قومی خبریں

کانگریس نے ایک خاندان ایک ٹکٹ کے اصول کی کی ضابطہ شکنی

نئی دہلی ، 31 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) کانگریس پارٹی نے اتوار کو راجیہ سبھا کے 10 امیدواروں کی فہرست جاری کی۔ اس کے بعد سے کانگریس پارٹی میں تنازع برپا ہے۔ ٹکٹوں کی تقسیم سے نالاں پارٹی کے بڑے لیڈروں کا کہنا ہے کہ پارٹی نے دو ہفتے کے اندر ادے پور چنتن شیویر میں کئے گئے اعلانات کو توڑ دیا ہے۔ کانگریس نے آئندہ راجیہ سبھا انتخابات کے لیے سات ریاستوں سے 10 امیدوار کھڑے کیے ہیں۔

اس نے گاندھی خاندان کے مانے جانے والے پی چدمبرم اور جے رام رمیش کو جگہ دی ہے اور واضح طور پرجی -23 ممبران جیسے غلام نبی آزاد اور آنند شرما کو ٹکٹ دینے سے انکار کر دیا ہے۔

جو گاندھی خاندان کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں۔پارٹی کی جانب سے ٹکٹوں کی تقسیم کو لے کر یہ دلیل دی جا رہی ہے کہ محدود تعداد میں لیڈروں کو راجیہ سبھا میں بھیجا جا سکتا ہے،وہیں سب کو خوش رکھنا ممکن نہیں۔ ٹکٹوں کی تقسیم سے خوش نہ ہونے والے لیڈروں کا کہنا ہے کہ پارٹی نے ادے پور میں کئے گئے اعلان کی خلاف ورزی کی ہے۔

ادے پور’ چنتن شیویر ‘میں کیے گئے بڑے اعلانات میں سے ایک یہ تھا کہ پارٹی نے ’ایک خاندان ایک ٹکٹ‘ کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن اگر خاندان کا کوئی دوسرا فرد ٹکٹ چاہتا ہے تو وہ سیاسی طور پر متحرک ہو اور تنظیم میں کام کرنے کا کم از کم پانچ سال کا تجربہ رکھتا ہو۔کانگریس لیڈروں کا الزام ہے کہ پارٹی نے اس شرط کو توڑا کیونکہ پی چدمبرم (جن کے بیٹے کارتی چدمبرم لوک سبھا ایم پی ہیں) اور پرمود تیواری (جن کی بیٹی آرادھنا مشرا اتر پردیش سے ایم ایل اے ہیں) کو ٹکٹ دیا گیا تھا۔

ٹکٹوں کی تقسیم پر سوال اٹھاتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ اجے ماکن جو دہلی کے رہنے والے ہیں کو ہریانہ سے ٹکٹ دیا گیا ہے اور رندیپ سرجے والا جو ہریانہ سے ہیں کو راجستھان سے ٹکٹ دیا گیا ہے۔مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والے مکل واسنک کو راجستھان سے اور عمران پرتاپ گڑھی جو اتر پردیش سے ہیں کو مہاراشٹر سے ٹکٹ دیا گیا ہے جبکہ ان کا مہاراشٹر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ فہرست ایک مذاق ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button