سرورقگوشہ خواتین و اطفال

محبت کی شادی کا انجام

شبیر احمد انصاری(مالیگائوں)
پسند کی شادی کرنے والے کی ماں سے اجتماعی زیادتی، شوہر کو اغوا کے جھوٹے مقدمے میں گرفتار کر لیا، پولیس مدد نہیں کر رہی۔ پسند کی شادی کرنے والی خاتون کو رشتے داروں نے اغوا کر لیا، پولیس بازیابی سے انکاری، بیوی کو کاری قرار دے کر قتل کیے جانے کا خدشہ ہے، پولیس حد بندی کے بہانے تراش کر بازیاب نہیں کر رہی، گل جان کو رشتے داروں نے اغوا کیا، عدالت نے شوہر کو ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی اجازت دے دی۔
والدین عمر رسیدہ شخص سے شادی کرانا چاہتے تھے، والدین نے فرسودہ رسموں اور ذات کی آڑ میں رشتہ دینے سے انکار کیا تھا۔ جس پر جوڑے نے کورٹ میرج کی اور خود مختاری حاصل کرنے کے لیے اعزازی مجسٹریٹ کے رو برو بیان دیا۔ مجسٹریٹ نے خود مختاری کی تصدیق کر کے پسند کی شادی کی اجازت دی۔
پاک پتن میں پسند کی شادی کرنے والا جوڑا قتل، گھر سے فرار ہو کر کورٹ میرج کرنے والے جوڑے کو لڑکی کے بھائی نے ساتھیوں سے مل کر فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ چارسدہ میں 7 سال بعد لڑکی کے رشتے داروں نے پسند کی شادی کرنے والے جوڑے اور ان کی بیٹی کو قتل کر دیا۔
ان جیسے اور بھی واقعات رونما ہوتے ہوں گے جو میڈیا کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ اس میں کلام نہیں کہ لو میرج نے ہمارے معاشرے میں مسائل پیدا کیے ہیں ۔ محبت کی شادی کا انجام اکثر لڑائی، مار کٹائی اور پھر طلاق پر پہنچنا ہوتا ہے جس کی وجہ سے نہ تو ہم مشرقی روایات کے پاس دار ہیں اور نہ ہی مغرب کی تقلید کر رہے ہیں۔

معاشرہ کھچڑی بن چکا ہے۔پسند کی شادیوں کا انجام ملاحظہ کریں!

پسند کی شادی کرنے والی 3 سہیلیاں شوہروں سے تنگ آ کر چند ماہ بعد ہی خلع کے لیے عدالت پہنچ جاتی ہیں۔ پہلی درخواست گزار بشریٰ موقف اختیار کرتی ہیں کہ اس کے خاوند پرویز نے اسے بتایا کہ وہ ایک اعلیٰ افسر ہے۔ جب کہ وہ سیلز مین نکلا۔ دوسری خاتون رضیہ نے کہا کہ اس کے شوہر بلال نے کہا کہ وہ اسے شہزادی بنا کر رکھے گا۔ لیکن اس نے نوکرانی بنا دیا۔
جب کہ تیسری خاتون کلثوم بی بی نے کہا کہ میرے شوہر عبدالغفور نے بڑے وعدے اور دعوے کیے تھے جو جھوٹے نکلے اور ان میں سے ایک بھی پورا نہیں ہو سکا۔ جب دو وقت کی روٹی میسر نہیں تو ساتھ رہ کر کیا کرنا ہے۔ ایک اور واقعہ یہ کہ درخواست گزار زاہد نے عدالت کو بتایا کہ اس نے پاک پتن کی رہائشی زوبیہ سے ریلوے اسٹیشن پر خفیہ شادی کی۔
بعد ازاں گھر والوں نے علم ہونے پر انھیں باضابطہ طور پر رخصت کیا۔ شادی کے بعد دونوں میاں بیوی کے درمیان جھگڑے شروع ہو گئے اور اس کی بیوی نے جہیز کی واپسی اور اپنے ماہانہ اخراجات کی وصولی کے لیے سول عدالت سے رجوع کر لیا۔ عدالت اس کی بیوی کو جہیز کی واپسی روکنے اور ماہانہ اخراجات کے مطالبے میں کمی کرنے کا حکم دے۔
جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت ذاتی معاملات میں مداخلت کا کوئی اختیار نہیں رکھتی نہ ہی اس حوالے سے کوئی حکم جاری کر سکتی ہے۔ مذکورہ بالا واقعات میں سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ ’’محبت اندھی نہیں ہوتی ہے‘‘ در حقیقت مرد نسوانی خوب صورتی کے دیوانے بنتے ہیں اور خواتین کی نظر ہمیشہ اعلیٰ حیثیت کے مردوں پر ہوتی ہے-
یعنی مرد حضرات کم پرکشش یا واجبی شکل والی خواتین پر کم توجہ دیتے ہیں جب کہ خواتین بھی کم حیثیت والے مردوں کے حوالے سے اس رویے کا اظہار کرتی ہیں اور جب شادی کے بعد ان کی تمنائیں پوری نہیں ہوتیں تو وہ محبت کو بھاڑ میں پھینک کر الگ ہو جاتے ہیں۔ یہی ہے آج کل کی محبت۔

متعلقہ خبریں

Back to top button