سرورققومی خبریں

پی ایم مودی اپنے روایتی انداز میں اپوزیشن پر حملہ آور کہا،کانگریس بجٹ کا 15فیصد مسلمانوں پر خرچ کرنا چاہتی تھی ، میں مخالف تھا

کانگریس کے لیے صرف ایک اقلیت ہے، اس کا اپنا پسندیدہ ووٹ بینک ہے

ممبئی، 15مئی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)لوک سبھا انتخابات کے چار مرحلوں کے لیے ووٹنگ ہو چکی ہے۔ ابھی تین مراحل باقی ہیں۔ تمام جماعتیں الیکشن جیتنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہیں۔ رہنما ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں۔ اس دوران وزیر اعظم نریندر مودی بدھ کو مہاراشٹر پہنچے۔ یہاں انہوں نے ناسک کے ڈنڈوری میں ایک جلسہ عام سے خطاب کیا۔جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے بزعم خویش دعویٰ کیا کہ کانگریس لوک سبھا انتخابات اس بری طرح سے ہار رہی ہے کہ آئین کے تحت ان کے لیے اپوزیشن بننا مشکل ہو جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ مہاراشٹر میں انڈیا اتحاد کے ایک رہنما نے مشورہ دیا تھا کہ مہاراشٹر میں چھوٹی پارٹیوں کو انتخابات کے بعد کانگریس میں ضم ہو جانا چاہئے۔ یعنی جعلی شیوسینا اور جعلی این سی پی کانگریس میں ضم ہو جائیں گی۔ جب ایسا ہوگا تو میں بالا صاحب ٹھاکرے کو سب سے زیادہ یاد کروں گا۔

بالا صاحب کہتے تھے کہ جس دن انہیں لگے گا کہ شیوسینا کانگریس بن گئی ہے، اس دن وہ شیو سینا کو ختم کر دیں گے۔ مطلب اب فرضی شیو سینا کا کوئی سراغ نہیں ملے گا۔ پی ایم مودی نے میٹنگ میں مزید کہا کہ کانگریس کے لیے صرف ایک اقلیت ہے، اس کا اپنا پسندیدہ ووٹ بینک ہے۔ ایک واقعہ سناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب میں وزیر اعلیٰ تھا تو کانگریس چاہتی تھی کہ ملک کے کل بجٹ کا 15فیصد صرف مسلمانوں پر خرچ ہو۔اس وقت میں نے اس کی سخت مخالفت کی۔ پوری بی جے پی نے احتجاج کیا۔

اس لیے وہ اپنے منصوبوں میں کامیاب نہ ہو سکے۔ پی ایم مودی نے کہا کہ بابا صاحب امبیڈکر مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن دینے کے خلاف تھے۔ لیکن کانگریس ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی کمیونٹی کا ریزرویشن چھین کر اپنے ووٹ بینک کو دینا چاہتی ہے۔انتخابی ریلی میں پی ایم مودی نے کہا کہ آپ نے پچھلے 10 سالوں میں میرا کام دیکھا ہے۔ اب میں اپنی تیسری مدت کے لیے آپ سے آشیرواد لینے آیا ہوں۔ میں ترقی یافتہ ہندوستان بنانے کے لیے آشیرواد لینے آیا ہوں۔ پچھلے 10 سالوں میں، میں نے بلا تفریق راشن، نل کا پانی، پکے گھر اور گیس کے کنکشن فراہم کیے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button