سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

فتح مکہ -✍️مولانامحمدمحفوظ قادری رامپور

یہ وہ فتح عظیم ہے کہ جس کے ذریعہ اللہ رب العزت نے اپنے دین کو،اپنے رسول کو، اپنے امانت دارگروہ مسلمانوں کوعزت عطا فرمائی،ساتھ ہی اپنے شہر مکہ اور اپنے گھر کعبہ کو۔جس کو اللہ نے مسلمانوں کے لئے نور وہدایت کا سرچشمہ بنایاہے کفار و مشرکین کے ہاتھ سے چھٹکارا دلایا۔اس فتح عظیم سے آسمان وزمین والو ں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔اس فتح عظیم کو دیکھ کر لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہونے لگے اور روئے زمین کا ذرہ ذرہ نور وہدایت کی روشنی سے جگمگا اُٹھا ۔

چھٹی ہجری میں صلح حدبیہ کے موقع پرکفار مکہ اور مسلمانوں میں جو دس سال کامعاہدہ ہوا تھا اس میں یہ طے پایا تھاکہ دونوں فریق ایک دوسرے کے جان و مال کو کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے اور جو قبیلے ان قبیلوں سے تعلق رکھتے ہیں وہ بھی کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔

عرب کے دو مشہور قبیلوں بنو خزاعہ اور بنو بکر میں آپس میں برابر خانہ جنگی رہتی تھی لیکن اس دس سال کے معاہدے کے بعدبنو خزاعہ مسلمانوں کا حلیف بن گیا،اور قبیلہ بنو بکر کفار مکہ کے ساتھ مل گیا اس صلح نامہ کی روح سے دونوں کی خانہ جنگی ختم ہو گئی۔تقریباً دو سال تک دونوں قبیلے امن سے رہے۔لیکن آٹھ ہجری میں قبیلہ بنو بکر کی نیت میں بگاڑ پیدا ہوا اور اس کے سردار نوفل بن معاویہ نے بنو خزاعہ پر حملہ کر دیا۔

اس حملہ کو دیکھ کرکفار مکہ کے خود اپنے سردارصفوان بن امیہ اور عکرمہ بن ابی جہل وغیرہ بھی اس حملہ میں قبیلہ بنو بکر کے ساتھ ہو گئے اور قبیلہ بنو خزاعہ کا قتل عام شروع کر دیا۔یہ بزدلانہ حملہ رات کے ایسے وقت کیا گیا تھاکہ جب بنو خزاعہ کے لوگ گہری نیند سو رہے تھے۔

جب بنو خزاعہ کے لوگ اس حملہ کی تاب نہ لا سکے تو اپنی جان بچانے کیلئے حرم میں جا چھپے،لیکن کفار مکہ اور بنو بکر نے ان کو وہاں بھی نہیں چھوڑا اور اس حملہ میں بنو خزاعہ کے پچیس یا تیس لوگ مارے گئے جن میں سے بعض بیت اللہ کے اندر قتل کئے گئے۔

کفار مکہ اور قبیلہ بنو بکر کی ان ظالمانہ حرکتوں کی شکایت جب قبیلہ بنو خزاعہ کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لیکر حاضر ہوئے تو آپ کو بہت زیادہ تکلیف ہوئی ۔آپ نے اُن لوگوں کو تسلی دی اور سمجھاکر فرمایا ہم تمہاری مدد کیلئے ضرور تیار ہیں۔اس حملہ کے فوراً بعد آپ نے کفار مکہ کے پاس اپنا قاصد روانہ کیا اور اُن کی طرف سے کئے ہوئے حملہ پر اظہار ناراضگی فرماتے ہوئے مطالبہ کیاکہ قبیلہ بنو خزاعہ کے مقتولین کا خون بہا دیاجائے ۔

بنو بکر کی حمایت سے قریش مکہ فوراً الگ ہوجائیں۔اور اس بات کا اعلان کردیا جائے کہ دس سال کیلئے حدبیہ کاجو صلح نامہ ہواتھاوہ ٹوٹ گیا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جب یہ پیغام لیکر قاصد کفار مکہ کے پاس پہنچا تو انہوں نے نہایت غرور اور تکبر کے ساتھ کہانکہ’’ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے محکوم نہیں ہیں ہم نے جوچاہا کیاجاؤ ہم کسی معاہدے کی پرواہ نہیں کرتے ہم بھی اسے منسوخ کرتے ہیں ‘ ‘یہ تلخ جواب لیکر قاصد مدینہ واپس آگیا۔

جب اُس نے یہ متکبرانہ جواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا تو آپ نے اُسی وقت صحابہ کرام کو مکہ پر چڑھائی کی تیاریوں کا حکم دیا۔اسلامی قاصد کے واپس چلے جانے کے بعد کفار مکہ نے اپنی نامعقولیت اورحماقت بھرے جواب پر غورکیا توان کو بہت زیادہ فکر ستانے لگی کہ انہونے خود ہی مسلمانوں کو مکہ پر حملہ کرنے کی دعوت دے ڈالی۔

کفار مکہ نے اپنے امیرابوسفیان کومدینہ منورہ کی طرف بھیجا کہ حضور سلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر صلح حدبیہ کے سمجھوتے کی یاد دلائیں،اور دوبارہ اُس معادہ کی تجدید کرالیں۔جب ابو سفیان نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ درخواست پیش کی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور کوئی جواب نہیں دیا۔

یہ دیکھ کر ابو سفیان بارگاہ نبوی سے مایوسی کے ساتھ واپس ہوااور حضرت ابو بکر صدیق و حضرت عمراور حضرت علی رضی اللہ عنہم اور مدینہ منورہ کے بااثر حضرات کی خدمت میں حاضر ہوالیکن کسی نے اسے منہ نہ لگایا اور مایوسی کے ساتھ مدینہ منورہ سے واپس چلا گیا۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مکہ کو فتح کرنے کی سرگرمیاں:10 رمضان المبارک 8 ہجری کوحضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دس ہزار کے اسلامی لشکر کو لیکر فتح مکہ کی غرض سے مدینہ منورہ سے نکل پڑے راستہ میں مکہ کے قریب ایک وادی مر الظہران پر پہلا پڑاؤ کیا اور مکہ والوں کو آپ کے اس حملہ کی ذرہ برابر خبر نہ تھی کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس حملہ کی طیاریاں بہت ہی خفیہ طریقے سے اور تیزی کے ساتھ کی گیئں تھیں جسکا اہل مکہ کو علم نہ ہوسکا۔جب مرالظہران کے چرواہے رات کومکہ پہنچے اور ان کے ذریعہ اہل مکہ کو علم ہوا کہ مکہ کے قریب ایک بہت بڑا اسلامی لشکرخیمہ زن ہے تو اہل مکہ گھبراگئے اور فکر ستانے لگی کہ کہیں یہ لشکر ہمارے اُپر حملہ آور نہ ہو جائے۔

اس پورے معاملہ کی سچائی کو جاننے کیلئے مکہ والوں نے اپنے سردار ابو سفیان اور چند بااثر لوگو ں کو روانہ کیا۔یہ لوگ غوروفکر ہی کر رہے تھے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو دیکھ لیااورگرفتار کرکے خیمہ نبوی میں لے آئے۔ابو سفیان جواسلام کا بہت بڑا دشمن تھااور اسلام کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا تھا جب یہ گرفتار ہوا تو ہر شخص یہ چاہتا تھا کہ اس کو قتل کر دیا جائے ۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی کہ یا رسول اللہ یہ بہت بڑا دشمن اسلام ہے اگر آپ کی اجازت ہو تو میں اس کی گردن اس کے تن سے جدا کردوں؟

حضرت عمر کے یہ ایمانی جذبات دیکھ کر حضور نے ارشاد فرمایاکہ اے عمر آج اس کو چھوڑدو اور معاف فرمادو میں آج اس سے کوئی انتقام نہیں لینا چاہتا یہ عفو درگزر کا معاملہ دیکھ کر ابو سفیان حیران رہ گیا ،اور عفو درگزر کا اس پر یہ اثر ہوا کہ اس نے فوراً اسلام قبو کرلیا۔

قبول اسلام کے بعد اللہ کے رسول نے ابو سفیان کو یہ پیغام لیکر اہل مکہ کی طرف کی بھیجا کہ’’ ہمارا مقصد خون بہانا اور بدلہ لینا نہیں ہےبلکہ ہمارا مقصد’ ’اعلائے کلمتہ الحق‘ ‘ہے۔

جولوگ ہم پر تلوار سے حملہ کرنا چاہیں گے بس انکو قتل کیاجائیگا اور جو ہم پر تلوارو ہتھیار نہیں اٹھائیں گے ان کو معاف کر دیا جائے گا۔اور جو شخص حرم میں اور ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوگیا اسکو امان ہے

‘‘ابو سفیان یہ پیغام لیکر مکہ پہنچے اور اہل مکہ سے کہا کہ اے لوگو ں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کے جاں نثار صحابہ کی ایک بہت بڑی جماعت ہے جس سے مقابلہ کرنا ہمارے لیئے ممکن نہیں ہے ۔ہمارے واسطے خیر اسی میں ہے کہ ہم ان کی اطاعت کرکے دائرہ اسلام میں داخل ہوجائیں۔

اپنے سردار کی زبان سے یہ الفاظ سن کراہل مکہ بہت زیادہ مایوس اور حیران کن رہ گئے،اور اپنے گھروں میں جاکر چھپ گئے۔بہرحال دوسرے دن اسلامی لشکرنہایت ہی شان و شوکت کے ساتھ بغیر کسی کو کئی نقصان پہنچائے ہوئے مکہ میں داخل ہونا شروع ہوا یہ منظر بہت ہی پُر کیف تھا کیوں کہ چاروں طرف سے اللہ اکبر کے نعروں کی صدائیں فضا میں گونج رہی تھیں اور فضا توحید الٰہی کے رنگ میں رنگ چکی تھی اور ہر قبیلے کے مسلمان کے ہاتھ میں اس کے قبیلے کا جھنڈا تھااورمحسن انسانیت آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری جاں نثار صحابہ کے لشکر کے بیچ میں چل رہی تھی آپ کو وہ دن بھی یاد تھا کہ جب آپ کو بے سروسامانی کے عالم میں آٹھ سال پہلے مکہ کوچھوڑنا پڑاتھااور ایک آج کا دن تھا کہ آپ شاہانہ انداز میں اللہ کے نام کی صدائیں بلند کرتے ہوئے اللہ کے گھر میں داخل ہورہے تھے۔

آپ کی آنکھوں میں خوشی ومسرت کے آنسو تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو نصیحت فرمائی کہ خونریزی تو دور کی بات ہماری ذات سے کسی کو ذرہ برابر بھی تکلیف نہ پہنچے۔چنانچہ اسلامی لشکر بہت ہی صبر وتحمل اور احتیاطی تدابیر سے کام لیتا ہوا مکہ میں داخل ہو گیا۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم شاہانہ انداز میں جذبہ ایمانی کے ساتھ سیاہ عمامہ باندھے ہوئے اور سر مبارک کو جھکائے ہوئے اپنی سواری پر سوار تھے۔ مکہ میں داخل ہونے کے ساتھ ہی آپ کعبہ کی طرف تشریف لے گئے اور جیسے ہی آپ نے خانہ کعبہ کے دروازے میں داخل ہونا چاہا توآپ نے ایک زور دار آواز میں اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا آپ کا یہ عمل دیکھ کر اسلامی لشکر نے بھی زوردار آواز میں نعرئہ توحید بلند کیاتو سارا مکہ توحید الٰہی کے نعروں سے گونج اٹھا۔

 آپ جس سواری پر سوار تھے آپ نے اسی سواری پر سات مرتبہ کعبہ کا طواف کیا۔اور اللہ کے گھر خانہ کعبہ کے اندرجو تین سو ساٹھ باطل معبود رکھے ہوئے تھے آپ کے حکم سے ان کو کعبہ سے نکال کر باہر پھینک دیا گیا آپ اس وقت قرآن کی یہ آیت مبارکہ تلاوت فرما رہے تھے’’حق آگیا باطل مٹ گیا،اور باطل مٹ نے ہی کی چیز ہے‘‘

چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خانہ کعبہ کو تمام طرح کی تصاویر اور آلائشوں سے پاک و صاف کیااور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ میں نماز پڑھی ،نماز کے بعد آپ نے اپنے جاں نثار صحابہ کی جماعت سے مخاطب ہوکر فرمایا جس کاخلاصہ اس طرح ہے’’خدائے واحد کے سوا کوئی خدا نہیں۔اور اُس کا کوئی شریک نہیں آج اس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا،اپنے بندے کی اس نے مدد کی اور تمام گروہوں کو اُس کے مقابلہ میں شکست دی۔

میں نے زمانہ جاہلیت کی تمام رسموں کو پاؤں تلے روند دیا ہے۔صرف بیت اللہ کی تولیت اور حاجیوں کو زم زم کاپلانا باقی رہیگا۔اے گروہ قریش تم کو اللہ نے زمانہ جاہلیت کے تکبر اور باپ دادا پر فخر کرنے سے منع فرمایا ہے۔

کل آدمی آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے پیدا ہوئے تھے۔خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ’’لوگو میں نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے،اور تمہارے قبیلے اور خاندان بنائے تاکہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچان سکو۔لیکن خدا کے نزدیک شریف وہ ہے کہ جو زیادہ پرہیز گار ہے۔اورخدا کو تمہارے ہر ہرعمل کی خبر ہے‘‘

جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ خطبہ ارشاد فرمارہے تھے تو مکہ کے ظالم و جابر لوگ گردنیں جھکائے آپ کے ارشادات گرامی کو سن رہے تھے یہ وہی لوگ تھے کہ جنہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ستانے اور آپ کی جماعت پر ظلم وستم ڈھانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی تھی۔

جس سے تنگ آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے وطن (مکہ)کوالوداع کہناپڑا تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تاریخی خطبہ مکمل فرماکرفرمایاکفار مکہ سے’’تم لوگوں کو معلوم ہے کہ میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں گا‘‘

کفار مکہ پر یہ سن کر لرزہ طاری ہوگیاجھکی نظروں اور دبی آواز میں کفارمکہ نے کہا’’اے اللہ کے سچے رسول ہم نے آپ کوہمیشہ رحم دل پایااور اب بھی ہم آپ سے رحم کی امید رکھتے ہیں‘‘

اہل مکہ کا یہ جواب سن کررحیم وکریم آقاصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’جاؤ آج تم سب آزاد ہوتم پر کوئی الزام نہیں‘‘وہ ظالم وجابر لوگ کہ جنہوں نے حضوراورمسلمانوں کو ستانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی تھی وہ سمجھ رہے تھے کہ اب ان کے قتل کا اعلان ہونے والا ہے ان کے گناہوں کی سزا اُن کو ملنے والی ہے۔

لیکن اللہ نے تو حضو صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمتہ اللعالمین بناکر اِس عالم میں مبعوث فرمایا ہے جب انہوں نے آقاعلیہ السلام کی زبان مبارک سے معافی کا اعلان سناتو ندامت سے اہل مکہ کے سر جھک گئے،

اس رحمت وشفقت کا اہل مکہ پر اتنا گہرا اثر پڑاکہ زیادہ تر لوگونے اسی وقت اسلام قبول کرلیا۔اس معافی کے اعلان کے بعد حضور کوہ صفا(پہاڑی)پر تشریف لے گئے،اورلوگو سے خدااور رسول کی اطاعت پر بیعت لیتے رہے۔اب وہ وقت بھی آگیا کہ خانہ کعبہ میں اللہ اور اس کے رسول کے نام کی صدائیں بلند ہوں جیسے ہی ظہر کی نماز کا وقت ہواتوتاجدار کائنات حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم کو دیاکہ خانہ کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اذان دیں۔

حضرت بلال نے آپ کے حکم کی تکمیل کرتے ہوئے اذان دی کہ جس سے خانہ کعبہ توحید کی آوازوں سے گونج اٹھا اور وہ خانہ کعبہ کہ جس میں ایک اللہ کے ماننے والوں کے داخلہ پر پابندی تھی،وہ خانہ کعبہ کہ جس میں ایک اللہ کے آگے سجدہ کرنے والوں کو سجدے کی اجازت نہیں تھی۔

لیکن آٹھ ہجری میں ایک انقلاب برپا ہوتا ہے اوروہ انقلاب اس دن سے لیکر آج تک برپاہے اور صبح قیامت تک انشااللہ برپا رہیگا۔یعنی 20 رمضان المبارک 8 ہجری کو خانہ کعبہ فتح ہوجاتاہے اور وہی خانہ کعبہ اُس دن سے لیکر آج تک لاکھوں کروڑوں،اربوں ،کھربوں مسلمانوں کی سجدہ گاہ بناہوا ہے اورتا قیامت انشااللہ بنا رہیگا۔اللہ رب العزت ہمیں بھی مذہب اسلام سے سچی عقیدت ومحبت نصیب فرمائے ۔آمین

متعلقہ خبریں

Back to top button