سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

فتح مکہ : پس منظر اور وجوہات-رغیبؔ الرّحمٰن انعامدار بِیودوِی

معاون معلم، بلال اردو پرائمری اسکول، گیورائی، ضلع بیڑ، مہاراشٹر

اللہ، جو شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے، وہی اللہ، جو اندھیری راتوں میں بے سہارا دلوں کا سہارا بنتا ہے، جو بے آواز آنسوؤں کو بھی سنتا ہے، جو زمین پر گرنے والے پتوں کی سرگوشیاں بھی جانتا ہے، اور جو وہ وعدہ کبھی نہیں توڑتا جو اس نے حق کے مسافروں سے کیا تھا۔ وہی اللہ، جس کے نام سے وقت چلتا ہے، جس کے حکم سے سورج نکلتا ہے اور ڈوبتا ہے، جس کے ایک اشارے پر تخت گر جاتے ہیں اور غلام بادشاہ بن جاتے ہیں۔

یہی وہ اللہ تھا، جس نے اپنے محبوب نبی ﷺ کو مکہ کی سنگلاخ وادیوں میں مبعوث کیا، جہاں ہر قدم آزمائشوں میں گھرا ہوا تھا۔ یہی وہ مکہ تھا، جہاں "لا الہ الا اللہ” کہنا جرم تھا، جہاں ایمان کی راہ میں آگ کے الاؤ دہکائے گئے، جہاں گرم ریت پر بیڑیاں پہنائی گئیں، جہاں حضرت سمیہؓ کی چیخیں، حضرت یاسرؓ کی آہیں اور حضرت بلالؓ کی "احد، احد” کی صدا ہواؤں میں گونجتی رہی۔

یہی وہ مکہ تھا، جہاں ایک دن نبی رحمت ﷺ طائف کی گلیوں میں پتھر کھا کر، لہولہان بدن کے ساتھ، رب کے حضور فریاد کرتے ہیں:

"اے اللہ! اگر تُو مجھ سے راضی ہے، تو پھر مجھے کوئی غم نہیں!”

یہی وہ نبی تھے، جو مکہ کی وادیوں میں قریش کے ظلم سہتے رہے، جن کے قدموں میں اوجھڑیاں پھینکی گئیں، جن کی راہ میں کانٹے بچھائے گئے، جنہیں جھٹلایا گیا، دھتکارا گیا، اور بالآخر اس مقدس سرزمین سے نکال دیا گیا۔ مدینہ کی جانب ہجرت ہوئی، مگر دل کا ایک گوشہ مکہ کے ساتھ ہی دھڑکتا رہا۔

لیکن! اللہ کی تدبیر سب سے بلند ہے۔

وہی اللہ، جو صبر کرنے والوں کو کبھی بے یار و مددگار نہیں چھوڑتا، وہی اللہ، جو مکہ کی گلیوں میں گونجنے والی ہر صدا سنتا تھا، ہر آنسو دیکھ رہا تھا۔ پھر وہ دن آیا، جب مکہ نے اپنے ہی نکالے گئے نبی کو واپس آتے دیکھا، مگر کیسے؟ دس ہزار جانثاروں کے جلو میں، عزت اور عظمت کے ساتھ، حق کے سورج کی طرح چمکتے ہوئے۔

مگر یہاں کوئی انتقام نہ تھا، کوئی خونریزی نہ تھی، کوئی بدلے کی آگ نہ تھی۔ وہی مکہ، جہاں ایک وقت میں ظلم کی آندھیاں چلتی تھیں، آج وہیں نبی اکرم ﷺ نے اعلان کیا:

"آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ، تم سب آزاد ہو!”
یہ دن محض ایک فتح کا دن نہیں تھا، یہ دن اللہ کے وعدے کی تکمیل کا دن تھا۔

یہ دن اس صبر کا انعام تھا جو بدر کی راتوں میں مانگی گئی دعاؤں کا ثمر تھا، یہ دن احد کے شہیدوں کی قربانیوں کا صلہ تھا، یہ دن خندق کی یخ بستہ راتوں میں جمی ہوئی امیدوں کا دن تھا۔ یہ دن حدیبیہ کی ظاہری شکست کے اندر چھپی ہوئی کامیابی کا دن تھا۔

یہ دن تھا، جب ظلم نے گھٹنے ٹیک دیے، اور رحمت نے اپنا دامن پھیلا دیا۔ یہی وہ لمحہ تھا، جب خانہ کعبہ کو بتوں سے پاک کیا گیا، یہی وہ لمحہ تھا، جب ابو سفیان، جو کل تک سب سے بڑے دشمن تھے، آج "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ” پڑھ رہے تھے، یہی وہ لمحہ تھا، جب ہندہ، جس نے حضرت حمزہؓ کا کلیجہ چبایا تھا، ندامت کے آنسو بہا کر اسلام قبول کر رہی تھی، یہی وہ لمحہ تھا، جب اسلام کے چراغ کی روشنی پورے عرب میں پھیل گئی تھی۔

یہ فتح مکہ کوئی عام واقعہ نہیں، یہ تاریخ کا سب سے عظیم واقعہ ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ظلم کا دورانیہ ہمیشہ محدود ہوتا ہے، باطل جتنا بھی طاقتور ہو، آخرکار وہی نیست و نابود ہوتا ہے، اور حق ہمیشہ فتح یاب ہوتا ہے۔ یہی وہ واقعہ ہے، جو ہمیں سکھاتا ہے کہ صبر، یقین اور اللہ پر بھروسہ ہی سب سے بڑی طاقت ہے۔

یہی وہ داستان ہے، جو آج بھی ہمیں بتاتی ہے کہ اندھیری رات کتنی ہی لمبی کیوں نہ ہو، بالآخر سورج کو نکلنا ہی ہوتا ہے، اور باطل کو مٹ جانا ہی ہوتا ہے!

یہ فتح مکہ کی داستان ہے، اور اب ہم اس واقعہ کو ابتدا سے دیکھیں گے، کہ کیسے یہ سب ہوا، کن آزمائشوں سے گزر کر یہ دن آیا، اور کیسے تاریخ نے وہ لمحہ دیکھا،

جب اللہ کا نور مکہ کی فضاؤں میں اپنی پوری تابانی کے ساتھ چمک اٹھا۔

فتحِ مکہ: پس منظر اور سلسلہ وار واقعات

نبوت سے قبل کے حالات:

1۔ عرب کا سماجی اور اخلاقی پس منظر:

یہ وہ زمانہ تھا، جب عرب کی زمین جہالت اور ظلم کی تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ جنگ و جدل معمول بن چکا تھا، خون بہانا بہادری کی علامت تھا، اور طاقتور کمزور کو کچل دینا اپنی برتری ثابت کرنے کا ذریعہ سمجھتا تھا۔

حرمِ کعبہ تو تھا، لیکن توحید کا نور کہیں گم ہو چکا تھا۔ بتوں کے مجسمے ہر گوشے میں سجے تھے، جنہیں لوگ خود بناتے، خود بیچتے، اور خود ہی پوجتے تھے۔
زن و مرد کے تعلقات میں کوئی حدود نہ تھیں،
بیٹیوں کو زندہ دفن کر دینا غیرت سمجھا جاتا تھا،
یتیموں کا مال کھانا معمول تھا، سود خوری عام تھی،
شراب ہر محفل کا حصہ تھی، اور انصاف صرف ان کے لیے تھا، جو طاقتور تھے۔

2۔ خانہ کعبہ: توحید کا مرکز یا شرک کا گھر؟

خانہ کعبہ، جو حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ نے اللہ کی عبادت کے لیے بنایا تھا، اب 360 بتوں کا گھر بن چکا تھا۔ ہر قبیلہ اپنا الگ بت رکھتا، اور انہی سے مدد مانگتا تھا۔ حرم کی حرمت کا لحاظ تھا، مگر اصل مقصد کھو چکا تھا۔
قریش مکہ کے سب سے بااثر قبیلہ تھے، اور ان کے سردار عبدالمطلب خانہ کعبہ کے متولی تھے۔ وہ ایک مختلف مزاج کے شخص تھے، جن کے دل میں توحید کی روشنی کی جھلک باقی تھی۔

3۔ اصحابِ فیل کا واقعہ: اللہ کی قدرت کا مظاہرہ

یہ وہ واقعہ تھا، جو نبی اکرم ﷺ کی پیدائش سے کچھ ہی عرصہ قبل پیش آیا۔ یمن کے حاکم ابرہہ نے دیکھا کہ عرب کے لوگ ہر سال خانہ کعبہ کی زیارت کے لیے جاتے ہیں۔ اس نے چاہا کہ مکہ کی جگہ یمن کو زیارت کا مرکز بنا دیا جائے، چنانچہ اس نے ایک شاندار کلیسا بنایا، مگر اس کی کوشش ناکام رہی۔
جب عربوں نے اس کی توہین کی، تو ابرہہ غصے میں آ گیا اور ایک زبردست لشکر لے کر مکہ پر چڑھائی کر دی۔ اس کے پاس ہاتھیوں کی فوج تھی، اور وہ سمجھتا تھا کہ خانہ کعبہ کو تباہ کرنا اب اس کے لیے آسان ہے۔

مگر پھر اللہ کی قدرت نے اپنا کرشمہ دکھایا
جیسے ہی وہ آگے بڑھا، آسمان پر ایک عجیب منظر نمودار ہوا۔

ننھے پرندوں کے جھنڈ آئے، ان کی چونچوں میں چھوٹے چھوٹے کنکر تھے، جو جب گرتے، تو پہاڑ جیسے لشکر کو چیر کر رکھ دیتے! یہ تھا اللہ کا غضب، یہ تھا اللہ کا فیصلہ، سور یوں خانہ کعبہ کی حفاظت اللہ نے خود فرمائی۔

یہ واقعہ عرب میں ایک بڑی تبدیلی کی خبر دے گیا،
جیسے کہ کوئی آنے والا تھا،
جو اس گھر کی اصل حقیقت کو بحال کرے گا!

4۔ حضرت محمد ﷺ کی بعثت: نور کا ظہور

اسی سال، جب قریش "عام الفیل” کے حیرت انگیز واقعے کو یاد کر رہے تھے، اسی سال، جب مکہ کی فضاوں میں ایک خاموشی چھائی ہوئی تھی، اسی سال، جب زمین کسی عظیم خبر کی منتظر تھی، اسی سال، ربیع الاول کی 12 تاریخ کو، ایک ایسا بچہ کی بعثت ہوئی، جس کی آمد کائنات کے مقدر بدلنے والی تھی!
یہ بچہ کسی عام گھر میں نہیں،
بلکہ قریش کے معزز خاندان بنی ہاشم میں معبوث ہوا۔
مگر قسمت نے عجب رنگ دکھایا… جب یہ بچہ دنیا میں آیا، اس کے والد حضرت عبداللہ کا انتقال ہو چکا تھا۔
یہ بچہ یتیم تھا، مگر تنہا نہیں تھا، کیونکہ ربِ کائنات نے خود اس کی پرورش کا وعدہ کیا تھا۔
یہ بچہ آمنہ کا لال تھا، یہ بچہ عبدالمطلب کا چاند تھا،
یہ ننھے محمد بن عبداللہ ﷺ تھے، جنہیں بعد میں دنیا "رحمت للعالمین” کے نام سے پہچاننے والی تھی!

5۔ سرکارِ دو عالم حضرت محمد ﷺ کا بچپن:

یوں تو بچپن معصومیت کی علامت ہوتا ہے، مگر نبی اکرم ﷺ کا بچپن صبر کی آزمائشوں میں گزرا۔
سب سے پہلے، چھ سال کی عمر میں، والدہ آمنہ کا سایہ بھی اٹھ گیا، اور بچپن ہی میں آپ یتیمی کے کرب سے دوچار ہو گئے۔
پھر دادا عبدالمطلب کی شفقت بھی دو سال بعد چھن گئی،اور اب چچا ابو طالب کی آغوش میں پرورش ہونے لگی۔ یہ آزمائشیں شاید عام آنکھ کو ایک یتیم کی بے بسی لگیں، مگر حقیقت میں یہ اللہ کی خاص تربیت تھی، جو بچپن ہی سے آپ ﷺ کو ایک دن نبوت کے بوجھ کے لیے تیار کر رہی تھی!

6۔ نبی اکرم ﷺ کی جوانی: صداقت اور امانت کا نشان

جیسے جیسے نبی اکرم ﷺ جوان ہوئے، ویسے ویسے مکہ کے لوگ ان کی سچائی اور کردار کے گرویدہ ہوتے گئے۔
دیانت ایسی کہ کوئی کبھی انگلی نہ اٹھا سکا!
امانت ایسی کہ دشمن بھی مال رکھواتے!
صداقت ایسی کہ ہر زبان پر ایک ہی لقب تھا:
"
الصادق، الامین!”
یہ وہ خوبیاں تھیں، جن کی اس معاشرے میں شدید کمی تھی۔ نبی اکرم ﷺ نے کبھی جھوٹ نہ بولا،
کبھی کسی پر ظلم نہ کیا، کبھی کسی سے بدتمیزی نہ کی، اور کبھی کسی کا دل نہ توڑا۔
یہی وہ بلند اخلاق تھے، جن کی روشنی میں لوگ آہستہ آہستہ آپ کے گرویدہ ہونے لگے، مگر ابھی وقت نہیں آیا تھا، ابھی کائنات کو ایک اور جھٹکا درکار تھا!

7۔ حلف الفضول: مظلوموں کے لیے پہلا انقلاب

یہ اس وقت کی بات ہے جب نبی اکرم ﷺ کی عمر 20 سال تھی۔ مکہ میں ظلم بڑھ چکا تھا، کمزوروں کی آواز دبائی جا رہی تھی، اور طاقتور اپنے ظلم کو اپنا حق سمجھتے تھے۔ ایسے میں، کچھ غیرت مند نوجوانوں نے مل کر ایک معاہدہ کیا، جسے تاریخ "حلف الفضول” کے نام سے جانتی ہے۔ یہ معاہدہ تھا، کہ ہم کسی پر ظلم نہیں ہونے دیں گے، ہم کمزور کا ساتھ دیں گے، ہم ہر مظلوم کے حق میں کھڑے ہوں گے۔
اور، کیا آپ جانتے ہیں؟
اس معاہدے میں نبی اکرم ﷺ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا!
بعد میں جب آپ ﷺ نبی بنے، تو فرمایا:
"
اگر آج بھی مجھے اس معاہدے میں شامل ہونے کے لیے بلایا جائے، تو میں ضرور شامل ہوں گا!”

یہ وہ لمحہ تھا، جب ایک پیغام دیا جا چکا تھا، کہ دنیا اب بدلنے والی ہے!

8۔ غارِ حرا: تنہائی میں وحی کے انتظار میں

نبی اکرم ﷺ کا دل دنیا کی رنگینیوں سے اکتا چکا تھا۔
مکہ کی گلیوں میں بتوں کی پوجا، ظلم، بے انصافی، یہ سب دیکھ کر آپ کا دل گھبرانے لگا۔ اور پھر آپ ﷺ نے ایک پہاڑ کا رخ کیا… یہ جبلِ نور تھا، جہاں ایک غار تھا،
جسے غارِ حرا کہا جاتا ہے۔ یہاں، خاموشی میں، راتوں کو عبادت کرتے، آسمان کو تکا کرتے، اور ایک عظیم حقیقت کے منتظر رہتے… اور پھر… ایک دن، جب یہ انتظار ختم ہوا، جب جبرائیلؑ نازل ہوئے، جب وحی کا پہلا قطرہ زمین پر گرا، تو یہی وہ لمحہ تھا، جب ظلم کی رات ختم ہوئی، اور ہدایت کی صبح طلوع ہوئی!

9۔ پہلی وحی:

رمضان کی ایک تنہا رات… جب مکہ سو رہا تھا، جب پہاڑ خاموش کھڑے تھے، جب ہوا میں سنّاٹا تھا، تب غارِ حرا میں ایک ایسی آواز گونجی، جس نے نہ صرف حضرت محمد بن عبداللہ ﷺ کی زندگی بدل دی، بلکہ پوری انسانیت کی تقدیر بدل کر رکھ دی!

"اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ"
(
پڑھیے! اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔)یہ جبرائیلؑ تھے، اللہ کے خاص فرشتے، جو آسمان سے یہ پیغام لے کر آئے تھے۔ آپ ﷺ کا جسم لرزنے لگا،
آپ ﷺ گھر پہنچے اور حضرت خدیجہؓ سے کہا:
"
زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي"
(
مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اوڑھا دو!)

یہ لمحہ، یہ وحی، یہ چند الفاظ، دنیا کی سب سے بڑی تبدیلی کا آغاز تھے!

10۔ ام المومنین حضرت خدیجہؓ کی تسلی:

جب نبی اکرم ﷺ بے چینی کے ساتھ گھر پہنچے، تو آپ ﷺ کی زوجہ حضرت خدیجہؓ نے آپ ﷺ کو تسلی دی۔
ان کے الفاظ رہتی دنیا تک ایک مثال بن گئے:
"
اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا!”
"
آپ یتیموں کا خیال رکھتے ہیں، سچ بولتے ہیں، کمزوروں کے مددگار ہیں، مظلوموں کے حق میں کھڑے ہوتے ہیں!”

یہ حضرت خدیجہؓ تھیں، جو نبی اکرم ﷺ کی سب سے پہلی اور سب سے بڑی حمایتی بنیں۔ وہ پہلا سہارا،
جو اس عظیم مشن کے آغاز میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا!

11۔ ابتدائی دعوت: خاموش انقلاب

پہلے تین سال، دعوت خاموشی سے دی گئی۔ پہلے حضرت خدیجہؓ ایمان لائیں، پھر حضرت علیؓ، پھر حضرت زید بن حارثہؓ، پھر حضرت ابوبکر صدیقؓ۔
یہ وہ ہستیاں تھیں، جو اسلام کے پہلے ستارے بنیں،
اور جنہوں نے تاریخ کا دھارا بدل دیا۔

12۔ اعلانیہ دعوت: طوفان کا آغاز
پھر حکم آیا،
"
وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ"
(
اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو خبردار کرو!)

اور یوں،صفا کی پہاڑی پر وہ لمحہ آیا،
جب نبی اکرم ﷺ نے پوری قوم کے سامنے اعلان کر دیا:

"لوگو! اگر میں کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے دشمن کی فوج ہے، تو کیا مانو گے؟"
سب نے کہا:
"
ہاں! کیونکہ تم ہمیشہ سچ بولتے ہو!”

پھر آپ ﷺ نے فرمایا:
"
پھر سنو! اللہ ایک ہے، اور میں اس کا رسول ہوں!”

یہ اعلان تھا، یہ دعوت تھی، یہ ایک ایسی سچائی تھی،
جس نے پورے مکہ میں ہلچل مچا دی!

13۔ قریش کی دشمنی: ظلم کی ابتدا

جب نبی اکرم ﷺ نے کھلم کھلا اسلام کی دعوت دی،
تو قریش کو یہ برداشت نہ ہوا۔ وہ سمجھ گئے کہ اگر یہ پیغام پھیل گیا، تو ان کے خداؤں کا وجود ختم ہو جائے گا، ان کا غرور مٹی میں مل جائے گا، ان کی اجارہ داری ختم ہو جائے گی!

پھر کیا تھا؟
مکہ کی گلیاں مظلوموں کے خون سے رنگین ہونے لگیں!
حضرت بلالؓ کو گرم ریت پر گھسیٹا گیا، حضرت یاسرؓ کو بے دردی سے شہید کر دیا گیا، حضرت سمیہؓ کو برچھی ماردی گئی، حضرت خبابؓ کی پیٹھ پر انگارے رکھے گئے! یہ ظلم و ستم دن بدن بڑھتا رہا، لیکن ایمان والے نہ جھکے، نہ رکے!

14۔ ہجرتِ حبشہ:

جب ظلم حد سے بڑھ گیا، تو نبی اکرم ﷺ نے صحابہؓ کو حکم دیا کہ وہ حبشہ (موجودہ ایتھوپیا) کی طرف ہجرت کر جائیں۔ وہاں ایک عادل بادشاہ نجاشی تھا،
جس نے مسلمانوں کو پناہ دی۔ قریش نے انہیں واپس بلانے کی کوشش کی، مگر حضرت جعفر طیارؓ کی زبردست تقریر کے بعد، نجاشی نے کہا:
"
یہ لوگ مجھ سے ایک تنکے کے برابر بھی جدا نہ کیے جائیں گے!”
یہ پہلا موقع تھا، جب اسلام کو کسی غیر مسلم بادشاہ کی حمایت ملی۔

15۔ شعبِ ابی طالب: تین سال کا محاصرہ

جب قریش نے دیکھا کہ ظلم کے باوجود اسلام بڑھ رہا ہے، تو انہوں نے بنی ہاشم کا مکمل بائیکاٹ کر دیا۔
یہ تین سال کا سخت ترین وقت تھا، جب نبی اکرم ﷺ اور آپ کے ساتھی شعبِ ابی طالب میں قید کر دیے گئے۔
کھانے کو کچھ نہ تھا، بچے بھوک سے بلکتے، بوڑھے کمزور ہو چکے تھے، لیکن صبر اپنی انتہا پر تھا!
یہاں تک کہ اللہ نے مدد فرمائی اور بائیکاٹ ختم ہوا۔

16۔ غم کا سال

یہ آزمائش ختم ہوئی، مگر اس کے بعد ایک اور صدمہ آیا: پہلے حضرت خدیجہؓ دنیا سے رخصت ہوئیں، پھر ابو طالب بھی چل بسے۔ یہ وہ وقت تھا، جب نبی اکرم ﷺ بالکل تنہا رہ گئے۔ یہ سال عام الحزن (غم کا سال) کہلایا۔

17۔ طائف کا سفر:

جب مکہ والوں نے اسلام کی دعوت سننے سے انکار کر دیا، تو نبی اکرم ﷺ نے طائف کا سفر کیا، شاید وہاں لوگ حق کو پہچان لیں۔ مگر وہاں کے لوگوں نے بدترین سلوک کیا اوباشوں کو پیچھے لگا دیا، اور نبی اکرم ﷺ کو لہولہان کر دیا! یہ وہ لمحہ تھا، جب اگر نبی اکرم ﷺ چاہتے، تو اللہ ایک لمحے میں ان لوگوں کو تباہ کر دیتا!
مگر آپ ﷺ نے دعا کی:
"
اے اللہ! اگر تُو مجھ سے راضی ہے، تو مجھے کسی چیز کی پرواہ نہیں!”
یہ تھا رحمت للعالمین کا صبر!

18۔ معراج کی رات: آسمانوں کی سیر

پھر اللہ نے اپنے محبوب کو تسلی دی، اور اسراء و معراج کا معجزہ عطا فرمایا! ایک رات، نبی اکرم ﷺ کو مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ لے جایا گیا، پھر وہاں سے آسمانوں کی سیر کرائی گئی، اور اللہ سے ہمکلام ہونے کا شرف ملا! یہ وہ رات تھی، جب پانچ وقت کی نماز کا تحفہ دیا گیا، جب نبی اکرم ﷺ کی نبوت کی تصدیق خود اللہ نے فرمائی!

19۔ ہجرتِ مدینہ: اسلام کی نئی صبح

پھر بیعتِ عقبہ ہوئی، مدینہ والوں نے اسلام قبول کیا،
اور یوں ہجرت کا حکم آگیا! حضرت ابوبکرؓ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ غارِ ثور میں چھپے، دشمن تلواریں لے کر پیچھا کرتے رہے، مگر اللہ کی مدد ساتھ تھی، اور یوں، مدینہ کی زمین اسلام کا نیا مرکز بن گئی!
یہ ہجرت، یہ قربانی، یہی وہ بنیاد تھی، جو فتحِ مکہ کی طرف بڑھنے والی تھی!

20۔ مدینہ میں اسلامی ریاست کا قیام:

مدینہ کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی گویا ایک نئی دنیا نے آنکھ کھولی تھی۔ مہاجرین، جن کے چہروں پر ہجرت کی تھکن رقم تھی، جن کی آنکھوں میں بیتے دنوں کی اداسیاں تیر رہی تھیں، آج ایک ایسی جگہ پہنچ چکے تھے جہاں نہ تو دارِ ارقم کے بند دروازے تھے، نہ شعبِ ابی طالب کی گھٹن، نہ قریش کے ظلم و ستم کی زنجیریں۔ یہ زمین ان کے لیے اجنبی نہ تھی، بلکہ ایک نئی امید کا استعارہ تھی۔

یہاں کوئی سوال نہیں تھا، کوئی اجنبیت نہیں تھی۔ مدینہ کے باسی اپنے گھروں کے دروازے کھول کر کھڑے تھے، جیسے کوئی مدتوں کے بچھڑے ہوئے عزیزوں کو گلے لگانے کے لیے بے تاب ہو۔ انصار، جن کے دل اخلاص کے آبگینوں سے بھرے تھے، مہاجرین کو دیکھ کر یوں لپک رہے تھے جیسے وہ برسوں سے انہیں اپنے گھروں میں بسانے کے لیے منتظر تھے۔

کوئی اپنے کھیت تقسیم کر رہا تھا، کوئی اپنے گھر کا نصف حصہ پیش کر رہا تھا، کوئی اپنی جیب الٹ کر کہہ رہا تھا کہ جو کچھ بھی ہے، وہ تمہارا ہے۔ مدینہ کی ہواؤں میں ایک عجیب سی خوشبو بسی تھی، جیسے کوئی مقدس مہک جو صدیوں سے محفوظ چلی آ رہی ہو۔ یہ دلوں کے کھلنے کی خوشبو تھی، یہ اخوت کی خوشبو تھی، یہ اس روشنی کی خوشبو تھی جسے دنیا نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

21. مسجد نبوی: ایک انقلاب کی بنیاد

جس زمین پر ابھی تک کھجور کے درختوں کی چھاؤں تھی، وہاں اب اللہ کا گھر بننے جا رہا تھا۔ مٹی کی اینٹیں اٹھتی جا رہی تھیں، پسینے میں شرابور چہرے اللہ کی رضا میں چمک رہے تھے۔ نبی اکرم ﷺ خود اپنے ہاتھوں سے اینٹیں اٹھا رہے تھے، جیسے وہ صرف دیواریں نہیں، ایک خواب کی تکمیل کر رہے ہوں۔
یہ صرف ایک مسجد نہ تھی، یہ ایک تحریک کا مرکز تھی۔ یہاں فیصلے سنائے جانے تھے، یہاں مساوات کی بنیاد رکھی جانی تھی، یہاں غلام اور سردار ایک ہی صف میں کھڑے ہونے والے تھے۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں راتوں کو سسکیاں گونجتی تھیں، جہاں دن کی روشنی میں اللہ کے دین کا نور چمکنے والا تھا۔

یہی وہ مسجد تھی جہاں سرگوشیاں انقلاب میں بدلنے والی تھیں، جہاں دعا کے الفاظ تاریخ کی تحریر میں ڈھلنے والے تھے، جہاں سادگی تخت و تاج کو مات دینے والی تھی۔لیکن یہ روشنی قریش کی آنکھوں میں چبھ رہی تھی۔ وہ جو سمجھے بیٹھے تھے کہ اسلام مکہ کی گلیوں میں دب کر رہ جائے گا، وہ حیران تھے کہ یہ آگ مدینہ تک کیسے پہنچ گئی؟ جو خواب انہوں نے کچلنے کی کوشش کی تھی، وہ کیسے ایک حقیقت میں ڈھل گیا؟

مکہ میں وہ جنہیں کمزور سمجھ رہے تھے، وہ یہاں آ کر طاقتور کیسے ہو گئے؟ جنہیں بے یار و مددگار سمجھ کر چھوڑا تھا، وہ یہاں آ کر عزتوں کے تاج کیسے پہن چکے؟

یہی وہ لمحہ تھا جب جنگ کی آندھی مدینہ کی طرف بڑھنے لگی۔ بدر کا میدان تیار ہو چکا تھا، احد کے دامن میں تلواریں ٹکرانے کو بے تاب تھیں، خندق کھودی جانے لگی تھی، خیبر کے قلعے سرنگوں ہونے والے تھے۔
یہ سب مدینہ میں اسلامی ریاست کے قیام کا ہی تسلسل تھا۔ یہ ایک منزل کی ابتدا تھی، ایک ایسی راہ جس کا آخری موڑ فتح مکہ پر ختم ہونا تھا، جہاں تاریخ ایک نیا ورق پلٹنے والی تھی۔
مدینہ میں اگر ایک نئی صبح طلوع ہوئی تھی، تو وہ اس لیے کہ مکہ کی راتیں ظلم سے بھر چکی تھیں۔ اور وہ صبح جس کی بنیاد یہاں رکھی جا رہی تھی، وہ ایک دن مکہ کے در و دیوار پر چمکنے والی تھی۔
مگر کیا قریش یہ سب برداشت کر سکتے تھے؟
نہیں!
اب قریش کے پاس ایک ہی راستہ تھا… تلوار اٹھانے کا راستہ! اور یوں، ایک نئے دور کا آغاز ہوا: جہاد اور قربانی کا دور!

22۔ بدر کی جنگ: حق اور باطل کا پہلا معرکہ

مدینہ میں اسلامی ریاست کی بنیاد تو رکھی جا چکی تھی، مگر یہ بنیاد ابھی آزمائشوں کی بھٹی سے گزرنی تھی۔ قریش یہ کیسے برداشت کر سکتے تھے کہ جنہیں وہ مٹانے کے درپے تھے، وہ ایک آزاد ریاست قائم کر چکے ہیں؟ ان کا غرور، ان کی انا، ان کی برسوں پرانی برتری— سب کچھ خاک میں ملنے لگا تھا۔ وہ مدینہ کے خلاف سازشوں میں مصروف ہو چکے تھے، اور آخرکار وہ وقت آن پہنچا جب نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثاروں کو اپنے ایمان کی پہلی بڑی آزمائش کا سامنا کرنا پڑا۔

مدینہ کی ہوائیں ان دنوں بے چین تھیں۔ اطلاعات مل رہی تھیں کہ قریش کا ایک بڑا قافلہ، جو مال و اسباب سے بھرا ہوا تھا، شام سے مکہ واپس لوٹ رہا ہے۔ یہ وہی دولت تھی جو مکہ کے مسلمانوں سے چھینی گئی تھی، ان کے گھروں کو تاراج کرکے، ان کے کاروبار پر قبضہ جما کر جمع کی گئی تھی۔ یہ دولت اسلام کے خلاف جنگ میں استعمال ہونی تھی۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ سے مشورہ کیا، اور فیصلہ ہوا کہ اس قافلے کا راستہ روکا جائے۔ لیکن قریش نے اس خبر کو پا لیا اور ابوسفیان، جو قافلے کی قیادت کر رہا تھا، فوراً مکہ کو مدد کے لیے پکار چکا تھا۔

مکہ میں طبلِ جنگ بج چکا تھا۔ سردارانِ قریش، جو ہمیشہ اپنے جاہ و جلال کے نشے میں سرشار رہتے تھے، اس خبر پر بپھر اٹھے۔ ان کے لیے یہ صرف ایک قافلے کا معاملہ نہ تھا، یہ ان کی طاقت، ان کے غرور، اور ان کے نام نہاد اقتدار کا سوال تھا۔ پورے مکہ میں جنگی جوش پھیل گیا، اور ایک ہزار کا لشکر پوری شان و شوکت کے ساتھ مدینہ کی جانب بڑھنے لگا۔

23۔ بدر: ایمان اور کفر کا ٹکراؤ

ادھر مدینہ میں، حالات مختلف تھے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی مٹھی بھر جماعت کو جمع کیا۔ وہ 313 جاں نثار تھے، کچھ کے پاس تلواریں تھیں، کچھ کے پاس نیزے، اور کئی کے پاس تو صرف یقین کا ہتھیار تھا۔ یہ کوئی تجربہ کار فوج نہ تھی، یہ وہ لوگ تھے جو کل تک مکہ میں ستائے جاتے تھے، جو کبھی غلام تھے، جو کبھی بھوک اور پیاس سے نڈھال رہے، مگر آج وہ اللہ کی راہ میں نکل چکے تھے، اپنے ایمان کا حق ادا کرنے کے لیے۔

بدر کے میدان میں دونوں لشکر آمنے سامنے تھے۔ ایک طرف دنیاوی طاقت تھی، ساز و سامان سے لیس، غرور میں ڈوبا ہوا لشکر، اور دوسری طرف ایمان کی روشنی میں نہائے ہوئے وہ مجاہد، جن کی تعداد کم تھی، مگر ان کے دل اللہ کی مدد پر یقین سے لبریز تھے۔

جنگ سے پہلے، نبی اکرم ﷺ نے ہاتھ بلند کیے، وہ دعا جس نے زمین و آسمان کو ہلا دیا:
"اے اللہ! اگر آج یہ مٹھی بھر جماعت ختم ہو گئی، تو روئے زمین پر تیرا نام لینے والا کوئی نہ رہے گا۔”
یہ فریاد، یہ آہ، یہ التجا… آسمانوں تک پہنچی، اور قدرت کی نصرت اتر آئی۔

اللہ کی مدد کا نزول:

جنگ شروع ہوئی تو کفار کا لشکر اپنی عددی برتری کے نشے میں چور تھا، مگر ایمان کی قوت نے ان کے قدم اکھاڑ دیے۔ اچانک آسمان سے ایسی ہوائیں چلنے لگیں جیسے کچھ غیر مرئی طاقت حرکت میں آ گئی ہو۔ مشرکین حیران ہو کر دیکھ رہے تھے کہ ان کے بہترین جنگجو بے بسی سے گر رہے ہیں، ان کی صفیں منتشر ہو رہی ہیں، ان کی تلواریں کچھ نظر نہ آنے والے ہاتھوں سے کٹ رہی ہیں۔
اللہ کی مدد آ چکی تھی! فرشتے آسمان سے اتر چکے تھے! وہ سفید لباس میں لپٹے، بجلی کی کوند کی طرح دشمنوں پر ٹوٹ پڑے۔

یہ جنگ عام جنگوں جیسی نہ تھی۔ قریش کے بڑے بڑے سردار خاک میں مل چکے تھے۔ ابو جہل، جو ہمیشہ اسلام کو مٹانے کے خواب دیکھتا تھا، آج خود خاک و خون میں تڑپ رہا تھا۔ اُمیہ بن خلف، جو نبی کریم ﷺ کے صحابہ پر ظلم کے پہاڑ توڑ چکا تھا، آج خود بے بسی کی تصویر بنا کھڑا تھا۔ مشرکین کے قدم اکھڑ چکے تھے، اور وہ میدان چھوڑ کر بھاگ رہے تھے۔

یہ وہ دن تھا جب دنیا نے دیکھ لیا کہ طاقت صرف تعداد اور ہتھیاروں سے نہیں ہوتی، بلکہ سچا ایمان ہی اصل طاقت ہے۔ یہ فتح صرف ایک جنگ کی جیت نہ تھی، یہ ایک نئے دور کی شروعات تھی۔ یہ پہلا قدم تھا، جو بالآخر فتح مکہ پر جا کر ٹھہرنے والا تھا۔

مدینہ کی ہواؤں میں اب ایک نیا رنگ تھا۔ مسلمانوں کے حوصلے بلند ہو چکے تھے، ایمان مزید پختہ ہو چکا تھا، اور قریش کو پہلی بار احساس ہو چکا تھا کہ یہ تحریک اب رکنے والی نہیں، یہ قافلہ اب تھمنے والا نہیں۔
یہ فتح،یہ نصرت،یہ جنگ…یہ پہلا قدم تھا، فتحِ مکہ کی طرف!
بدر کا سورج غروب ہو چکا تھا، مگر اسلام کی روشنی ہمیشہ کے لیے چمک اٹھی تھی۔ یہ پہلا معرکہ تھا، مگر آخری نہ تھا— آگے ابھی اور امتحان باقی تھے، احد کی گھاٹی میں آزمائشیں منتظر تھیں، خندق کے محاصرے کی سختیاں آنی تھیں، اور آخرکار مکہ کے در و دیوار کو گواہی دینی تھی کہ وہ جسے مٹانے چلے تھے، وہی ان کے دلوں پر راج کرے گا۔

24۔ احد کی جنگ: آزمائش کا لمحہ

بدر کی گونج ابھی تھمی نہ تھی۔ مدینہ کی گلیوں میں وہ دعائیں آج بھی گونج رہی تھیں، جو بدر کے میدان میں مانگی گئی تھیں۔ مگر مکہ… مکہ کی گلیاں ایک اور ہی کہانی سنا رہی تھیں۔ وہاں کے گھر ماتم سے بھرے پڑے تھے، ہر خاندان کے کسی نہ کسی فرد کی لاش بدر کے ریگزار میں چھوڑ آئی تھی۔ قریش کے وہی سردار، جو کل تک مسلمانوں کو کمزور سمجھ کر ان کا مذاق اڑاتے تھے، آج اپنے زخمی غرور کو سہلانے میں مصروف تھے۔ مکہ کی فضائیں انتقام کی آگ میں جل رہی تھیں، اور اس آگ کی لپٹیں مدینہ تک پہنچنے والی تھیں۔

ابوسفیان، جو بدر کی شکست کے بعد زخم چاٹ رہا تھا، اب ایک نئے معرکے کے لیے تیاری کر چکا تھا۔ قریش نے اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لیے ایک نیا لشکر تیار کیا— تین ہزار جنگجو، بہترین ہتھیار، گھوڑوں اور اونٹوں کی فوج، اور سب سے بڑھ کر، سینوں میں جلتی ہوئی وہ نفرت جو صرف مسلمانوں کے خون سے بجھ سکتی تھی۔

مدینہ میں خبر پہنچ چکی تھی کہ قریش ایک بڑے لشکر کے ساتھ حملہ آور ہونے والا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے جاں نثاروں کو جمع کیا، اور مشورہ طلب کیا۔ کچھ نے کہا کہ ہمیں مدینہ میں رہ کر دفاع کرنا چاہیے، مگر نوجوان صحابہ کا جوش کچھ اور ہی تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ جنگ کھلے میدان میں ہو، جہاں وہ اپنی تلواروں سے اسلام کے دشمنوں کو سبق سکھا سکیں۔ نبی کریم ﷺ نے ان کے جذبے کو دیکھتے ہوئے جنگ کے لیے نکلنے کا فیصلہ کیا، اور احد کے دامن میں صف بندی کی گئی۔

احد کا میدان… یہ وہ جگہ تھی جہاں ایک بار پھر ایمان اور کفر کا ٹکراؤ ہونے والا تھا۔ مسلمان صرف سات سو تھے، جب کہ قریش تین ہزار کی تعداد میں، پوری تیاری کے ساتھ حملہ آور ہونے آئے تھے۔ مگر مسلمانوں کے دلوں میں جوش تھا، بدر کی یادیں ابھی تازہ تھیں، اللہ کی مدد پر یقین پختہ تھا۔
جنگ کا آغاز ہوا، اور مسلمانوں نے شجاعت کی ایسی مثالیں قائم کیں کہ مشرکین کے قدم اکھڑنے لگے۔ حضرت علیؓ، حضرت زبیرؓ، حضرت طلحہؓ اور دیگر جری مجاہدوں کی تلواریں چمک رہی تھیں۔ مکہ کے بڑے بڑے سردار ایک ایک کر کے زمین پر گرنے لگے۔

ابوسفیان کی فوج پسپا ہو رہی تھی، کفار کی صفیں ٹوٹ چکی تھیں، جنگ تقریباً جیت لی گئی تھی!
احد کے ایک جانب ایک چھوٹی سی پہاڑی تھی، جہاں نبی کریم ﷺ نے پچاس تیر اندازوں کو مقرر کیا تھا، اور انہیں سختی سے ہدایت کی تھی: "چاہے کچھ بھی ہو، تم اپنی جگہ نہ چھوڑنا، چاہے ہمیں فتح مل جائے یا ہم شکست کھا جائیں!”

مگر جیسے ہی مشرکین بھاگنے لگے، مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ کچھ تیر اندازوں نے سمجھا کہ جنگ ختم ہو چکی، اور وہ مالِ غنیمت اکٹھا کرنے کے لیے اپنی جگہ چھوڑ کر نیچے اتر آئے۔
یہ وہ لمحہ تھا جس کا کفار کو انتظار تھا!

خالد بن ولید، جو اس وقت تک اسلام نہیں لائے تھے، قریش کی فوج کے ایک دستے کے ساتھ پیچھے گھات لگائے بیٹھے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ پہاڑی اب خالی ہو چکی ہے، اور وہ فوراً پیچھے سے حملہ آور ہو گئے!
وہ لشکر جو ابھی جیت کی خوشی منا رہا تھا، اچانک چاروں طرف سے گھیر لیا گیا۔ مشرکین نے پلٹ کر وار کیا، اور مسلمانوں کی صفیں بکھرنے لگیں۔ حضرت حمزہؓ، جو شیر کی طرح دشمنوں پر ٹوٹ پڑ رہے تھے، ایک غلام وحشی کے نیزے کا نشانہ بنے۔ وہ زمیں پر گرے، ان کی روح پرواز کر گئی، مگر جنگ جاری رہی۔
ہندہ، جو بدر میں اپنے عزیزوں کی ہلاکت کے بعد انتقام کی آگ میں جل رہی تھی، حضرت حمزہؓ کا کلیجہ چبانے پر آمادہ ہو گئی۔ اس نے وہ ظلم کیا جسے تاریخ آج بھی کانپ کر یاد کرتی ہے!

اس معرکہ میں نبی کریم ﷺ کے دندانِ مبارک شہید ہوئے، جب آپ کے چہرۂ انور سے خون بہنے لگا، جب مشرکین نے خوشی کے قہقہے لگائے، جب شیطان نے اعلان کر دیا کہ "محمدؐ قتل کر دیے گئے!”
مسلمانوں پر ایک لمحے کے لیے قیامت گزر گئی۔

یہ وہ دن تھا، جب ایمان کا امتحان ہوا۔ کچھ لوگ گھبرا گئے، کچھ مایوس ہو گئے، مگر سچے مجاہد وہی رہے جو آخری سانس تک ڈٹے رہے۔ حضرت علیؓ، حضرت طلحہؓ، حضرت زبیرؓ، حضرت ابو دجانہؓ اور دیگر بہادروں نے نبی کریم ﷺ کے گرد دیوار بنائی، اور آپ کو مشرکین کے حملوں سے بچاتے رہے۔

یہ شکست نہیں تھی، یہ آزمائش تھی! یہ درس تھا، کہ اللہ کی مدد ہمیشہ اسی کے ساتھ ہوتی ہے جو اس کے حکم پر عمل کرے۔ یہ سبق تھا، کہ حکم عدولی کبھی بھی نقصان کے بغیر نہیں رہتی۔
احد کے پتھر آج بھی گواہ ہیں، اس خون کے جو اللہ کی راہ میں بہایا گیا۔ احد کی ہوائیں آج بھی گواہ ہیں، اس عزم کے جو مسلمانوں نے آزمائش کے بعد سیکھا۔ یہ وہ معرکہ تھا، جس نے مسلمانوں کو بتا دیا کہ فتح ہمیشہ جنگی چالوں سے نہیں، بلکہ اللہ کے احکامات پر چلنے سے حاصل ہوتی ہے۔
احد کا سورج غروب ہو چکا تھا، مگر مسلمانوں کے حوصلے ماند نہ پڑے۔ وہ جان چکے تھے کہ ابھی آگے مزید امتحانات باقی ہیں، ابھی خندق کا معرکہ لڑنا ہے، ابھی مکہ کی وادیوں میں داخل ہونا ہے، اور وہ دن آنا ہے جب یہی قریش، جو آج جشن منا رہے ہیں، کل اپنے سروں کو جھکائے کھڑے ہوں گے، جب ان کے دلوں میں اسلام کی روشنی داخل ہو گی، جب کعبہ کی فضائیں "لا الہ الا اللہ” کے نغمے سے گونج اٹھیں گی!!

25۔ خندق کی جنگ:

احد کی جنگ کے زخم مدینہ کی سرزمین پر ابھی تازہ تھے۔ مائیں اپنے بیٹوں کو یاد کر کے آنسو بہا رہی تھیں، بہنیں اپنے بھائیوں کی راہ تک رہی تھیں، اور نبی کریم ﷺ کے جاں نثار، جنہوں نے احد میں اپنی جانیں لٹا دی تھیں، وہ مدینہ کی تاریخ کا ایسا باب بن چکے تھے، جسے وقت کبھی مٹا نہ سکتا تھا۔ مگر یہ صرف خون سے لکھی گئی ایک داستان نہ تھی، بلکہ ایک درس تھا، ایک پیغام تھا کہ ایمان کا راستہ آسان نہیں، کہ آزمائشیں آئیں گی، کہ قربانیوں کے بغیر حق کی فتح ممکن نہیں۔ قریش کو لگا تھا کہ احد میں مسلمانوں کا حوصلہ ٹوٹ چکا ہوگا، کہ شاید اب وہ مدینہ میں چین سے رہ سکیں گے، مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ ایک نئی شروعات تھی۔

قریش نے احد میں جو کچھ کیا، وہ انہیں کافی نہ لگا۔ ان کے دلوں میں ابھی تک مکہ کی گلیوں میں گونجنے والی وہ صدائیں تازہ تھیں، جو بدر کی فتح کے وقت بلند ہوئی تھیں۔ وہ انتقام کی آگ میں جل رہے تھے۔ مگر اس بار وہ تنہا نہ تھے۔ یہود، منافقین، اور عرب کے کئی قبائل نے ان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ ان کے دلوں میں یہ خیال جاگزیں ہو چکا تھا کہ اب محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں کو مدینہ میں گھیر کر ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے گا۔ چنانچہ دس ہزار کا لشکر مکہ سے نکلا، اور غرور کی چادر اوڑھے مدینہ کی طرف بڑھنے لگا۔

مدینہ میں خبر پہنچی تو خوف کی ایک لہر دوڑ گئی۔ وسائل کی کمی تھی، سپاہیوں کی تعداد محدود تھی، مگر سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ اتنے بڑے لشکر کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ یہی وہ لمحہ تھا جب اللہ کی طرف سے ایک نیا دروازہ کھلا۔ حضرت سلمان فارسیؓ، جو فارس کی جنگی حکمتِ عملی سے واقف تھے، انہوں نے ایک تدبیر پیش کی: "ہم شہر کے گرد ایک خندق کھودیں۔” یہ عرب کے لیے ایک انوکھی جنگی حکمتِ عملی تھی، مگر نبی کریم ﷺ نے اسے پسند فرمایا، اور مدینہ کے گرد خندق کھودنے کا حکم دیا گیا۔

یہ محض ایک جنگی تدبیر نہ تھی، بلکہ ایمان کی آزمائش تھی۔ سخت ٹھنڈ میں، شدید بھوک کے عالم میں، مسلمانوں نے دن رات خندق کھودی۔ نبی کریم ﷺ خود بھی ان کے ساتھ مٹی اٹھاتے، چٹانیں توڑتے، اور ان کا حوصلہ بڑھاتے۔ بعض اوقات جب کوئی سخت چٹان راستہ روک لیتی، تو رسول اللہ ﷺ خود اس پر ضرب لگاتے، اور ہر ضرب کے ساتھ اللہ کی نصرت کی بشارت دیتے۔ خندق کی کھدائی مکمل ہوئی، تو مدینہ کے دروازے پر ایک ایسی دیوار کھڑی ہو چکی تھی، جسے دشمن عبور نہ کر سکتا تھا۔

جب قریش اور ان کے اتحادی مدینہ پہنچے، تو ان کی آنکھوں کے سامنے ایک حیران کن منظر تھا۔ وہ ایک ایسے حربے سے دوچار ہو چکے تھے، جس کا انہیں کوئی توڑ معلوم نہ تھا۔ کئی دن محاصرے میں رہے، کوشش کی کہ کسی طرح خندق پار کر کے مدینہ میں داخل ہو جائیں، مگر ہر بار مسلمان ان کا راستہ روک دیتے۔ راتوں کو مدینہ کے دروازے پر پہرے ہوتے، خندق کے پار سے دشمن کی آوازیں آتیں، اور مدینہ کے باسی صبر کی چادر اوڑھے اپنی آزمائش کے ختم ہونے کا انتظار کرتے۔ بالآخر، اللہ کی مدد آ پہنچی۔ آندھیوں نے کفار کے خیمے اکھاڑ دیے، طوفان نے ان کے سازوسامان کو درہم برہم کر دیا، اور ان کے دلوں میں ایسی گھبراہٹ پیدا ہوئی کہ وہ جنگ کیے بغیر ہی واپس لوٹ گئے۔ مدینہ ایک بار پھر محفوظ ہو گیا۔

یہ وہ لمحہ تھا جب نبی کریم ﷺ نے اعلان فرمایا، "اب قریش ہم پر حملہ نہیں کریں گے، اب ہم ان پر حملہ کریں گے!” یہ اعلان صرف ایک پیش گوئی نہ تھی، بلکہ تاریخ کے ایک نئے باب کا آغاز تھا۔ یہ واضح اشارہ تھا کہ اب مسلمانوں کو دبایا نہیں جا سکتا، کہ اب وہ دن قریب ہے جب حق اپنے جلال کے ساتھ غالب آئے گا۔ مگر فتح ہمیشہ تلوار کے ذریعے حاصل نہیں ہوتی، بعض اوقات صلح کا راستہ بھی وہی دروازہ کھولتا ہے جو جنگ سے حاصل نہیں ہوتا۔ اور یہی دروازہ چند مہینے بعد حدیبیہ کے میدان میں کھلنے والا تھا، جہاں تلواریں نیام میں رہیں گی، اور الفاظ ایک ایسی فتح کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے، جو مکہ کی سرزمین کو ہمیشہ کے لیے شرک کی زنجیروں سے آزاد کر دے گی۔

26۔ صلح حدیبیہ:

مدینہ کی فضا میں خندق کی جنگ کا اثر ابھی باقی تھا۔ مسلمانوں کی ہمت بڑھ چکی تھی، مدینہ پہلے سے زیادہ محفوظ ہو چکا تھا، اور قریش کے غرور کو ایک زخم لگا تھا جسے وہ چاہ کر بھی چھپا نہیں سکتے تھے۔ مگر مدینہ کے باسی جانتے تھے کہ جنگ ہمیشہ آخری حل نہیں ہوتی، کہ بعض اوقات صبر کی تلوار ہی سب سے بڑی فتح کا دروازہ کھولتی ہے۔ اور شاید یہی وہ وقت تھا جب اللہ کے رسول ﷺ کو وہ خواب دکھایا گیا، جو مکہ کے دروازوں پر دستک دے رہا تھا۔

رسول اللہ ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ آپ ﷺ اور آپ کے صحابہؓ احرام باندھے، بیت اللہ کا طواف کر رہے ہیں۔ یہ خواب صرف ایک بشارت نہ تھی، بلکہ ایک حقیقت تھی جو ابھی ظہور پذیر ہونا باقی تھی۔ مدینہ میں یہ خبر پہنچی تو جذبات کا ایک طوفان اٹھا۔ وہ مکہ، جہاں سے انہیں ظلم و ستم سہہ کر نکالا گیا تھا، جہاں ان کے لیے دروازے بند کر دیے گئے تھے، اب وہی مکہ انہیں بلا رہا تھا۔ مسلمانوں کے لیے اس سے بڑی خوشخبری کیا ہو سکتی تھی؟ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے سفر کی تیاری کا حکم دیا۔ یہ کوئی لشکر نہیں تھا، کوئی جنگی مہم نہ تھی، بلکہ محبت اور عبادت کا قافلہ تھا، جو صرف بیت اللہ کی زیارت کے لیے نکلا تھا۔ نہ تلواریں نیام سے باہر آئیں، نہ ہی جنگ کی کوئی تیاری کی گئی، صرف احرام باندھے، قربانی کے جانور لیے، اللہ کے مہمان بن کر یہ قافلہ مدینہ سے روانہ ہو گیا۔

مگر قریش کی دشمنی اب بھی باقی تھی۔ جیسے ہی یہ قافلہ حدیبیہ کے مقام پر پہنچا، قریش کی ضد آڑے آ گئی۔ انہوں نے مسلمانوں کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ جذبات بھڑک اٹھے، صحابہؓ کے دلوں میں بےچینی پیدا ہوئی، لیکن رسول اللہ ﷺ جانتے تھے کہ بعض راستے تلوار سے نہیں، صبر سے کھلتے ہیں۔ چنانچہ سفارت کا سلسلہ شروع ہوا۔ ایک طرف قریش اپنی ضد پر اڑے تھے، اور دوسری طرف مسلمان اپنے ایمان کی روشنی میں مکہ جانے کی تمنا لیے کھڑے تھے۔ حالات میں کشیدگی بڑھتی گئی، یہاں تک کہ حضرت عثمانؓ کو سفارت کے لیے بھیجا گیا، اور جب ان کی شہادت کی افواہ پھیلی، تو صحابہؓ کی غیرت جوش میں آ گئی۔ وہ ہر حال میں لڑنے کے لیے تیار ہو گئے، اور رسول اللہ ﷺ نے درخت کے نیچے بیٹھ کر ان سے بیعت لی۔ یہ وہ عہد تھا جو تاریخ میں "بیعتِ رضوان” کے نام سے ہمیشہ کے لیے رقم ہو گیا۔

مگر اللہ کا فیصلہ کچھ اور تھا۔ تلواریں نیام میں ہی رہیں، اور ایک معاہدہ طے پایا، جو بظاہر مسلمانوں کے لیے ناپسندیدہ تھا۔ اس معاہدے کے تحت اس سال وہ مکہ میں داخل نہ ہو سکتے تھے، اور انہیں اگلے سال واپس آ کر عمرہ ادا کرنے کی اجازت ملی۔ قریش نے معاہدے میں ایسی شرائط شامل کر دیں جو ظاہری طور پر مسلمانوں کے خلاف تھیں، اور بعض صحابہؓ کے دل میں یہ سوال اٹھا کہ کیا ہم پسپا ہو رہے ہیں؟ مگر رسول اللہ ﷺ کی بصیرت وہ دیکھ رہی تھی جو عام آنکھیں دیکھنے سے قاصر تھیں۔

یہ معاہدہ ایک دروازہ تھا، جو فتحِ مکہ کی طرف کھلنے والا تھا۔ قریش نے سوچا کہ انہوں نے مسلمانوں کو روک لیا، مگر وہ یہ نہیں سمجھ سکے کہ یہ روکنا درحقیقت اسلام کو پھیلنے کا موقع دینا تھا۔ اب قریش کے ہاتھوں میں وہ بہانہ بھی نہیں رہا، جو وہ ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف استعمال کرتے آئے تھے۔ اب ان کے قبیلوں کو سمجھ آنے لگا کہ محمد ﷺ اور ان کے ساتھی صرف لڑائی کے خواہشمند نہیں، بلکہ امن کے داعی ہیں۔ یہی وہ لمحہ تھا جب اسلام مدینہ کی سرحدوں سے نکل کر پورے عرب میں پھیلنے لگا۔

حدیبیہ کا معاہدہ بظاہر مسلمانوں کے لیے آزمائش تھا، مگر اس کے بعد جو ہوا، وہ دشمنوں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ کچھ ہی مہینے گزرے تھے کہ خیبر کا دروازہ مسلمانوں کے لیے کھل چکا تھا۔ وہ خیبر، جو ایک مضبوط قلعہ تھا، جہاں یہودی سردار اپنی سازشوں کے جال بُنتے تھے، جہاں سے مدینہ کے خلاف شرارتیں کی جاتی تھیں۔ صلح حدیبیہ نے مسلمانوں کو ایک نیا موقع دیا تھا، اور اب وہ موقع قریب آ چکا تھا جب خیبر کی دیواریں لرزیں گی، اور وہ سرزمین، جو مدتوں سے اسلام دشمنی کی آماجگاہ بنی ہوئی تھی، ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کے زیرِ نگیں آ جائے گی۔

27۔ خیبر کی فتح:

حدیبیہ کی صلح کے بعد ایک گہری خاموشی چھا گئی تھی، مگر یہ خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ تھی۔ مدینہ کی فضا میں ایک عزم گونجنے لگا تھا، ایک یقین جو حدیبیہ کے معاہدے کی مصلحتوں کو سمجھنے کے بعد مزید مضبوط ہو گیا تھا۔ مسلمان اب ایک ایسی قوت بن چکے تھے، جسے نظر انداز کرنا قریش اور یہودیوں کے لیے ممکن نہ رہا تھا۔ اور اب وہ وقت آ چکا تھا، جب خیبر کی سرزمین پر وہ جنگ برپا ہونے والی تھی، جو ہمیشہ کے لیے مدینہ کے دشمنوں کی کمر توڑ دے گی۔

خیبر… ایک ایسا مضبوط قلعہ، جہاں اسلام دشمنی کے منصوبے بنتے، جہاں مدینہ پر حملے کی سازشیں تیار ہوتیں، جہاں یہودی قبائل اپنی جنگی حکمت عملیوں کو نبی اکرم ﷺ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف آزماتے۔ حدیبیہ کی صلح نے قریش کو وقتی طور پر خاموش کر دیا تھا، مگر خیبر اب بھی ایک ایسا کانٹا تھا، جو مدینہ کی سلامتی کے لیے خطرہ بنا ہوا تھا۔ اس کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا تھا۔

رسول اللہ ﷺ نے اپنے جاں نثاروں کے ساتھ خیبر کی طرف کوچ کیا۔ یہ کوئی عام جنگ نہ تھی، بلکہ یہ ان تمام سازشوں کے خاتمے کی جنگ تھی جو مدینہ کو کمزور کرنے کے لیے رچی جاتی رہیں۔ خیبر کی وادی میں یہودی اپنے مضبوط قلعوں میں محصور تھے، ان کے پاس خوراک، پانی، اور ہتھیاروں کی بھرپور فراہمی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ مدینہ کی طاقت بڑھ چکی ہے، مگر انہیں اپنے مضبوط قلعوں پر بھروسہ تھا، اپنی دیواروں کی اونچائی پر ناز تھا، اور اپنے تیر اندازوں کی مہارت پر یقین تھا۔

مگر وہ بھول گئے تھے کہ ایمان کی طاقت پتھروں کی دیواروں کو بھی ہلا سکتی ہے۔ جنگ شروع ہوئی، اور ایک ایک کر کے خیبر کے قلعے فتح ہوتے چلے گئے۔ مسلمانوں کی بے مثال بہادری اور ایمان کی قوت کے سامنے، خیبر کے جنگجو زیادہ دیر نہ ٹک سکے۔ قلعے گرتے گئے، دشمن پیچھے ہٹتا گیا، اور پھر وہ لمحہ بھی آیا، جب سب سے مضبوط قلعہ— قلعہ قموص — باقی رہ گیا۔

یہ وہ قلعہ تھا، جس کی دیواریں سب سے بلند، جس کے دروازے سب سے مضبوط، اور جس کے محافظ سب سے زیادہ تربیت یافتہ تھے۔ مسلمانوں کے لیے یہ آخری آزمائش تھی، مگر جیسے ہی نبی اکرم ﷺ نے اعلان کیا کہ "میں کل جھنڈا اس شخص کو دوں گا، جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں”، تمام لشکر میں بے چینی پھیل گئی۔ ہر صحابیؓ کی تمنا تھی کہ یہ سعادت اسے حاصل ہو، مگر صبح ہوئی تو جھنڈا حضرت علیؓ کے ہاتھ میں دے دیا گیا۔

حضرت علیؓ نے جھنڈا تھاما اور اللہ کے نام پر دشمن کے مضبوط ترین قلعے کی جانب بڑھے۔ خیبر کے جنگجو حیران رہ گئے جب انہوں نے دیکھا کہ دروازہ توڑنے کے لیے کسی بڑے ہتھیار کی ضرورت نہیں، صرف ایک مومن کے ہاتھ کی ضرب ہی کافی ہے۔ حضرت علیؓ نے دروازہ جڑ سے اکھاڑ پھینکا، دشمن پر لرزہ طاری ہو گیا، اور قلعہ فتح ہو گیا!

خیبر کی فتح کا مطلب صرف ایک علاقے پر قبضہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس طاقت کا اعلان تھا جو مدینہ کو اب حاصل ہو چکی تھی۔ یہودی قبائل، جو مدینہ کے خلاف ہمیشہ سازشوں میں مصروف رہتے تھے، اب ہمیشہ کے لیے زیرِ نگیں آ چکے تھے۔ مسلمانوں کو یہاں سے وہ ساز و سامان اور وسائل میسر آئے، جو آئندہ جنگوں میں ان کے لیے مددگار ثابت ہونے والے تھے۔

مگر اس فتح کا سب سے بڑا اثر مکہ پر پڑا۔ قریش کے سردار جان گئے کہ حدیبیہ کی صلح کا مطلب یہ نہیں تھا کہ مسلمان کمزور ہو چکے ہیں، بلکہ یہ معاہدہ انہیں ایک نئی طاقت دینے کے لیے تھا۔ اب اسلام ایک ایسی قوت بن چکا تھا، جسے جھٹلانا ممکن نہیں رہا تھا۔

اب وہ وقت قریب آ رہا تھا جب مکہ کے دروازے خود کھلنے والے تھے۔ وہ سرزمین، جہاں سے نبی اکرم ﷺ کو ہجرت پر مجبور کیا گیا تھا، وہ شہر، جہاں اسلام کی پہلی کرن پھوٹی تھی، اب اسی روشنی میں نہانے والا تھا۔ خیبر کی فتح کے بعد، اسلام کی رفتار مزید تیز ہو چکی تھی، اور اب وہ دن دور نہیں تھا، جب مکہ کے باسیوں کو اپنی ہار تسلیم کرنی پڑے گی، اور وہ گھر جسے اللہ نے اپنا قرار دیا تھا، ہمیشہ کے لیے شرک کی آلودگی سے پاک ہو جائے گا۔

28۔ مکاتیبِ رسالت ﷺ: بادشاہوں کو دعوت

خیبر کی فتح نے مدینہ کی ریاست کو استحکام بخش دیا تھا۔ عرب کے بڑے قبائل اب جان چکے تھے کہ محمد ﷺ کی قیادت میں مسلمان ناقابلِ شکست ہوتے جا رہے ہیں۔ مگر یہ دعوت صرف عرب کے ریگزاروں تک محدود نہ تھی، یہ روشنی صرف جزیرۂ عرب کے باسیوں کے لیے نہ تھی۔ یہ وہ سچائی تھی، جو پوری دنیا کے لیے تھی۔ اب وقت آ چکا تھا کہ اس پیغام کو سرحدوں سے باہر بھیجا جائے، ان سلطنتوں تک پہنچایا جائے، جن کے بادشاہ خود کو دنیا کا سب سے بڑا حکمراں سمجھتے تھے۔

نبی اکرم ﷺ نے دنیا کے عظیم ترین حکمرانوں کو خطوط لکھنے کا فیصلہ کیا۔ یہ کوئی عام خطوط نہ تھے،

بلکہ یہ ایک دعوت تھی، حق کی دعوت، ایک ایسی پکار جو تخت و تاج سے بالاتر تھی، جو دلوں کو بدل سکتی تھی، جو انسان کو انسانیت کی معراج تک پہنچا سکتی تھی۔ ان خطوط میں نبی اکرم ﷺ نے ہر بادشاہ کو اسلام کی طرف بلایا، انہیں یاد دلایا کہ اصل بادشاہت صرف اللہ کی ہے، اور زمین پر ہر حکمران صرف ایک آزمائش میں ہے۔

یہ مکاتیب لے کر جانے والے قاصد بھی عام لوگ نہ تھے، بلکہ وہ چنیدہ صحابہؓ تھے، جو نبی اکرم ﷺ کے اعتماد اور عزائم کے امین تھے۔ حضرت دحیہ کلبیؓ قیصرِ روم ہرقل کے دربار میں پہنچے، جہاں روم کا حکمران ان کے انداز، ان کے الفاظ اور ان کے پیغام سے بے حد متاثر ہوا، مگر اس نے اپنی سلطنت کے خوف سے اسلام قبول نہ کیا۔ دوسری طرف، جب نبی اکرم ﷺ کا خط کسریٰ کے دربار میں پہنچا، تو فارس کے بادشاہ نے اسے اپنی توہین سمجھا اور خط کو پھاڑ کر پھینک دیا۔ نبی اکرم ﷺ کو جب اس کا علم ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا، "اس نے میرا خط پھاڑا ہے، اللہ اس کی سلطنت کو چاک چاک کر دے گا!” اور چند سالوں بعد، تاریخ نے دیکھا کہ فارس کی عظیم سلطنت زمین بوس ہو گئی، اس کا غرور مٹی میں مل گیا۔

نبی اکرم ﷺ کے خطوط صرف بادشاہوں کے لیے نہ تھے، بلکہ یہ انسانیت کے لیے تھے۔ یہ اعلان تھا کہ اسلام اب ایک خطے میں محدود نہیں رہے گا، یہ پوری دنیا میں پھیلنے والا ہے۔ مدینہ اب ایک چھوٹی بستی نہ رہی تھی، یہ ایک ایسی ریاست بن چکی تھی، جو دلوں پر حکومت کرنے کے لیے ابھری تھی، جو محبت، عدل اور اخوت کا پیغام لے کر آئی تھی۔

ان خطوط نے مکہ کے لوگوں کے لیے بھی ایک واضح پیغام دے دیا تھا۔ اب وہ دیکھ رہے تھے کہ محمد ﷺ کا پیغام کتنی وسعت اختیار کر چکا ہے۔ وہ جو کل تک مکہ کی گلیوں میں ستائے جاتے تھے، آج وہ قیصر و کسریٰ کو دعوت دے رہے تھے۔ یہ وقت کی سب سے بڑی گواہی تھی کہ اب اسلام کی راہ میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہی تھی۔

اب اگلا قدم وہ تھا، جس کا انتظار برسوں سے ہو رہا تھا۔ مکہ… وہ شہر جہاں سے اسلام کی بنیاد پڑی تھی، جہاں رسول اللہ ﷺ کو سب سے زیادہ اذیتیں دی گئی تھیں، وہ شہر جو مسلمانوں کے لیے مقدس تھا، مگر ابھی تک شرک کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا۔ اب وہ دن قریب تھا، جب اللہ کا گھر، بیت اللہ، ہمیشہ کے لیے بتوں سے پاک ہونے والا تھا۔ اسلام اب پوری دنیا کے دروازے پر تھا، اور مکہ کا دروازہ بھی کھلنے والا تھا۔

29۔ صلح حدیبیہ کا پس منظر اور اس کی خلاف ورزی
یہ تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا، جب حق اور باطل کے درمیان لکیر واضح ہو چکی تھی۔ صلح حدیبیہ کے دو سال بعد وہ وقت آیا جب قریش نے اپنی ہی باندھی ہوئی زنجیروں کو توڑ دیا، اور معاہدہ شکنی کر کے اپنے انجام کی طرف بڑھ گئے۔ یہ وہی صلح تھی جسے مسلمانوں نے بظاہر بوجھل دل کے ساتھ قبول کیا تھا، مگر اس کی حکمتوں نے آگے جا کر اسلام کے لیے ایک نیا دروازہ کھول دیا۔

صلح حدیبیہ 6 ہجری میں ہوئی تھی، جب نبی اکرم ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ عمرہ کی نیت سے مکہ تشریف لے گئے تھے، مگر قریش نے انہیں مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ بالآخر ایک معاہدہ طے پایا، جس کے تحت دس سال تک جنگ نہ کرنے کا عہد ہوا۔ اس معاہدے میں یہ بھی طے پایا تھا کہ اگر کوئی قبیلہ مسلمانوں سے یا قریش سے شامل ہونا چاہے تو وہ آزاد ہوگا۔

اس معاہدے کے بعد بنو خزاعہ نے مسلمانوں کی حمایت کا اعلان کیا اور بنو بکر قریش کے ساتھ شامل ہو گئے۔ وقت گزرتا گیا، لیکن قریش کے دلوں میں اسلام کی بڑھتی ہوئی قوت کا خوف بیٹھتا گیا۔ آخرکار، انہوں نے اپنی ہی زبان سے کیے گئے وعدے کو پامال کر دیا۔

بنو بکر نے قریش کی مدد سے بنو خزاعہ پر اچانک حملہ کر دیا۔ یہ رات کی تاریکی میں ہوا، جب بنو خزاعہ غافل تھے، قریش کے کچھ سرکردہ افراد نے اس حملے میں حصہ لیا، یہاں تک کہ حرم کی حدود میں بھی خون بہایا گیا۔ حالانکہ عربوں میں یہ اصول تھا کہ حرم میں کوئی خون نہ بہایا جائے گا، مگر قریش نے اس حرمت کو بھی روند ڈالا۔
بنو خزاعہ کے کچھ لوگ زخمی اور بے بس حالت میں مدینہ پہنچے، وہ نبی اکرم ﷺ کے دربار میں آئے اور فریاد کی:
"یا رسول اللہ! ہمارے اوپر ظلم ہوا، قریش نے صلح کا عہد توڑ دیا!”
یہ سنتے ہی نبی اکرم ﷺ کا چہرہ جلال سے سرخ ہو گیا۔ آپ ﷺ نے فوراً اعلان فرمایا:
"قریش نے معاہدہ توڑ دیا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ مکہ فتح کر لیا جائے!”

30۔ ابو سفیان کی مدینہ آمد: صلح کو بچانے کی آخری کوشش

قریش کو جب احساس ہوا کہ ان کی حرکت کی خبر مدینہ پہنچ چکی ہے، اور محمد ﷺ اب خاموش نہیں بیٹھیں گے، تو وہ گھبرا گئے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے سب سے تجربہ کار اور بااثر شخص ابو سفیان کو مدینہ بھیجا تاکہ وہ کسی طرح نبی اکرم ﷺ کو دوبارہ صلح پر راضی کر لے۔
ابو سفیان مدینہ پہنچا اور سیدھا اپنی بیٹی ام حبیبہؓ کے گھر گیا، جو نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ تھیں۔ جیسے ہی وہ ان کے گھر میں داخل ہوا اور بستر پر بیٹھنے لگا، ام حبیبہؓ نے فوراً بستر لپیٹ لیا۔
ابو سفیان نے حیرت سے پوچھا: "بیٹی! کیا تم نے میرے لائق نہ سمجھا، یا اس بستر کو میرے قابل نہ سمجھا؟”
ام حبیبہؓ نے دوٹوک جواب دیا: "یہ اللہ کے رسول ﷺ کا بستر ہے، اور تم ناپاک ہو، میں نہیں چاہتی کہ تم اس پر بیٹھو!”
یہ سن کر ابو سفیان شرمندہ ہوئے، پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، صلح کو برقرار رکھنے کی درخواست کی، مگر آپ ﷺ خاموش رہے۔ پھر وہ حضرت ابو بکرؓ، حضرت عمرؓ، اور حضرت علیؓ کے پاس گیا، مگر کسی نے بھی اس کی حمایت نہ کی۔ مایوس ہو کر ابو سفیان مکہ واپس چلا گیا، اور قریش کو آ کر خبر دی کہ اب جنگ یقینی ہے۔

31۔ لشکرِ اسلام کی روانگی اور خط کا انکشاف

نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کو تیار ہونے کا حکم دیا۔ دس ہزار کا لشکر تیار ہو چکا تھا، مگر نبی اکرم ﷺ چاہتے تھے کہ یہ مہم خاموشی سے ہو، تاکہ قریش کو آخری لمحے تک خبر نہ ہو۔
لیکن عین اسی وقت ایک صحابی حاتب بن ابی بلتعہؓ نے ایک خاتون کے ہاتھوں قریش کو ایک خفیہ خط بھیج دیا، جس میں لکھا تھا کہ مسلمان مکہ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہ خط خطرناک ثابت ہو سکتا تھا، لیکن اللہ نے اپنے نبی کی مدد فرمائی۔
جبرائیلؑ نے نبی اکرم ﷺ کو اطلاع دی، تو آپ ﷺ نے حضرت علیؓ، حضرت زبیرؓ، اور حضرت مقدادؓ کو بھیجا کہ وہ راستے میں اس خاتون کو روکیں۔ جب وہ مل گئی، تو پہلے اس نے انکار کیا، مگر حضرت علیؓ نے تلوار نکالی اور کہا: "یا تو خط نکالو، یا پھر ہمیں تلاشی لینے دو!”
آخرکار، اس نے خط نکال کر دے دیا۔ نبی اکرم ﷺ نے حاتبؓ سے پوچھا: "یہ تم نے کیوں کیا؟”
حاتبؓ نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! میرا ایمان تو مضبوط ہے، مگر میرے اہل و عیال مکہ میں ہیں، میں نے سوچا کہ اس سے میرا خاندان محفوظ رہے گا!”
نبی اکرم ﷺ نے ان کی نیت کو دیکھتے ہوئے انہیں معاف کر دیا۔

32۔ مکہ کے قریب لشکرِ اسلام کا پڑاؤ اور ابو سفیان کا قبولِ اسلام:

جب مسلمانوں کا لشکر مدینہ سے روانہ ہوا، تو پوری کوشش کی گئی کہ قریش کو اس کی خبر نہ ہو۔ نبی اکرم ﷺ نے ہر طرف مکمل رازداری رکھی، تاکہ اہلِ مکہ کو آخری وقت تک اندازہ نہ ہو کہ ان کے خلاف ایک زبردست فوج آرہی ہے۔ جیسے جیسے لشکر آگے بڑھتا گیا، مسلمانوں کے دلوں میں جوش و ولولہ بڑھتا رہا۔ ہر صحابی جانتا تھا کہ آج کا سفر عام جنگوں کی طرح نہیں، بلکہ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے، جہاں ظلم کے بادل چھٹنے والے ہیں اور بیت اللہ کو باطل کے سایے سے آزاد کیا جانے والا ہے۔

33۔ مکہ کے قریب پڑاؤ اور حضرت عباسؓ کی روانگی:

جب اسلامی لشکر مر الظهران (مکہ کے قریب ایک مقام) پہنچا، تو نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا کہ ہر مجاہد اپنے الاؤ جلائے، تاکہ لشکر کی عظمت اور ہیبت قریش پر طاری ہو جائے۔ اس رات ہزاروں مشعلیں روشن کی گئیں، اور مکہ کی وادی میں ایسا منظر تھا جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔

ادھر قریش ابھی تک غفلت میں تھے، انہیں اندازہ تک نہ تھا کہ اسلام کی عظیم فوج ان کے دروازے پر پہنچ چکی ہے۔ لیکن جب ان مشعلوں کی روشنی مکہ کے پہاڑوں سے دیکھی گئی، تو قریش میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

اسی دوران، نبی اکرم ﷺ کے چچا حضرت عباسؓ جو پہلے قریش کے ساتھ تھے مگر بعد میں اسلام قبول کر چکے تھے، ان کے دل میں یہ خیال آیا کہ اگر قریش کو اس لشکر کی حقیقت کا اندازہ نہ ہوا، تو ممکن ہے کہ وہ کوئی حماقت کر بیٹھیں اور ان کا پورا قبیلہ تباہ ہو جائے۔ چنانچہ حضرت عباسؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اجازت لی اور آپ ﷺ کی سواری دُلدُل پر سوار ہو کر مکہ کی طرف روانہ ہوئے، تاکہ قریش کے بڑے سرداروں کو سمجھا سکیں کہ وہ کسی بے وقوفی کا مظاہرہ نہ کریں۔

34۔ ابو سفیان کی حیرت اور گھبراہٹ:
حضرت عباسؓ ابھی راستے میں ہی تھے کہ اچانک انہیں ابو سفیان مل گئے، جو قریش کے سب سے بڑے سردار تھے۔ ابو سفیان شدید گھبرائے ہوئے تھے، اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ اس نے حضرت عباسؓ سے پوچھا:
"یہ آگ کی روشنی کیسی ہے؟ کیا قبیلہ خزاعہ نے حملہ کر دیا ہے؟”
حضرت عباسؓ مسکرا کر بولے:
"ابو سفیان! یہ خزاعہ کا لشکر نہیں، بلکہ یہ محمد ﷺ اور ان کے صحابہ کا لشکر ہے، جو دس ہزار کی تعداد میں مکہ کے قریب پہنچ چکا ہے!”
ابو سفیان کا رنگ فق ہو گیا، ان کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ وہ جانتے تھے کہ قریش کی کوئی بھی فوج اس عظیم لشکر کے سامنے نہیں ٹھہر سکتی۔
انہوں نے گھبراتے ہوئے کہا: "عباس! اب کیا ہوگا؟ اگر محمد ﷺ نے ہم سے انتقام لیا تو ہم برباد ہو جائیں گے!”
حضرت عباسؓ نے نہایت حکمت سے کہا: "ابو سفیان! تمہارے لیے بس ایک ہی راستہ ہے، اور وہ یہ کہ تم فوراً نبی اکرم ﷺ کے پاس جاؤ اور اسلام قبول کر لو، اس کے علاوہ اب تمہاری نجات کا کوئی اور راستہ نہیں۔”

ابو سفیان نے کچھ دیر خاموشی اختیار کی، پھر حضرت عباسؓ سے کہا: "مجھے اپنے ساتھ لے چلو، شاید محمد ﷺ مجھ پر رحم کر دیں!”

35: دربار مصطفیٰ ﷺ میں ابو سفیان کی حاضری :
حضرت عباسؓ ابو سفیان کو اپنے ساتھ لے کر لشکر کی طرف واپس چلے گئے۔ جب وہ نبی اکرم ﷺ کے خیمے کے قریب پہنچے، تو حضرت عمرؓ نے انہیں دیکھ لیا اور غضبناک ہو کر کہا:
"یا رسول اللہ! یہ ابو سفیان ہے، یہ وہی شخص ہے جس نے آپ کے خلاف سب سے زیادہ سازشیں کیں، مجھے اجازت دیں کہ میں اس کی گردن اڑا دوں!”

لیکن حضرت عباسؓ نے مداخلت کی اور کہا:

"اے عمر! اگر یہ قریش کا سردار قتل کر دیا گیا تو پورے قریش میں خوف و ہراس پھیل جائے گا اور خونریزی ہو سکتی ہے، بہتر یہی ہے کہ اسے پہلے رسول اللہ ﷺ کے حضور لے جا کر ان کی بات سن لی جائے۔”

نبی اکرم ﷺ خاموش رہے، پھر فرمایا:
"ابو سفیان کو میرے پاس لاؤ!”
ابو سفیان کو نبی اکرم ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا۔ وہ خوف سے کانپ رہے تھے، ان کا چہرہ زرد پڑ چکا تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے انہیں دیکھا اور فرمایا:
"ابو سفیان! کیا ابھی بھی وقت نہیں آیا کہ تم اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کر لو؟ کیا ابھی بھی تم یہ نہیں مانتے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟”
ابو سفیان نے ایک لمحے کے لیے سر جھکا لیا، پھر کہا:
"محمد! تم واقعی ایک عظیم شخص ہو، تم نے ہمیشہ سچ بولا ہے، اور تمہاری شان دیکھ کر میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں!”
پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "اور کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟”
ابو سفیان نے تھوڑا تامل کیا، پھر جھجھکتے ہوئے بولا:
"محمد! اس بات میں مجھے ابھی بھی کچھ شبہ ہے۔”
حضرت عباسؓ نے فوراً مداخلت کی اور غصے میں کہا:
"ابو سفیان! ابھی بھی تمہاری گردن میں قریش کی ضد باقی ہے؟ اگر تم نے آج اسلام قبول نہ کیا تو تمہاری کوئی جگہ نہیں رہے گی!”

ابو سفیان نے کچھ لمحے سوچا، پھر نظر اٹھا کر نبی اکرم ﷺ کو دیکھا، اور کہا:
"محمد! میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں!”

36: حضرت سفیانؓ کے لیے امان کا اعلان:
جب حضرت سفیانؓ نے اسلام قبول کر لیا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
"ابو سفیانؓ! جاؤ، مکہ میں اعلان کر دو کہ جو شخص بیت اللہ میں داخل ہو جائے گا، وہ محفوظ رہے گا۔ جو اپنے گھر کے دروازے بند کر لے گا، اسے کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ اور جو تمہارے گھر میں داخل ہو جائے گا، اسے بھی امان دی جائے گی!”
ابوسفیان حیران رہ گئے۔ وہ سوچ رہے تھے کہ محمد ﷺ جن پر مکہ میں ظلم و ستم کیے گئے، وہ آج بھی رحم کا مظاہرہ کر رہے ہیں!

37: حضرت ابو سفیانؓ کا مکہ واپس لوٹنا:
ابو سفیان اپنے ایمان اور نبی اکرم ﷺ کی رحمت کے جذبات میں گھرے ہوئے مکہ کی طرف واپس گیا۔ جیسے ہی وہ قریش کے پاس پہنچا، اس نے چلا کر کہا:

"قریش کے لوگو! محمد ﷺ کا لشکر تمہارے دروازے پر پہنچ چکا ہے، اب تمہارے پاس صرف ایک راستہ ہے کہ اسلام قبول کر لو، ورنہ تمہارے لیے کوئی بچاؤ نہیں!”

قریش کے بہت سے لوگ حضرت ابو سفیانؓ کے اس اعلان پر حیران رہ گئے، اور بہت سوں نے اس اعلان کو سن کر خود کو نبی اکرم ﷺ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔
وہ وقت آچکا تھا، جب مکہ کے دروازے اسلام کے لیے کھل چکے تھے، اور اللہ کا وعدہ پورا ہونے جا رہا تھا۔

38۔ مکہ میں داخلہ: عظمت، عاجزی اور معافی کا دن
یہ وہی مکہ تھا، جہاں رسول اللہ ﷺ نے پہلی بار توحید کی دعوت دی تھی۔ وہی مکہ جہاں ظلم و ستم کی انتہا ہوئی تھی، جہاں چہروں پر طمانچے مارے گئے، زنجیروں میں جکڑا گیا، گرم ریت پر گھسیٹا گیا، جسموں کو آگ سے داغا گیا، اور خون کی ندیاں بہائی گئیں۔ آج اسی مکہ میں محمد ﷺ فاتح کی حیثیت سے داخل ہو رہے تھے، لیکن یہ فتح غرور کی نہیں، بلکہ عاجزی اور عفو و درگزر کی تھی۔

39۔ رسول اللہ ﷺ کا مکہ میں عاجزی کے ساتھ داخلہ:
جب نبی اکرم ﷺ مکہ میں داخل ہو رہے تھے، تو آپ کا مبارک سر جھکا ہوا تھا۔ کوئی اور ہوتا تو شاید فخر و تکبر سے گردن اونچی کر لیتا، مگر آپ ﷺ کا جھکا ہوا سر عاجزی و انکساری کی سب سے اعلیٰ مثال تھا۔ یہ وہی شہر تھا جہاں آپ ﷺ کو ستایا گیا، گلیوں میں پتھر مارے گئے، قتل کی سازشیں ہوئیں، مگر آج آپ ﷺ کسی انتقام کے ارادے سے نہیں، بلکہ رحمت و مغفرت کا پیغام لے کر آئے تھے۔

40۔ مکہ کے مختلف راستوں سے لشکرِ اسلام کی پیش قدمی:
فتح مکہ کی ترتیب حکمت سے طے کی گئی تھی۔ نبی اکرم ﷺ نے اسلامی لشکر کو مختلف دستوں میں تقسیم کیا:
حضرت خالد بن ولیدؓ کو جنوب کی جانب بھیجا گیا، تاکہ وہ مکہ میں داخل ہوں اور اگر کوئی مزاحمت کرے تو اسے ختم کریں۔
حضرت زبیر بن العوامؓ کو مغرب کی سمت روانہ کیا گیا، تاکہ وہ وادی میں اپنی موجودگی قائم کریں۔
حضرت سعد بن عبادہؓ کو ایک اور دستے کے ساتھ بھیجا گیا، جو مشرقی سمت سے داخل ہو۔
جبکہ نبی اکرم ﷺ خود مرکزی لشکر کے ساتھ مکہ میں داخل ہو رہے تھے، تاکہ قریش پر مکمل گرفت حاصل کی جا سکے۔

41۔ حضرت خالد بن ولیدؓ کی مکہ میں جرات مندانہ پیش قدمی:
حضرت خالد بن ولیدؓ، جو کبھی اسلام کے خلاف تلوار اٹھاتے تھے، آج اسلام کے سچے سپاہی بن چکے تھے۔ جیسے ہی وہ اپنے دستے کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے، قریش کے چند متعصب لوگ، جن میں عکرمہ بن ابو جہل، صفوان بن امیہ اور سہیل بن عمرو شامل تھے، انہوں نے مسلمانوں پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ مگر سیف اللہ (اللہ کی تلوار) حضرت خالد بن ولیدؓ نے نہایت ہوشیاری اور بہادری سے انہیں پسپا کر دیا۔ چند قریشی مارے گئے، باقی ہتھیار ڈال کر فرار ہو گئے۔

42۔ ابو جہل کے بیٹے عکرمہ کی جھڑپ:
عکرمہ، جو اپنے باپ ابو جہل کے نقش قدم پر تھا، آخری وقت تک لڑنے کے لیے تیار تھا۔ مگر جب اس نے دیکھا کہ لشکرِ اسلام ناقابلِ تسخیر ہے، تو وہ میدان چھوڑ کر بھاگ گیا۔ یہ وہی عکرمہ تھا، جو بعد میں اسلام قبول کرے گا اور نبی اکرم ﷺ کی محبت میں اپنی جان دے دے گا، مگر اس وقت وہ انتقام کی آگ میں جل رہا تھا۔

43۔ حضرت علیؓ کا داخلہ اور مکہ کی چابیاں:
حضرت علیؓ، جو ہمیشہ نبی اکرم ﷺ کے قریب رہے، آج بھی ساتھ تھے۔ نبی اکرم ﷺ جب کعبہ کی طرف بڑھے تو آپ ﷺ نے عثمان بن طلحہؓ کو بلایا، جو خانہ کعبہ کی چابیاں رکھنے والے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔
یہ وہی عثمان بن طلحہؓ تھے، جنہوں نے ایک دن مکہ میں نبی اکرم ﷺ کو کعبہ میں داخل ہونے سے روکا تھا اور بدتمیزی کی تھی، مگر آج وہی شخص سر جھکائے کھڑا تھا۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
"عثمان! آج کا دن کوئی انتقام کا دن نہیں، یہ عزت اور وفا کا دن ہے۔ یہ چابیاں تمہارے خاندان میں ہمیشہ رہیں گی، کیونکہ اسلام وعدے کی پاسداری سکھاتا ہے!”
نبی اکرم ﷺ نے دنیا کو دکھایا کہ اسلام طاقت کے ذریعے نہیں، بلکہ اعلیٰ کردار اور محبت کے ذریعے دلوں میں گھر کرتا ہے۔

44۔ خانہ کعبہ کی تطہیر: باطل کا خاتمہ
نبی اکرم ﷺ خانہ کعبہ میں داخل ہوئے، اور آپ ﷺ نے اپنے عصا سے 360 بتوں کو گراتے ہوئے فرمایا:
"جاءَ الحقُّ وَزَهَقَ الباطلُ إِنَّ الباطلَ كانَ زَهوقًا”
(حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے ہی کے لیے تھا)
وہ لات، عزیٰ، منات، ہبل، جنہیں قریش نے اپنے معبود بنا رکھا تھا، وہ ایک ایک کر کے زمین بوس ہو رہے تھے۔ آج کعبہ اپنے اصل وارثوں کے پاس آ چکا تھا، آج وہی کعبہ تھا، جہاں حضرت ابراہیمؑ نے اللہ کی توحید کا اعلان کیا تھا، اور آج محمد مصطفیٰ ﷺ اس توحید کی تکمیل فرما رہے تھے۔

45۔ اذانِ بلالؓی : غلام سے موذنِ حرم تک کا سفر

قریش نے جن غلاموں کو کبھی کمتر سمجھا تھا، آج اللہ نے انہیں عزتوں سے نواز دیا تھا۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
"بلالؓ! جاؤ، اور کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اذان دو!”
قریش کے سردار حیرت میں ڈوب گئے ، ان کی گردنیں جھک گئیں، اور ان کے نظریات زمین بوس ہو گئے۔
حضرت بلالؓ، جو کبھی مکہ کی گلیوں میں کوڑے کھاتے تھے، آج خانہ کعبہ کی چھت پر کھڑے ہو کر اللہ کی کبریائی کا اعلان کر رہے تھے:

"اللہ اکبر، اللہ اکبر!”

یہ وہ صدا تھی، جس نے غلاموں کو عزت بخشی، جس نے اونچ نیچ کے فرق مٹا دیے، جس نے سچ اور جھوٹ کے درمیان واضح لکیر کھینچ دی۔

46۔ وحشیؓ کا واقعہ : حضرت حمزہؓ کے قاتل کا توبہ کرنا

یہ وہی دن تھا، جب نبی اکرم ﷺ کے سامنے وہ شخص کھڑا تھا، جس نے آپ ﷺ کے محبوب چچا حضرت حمزہؓ کو شہید کیا تھا۔ وحشیؓ جو ایک غلام تھا، اسے قریش نے آزاد کرنے کا وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ حضرت حمزہؓ کو قتل کر دے۔ وہی وحشی آج نبی اکرم ﷺ کے سامنے کانپ رہا تھا، اس کے قدم لرز رہے تھے، وہ جانتا تھا کہ اس سے بڑا گناہ کسی نے نہیں کیا۔
لیکن نبی اکرم ﷺ نے اسے دیکھا اور فرمایا:
"وحشی! کیا تم اسلام قبول کرو گے؟”
وحشی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، وہ بولا:
"یا رسول اللہ! کیا میرے جیسے قاتل کے لیے بھی معافی ہے؟”
نبی اکرم ﷺ نے مسکرا کر فرمایا:
"اسلام میں داخل ہو جاؤ، اللہ تمہیں معاف کر دے گا!”

وحشی نے کلمہ پڑھ لیا، اور تاریخ نے دیکھا کہ یہی وحشی وہ شخص تھا، جس نے بعد میں مسلیمہ کذاب جیسے جھوٹے نبی کو قتل کر کے اسلام کی خدمت کی۔

47۔ رحمت اللعالمین نبی اکرم ﷺ کا اعلانِ معافی:

مکہ، وہی مکہ جس کی گلیوں میں کبھی سرورِ کائنات حضرت محمد ﷺ کی شان میں گستاخیاں کی جاتی تھیں، آج انہی گلیوں میں اللہ اکبر! اللہ اکبر! کی صدائیں گونج رہی تھیں۔ وہی در و دیوار، جہاں کبھی ظلم و ستم کے سائے گہرے تھے، آج نورِ ایمان سے منور ہو رہے تھے۔ وہی قریش، جو کل تک نبی اکرم ﷺ کے خون کے پیاسے تھے، آج رحم و کرم کی بھیگ مانگ رہے تھے۔

فتح مکہ کا دن تھا، مگر یہ غرور و تکبر کی فتح نہیں تھی، یہ محبت، صبر اور استقامت کی وہ عظیم فتح تھی جسے تاریخ ہمیشہ سنہرے الفاظ میں لکھے گی۔

دشمنوں کی نظریں جھکی ہوئی تھیں، مگر رحمت اللعالمین ﷺ کے دل میں محبت تھی۔ قریش کے بڑے سردار، وہی جو کبھی نبی اکرم ﷺ کو مکہ سے نکالنے کے درپے تھے، آج زمین کی طرف نظریں جھکائے کھڑے تھے۔ ہر ایک کے دل میں خوف تھا، جسم کانپ رہے تھے، آنکھوں میں ندامت کے آنسو تھے۔
انہیں وہ سب یاد آ رہا تھا جو انہوں نے نبی اکرم ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ کر کیا تھا۔ بلال حبشیؓ کی چیخیں، حضرت سمیہؓ کی شہادت، حضرت خبابؓ کی جلتی ہوئی پیٹھ، حضرت یاسرؓ کا بہتا ہوا خون، حضرت محمد ﷺ کے قدموں میں بچھائے گئے کانٹے، طائف کی وادی میں آپ ﷺ پر برسائے گئے پتھر— سب کچھ ان کے ذہن میں گردش کر رہا تھا۔

آج وہ جانتے تھے کہ اگر سرکارِ دوعالم ﷺ انتقام لینا چاہیں، تو یہ زمین خون سے سرخ ہو جائے گی، ہر ظالم کی گردن اڑا دی جائے گی، ہر مجرم اپنے جرم کی سزا پا لے گا۔
مگر وہ محمد ﷺ تھے… وہ رحمت اللعالمین ﷺ تھے!

نبی اکرم ﷺ کا وہ جملہ جس نے تاریخ بدل دی:
لوگ دم بخود کھڑے تھے، کہ اچانک نبی اکرم ﷺ نے اپنے ہونٹوں کو جنبش دی۔
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"لا تثریب علیکم الیوم، اذهبوا فأنتم الطلقاء!”
(آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو!)

یہ جملہ سنتے ہی مکہ کی فضا گونج اٹھی۔ لوگوں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ لوگ جو لمحہ بھر پہلے اپنی گردنیں کٹنے کے خوف میں کھڑے تھے، آج آزاد کھڑے تھے۔

یہ وہی محمد ﷺ تھے، جنہیں کل انہی لوگوں نے بے یار و مددگار مکہ سے نکالا تھا۔ مگر آج، انتقام کی جگہ عفو تھا، نفرت کی جگہ محبت تھی، ظلم کی جگہ رحمت تھی۔

48۔ فتح مکہ: دنیا کے لیے سب سے بڑا پیغام

فتح مکہ صرف ایک جنگی کامیابی نہیں تھی، بلکہ یہ محبت، درگزر اور انصاف کی وہ عظیم الشان مثال تھی جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب طاقت اور اختیار ملنے کے باوجود نبی اکرم ﷺ نے بدلے کی بجائے معافی کو چنا، اور ظلم کی جگہ رحمت اور اخوت کی بنیاد رکھی۔
ہمیں اس واقعے سے سیکھنا چاہیے کہ اصل جیت انسان کے کردار کی ہوتی ہے، نہ کہ صرف فتح کی۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا اسلام کے حقیقی پیغام کو سمجھے، تو ہمیں فتح مکہ کے اس سبق کو عام کرنا ہوگا۔ ہمیں ہر ممکن ذریعے سے لوگوں کو یہ بتانا ہوگا کہ اسلام انتقام کا نہیں، بلکہ رحمت اور درگزر کا دین ہے۔

ہمیں اس واقعہ کو عام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ:
اس واقعہ نے دنیا کو سبق دیا ہے کہ حقیقی قیادت وہی ہے جو ظلم کے بدلے انصاف کرے اور نفرت کے بدلے محبت دے۔
یہ واقعہ مظلوموں کو امید دلاتا ہے کہ صبر اور استقامت کے بعد اللہ کی مدد ضرور آتی ہے۔
یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ طاقت حاصل ہونے پر اس کا درست استعمال ہی اصل امتحان ہوتا ہے۔
یہ ثابت کرتا ہے کہ بہترین فتح وہی ہوتی ہے جو تلوار سے نہیں، بلکہ دلوں کو جیت کر حاصل کی جائے۔

پس اے امتِ محمد ﷺ!
اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا اسلام کو اس کی اصل روشنی میں دیکھے،
اگر ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہمارے نبی ﷺ کے اخلاق اور عدل سے متاثر ہوں،
اگر ہم چاہتے ہیں کہ اسلام کی سچائی دنیا تک پہنچے،
تو فتح مکہ اس پیغام کو عام کیجیے!
اپنے گھروں میں، اپنے معاشرے میں، سوشل میڈیا پر، اپنے دوستوں میں اس واقعے کا ذکر کیجیے۔
یہ صرف تاریخ کا ایک باب نہیں، بلکہ یہ وہ روشنی ہے جو آج بھی دلوں کو منور کر سکتی ہے، جو آج بھی دنیا میں امن، محبت اور بھائی چارے کو فروغ دے سکتی ہے۔
یہی فتح مکہ کا سب سے بڑا سبق ہے، اور یہی ہمارا فرض بھی!

 

رابطہ : 8766787156
ای میل : ragheebinamdar0@gmail.com

متعلقہ خبریں

Back to top button