نے انہی #مسائل پر #ایوان میں بحث کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایوان میں بھی حکومت کی طرف سے مختلف بیانات آتے ہیں۔ کوویڈ کے معاملے پر بات کرنا چاہتے تھے۔

ویکسی نیشن بھی صحیح طریقے سے نہیں کیا جا رہا ہے۔ حکومت کچھ کہتی ہے اور زمین پر کچھ ہوتا ہے۔ جب او بی سی کی بات آئی تو حکومت کی پوری مدد کی۔ کانگریس اور اپوزیشن اپنی ذمہ داری جانتے ہیں۔ ہم ایوان میں ہوا کھانے نہیں بلکہ لوگوں کے مسائل اٹھانے آتے ہیں۔ آج پی ایم پہلی بار ایوان آئے اور صرف بل پاس کراتے رہے۔ بل سات سے آٹھ منٹ تک منظور کیا گیا۔ ہمارا احتجاج لوک سبھا ٹی وی میں نہیں دکھایا گیا۔

جمہوریت کے لیے خطرہ ہے۔ وزیر اعظم باہر کیوں بولتے ہیں، ایوان میں کیوں نہیں۔ پھر پارلیمنٹ کی کیا ضرورت ہے؟ جو کچھ کہنا ہے ایوان کے اندر اس پر بحث ہونی چاہیے۔اس کے ساتھ ہی اس معاملے پر مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے کانگریس کا نام لیے بغیر کہا کہ جو پارٹی دو سال تک اپنے صدر کا انتخاب نہیں کر سکی۔ جن کے ممبران اسمبلی اپنے ہی سرکاری بل پھاڑدیں۔ جو پارٹی ایوان چلنے نہ دے۔ سڑک پر بھی جو کرنے میں لوگ شرم محسوس کرتے ہیں وہ ایوان میں کیا جائے ، سوچیں کہ کتنا جمہوریت کو شرمسارکرنے کا کام کیا جا رہا ہے۔

ملک کے جن لوگوں کو بطور رکن پارلیمنٹ بھیجا گیا ہے، وہ اپنے مسائل اٹھانے کے لیے فائلیں پھینک دیتے ہیں، ہنگامہ کھڑا کرتے ہیں۔ ایوان چلانے کے لیے کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں لیکن جب بحث ہوتی ہے تو یہ لوگ حصہ نہیں لیتے۔ کل راجیہ سبھا میں کیا ہوا، پہلے وزیر کا بیان پھاڑ دیا گیا۔ پھر میز پر چڑھ کر راجیہ سبھا اسپیکر کی کرسی پر فائل پھینک دی گئی، یہ شرمناک ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button