برطانیہ میں آلودہ خون سے علاج کا اسکینڈل
گزشتہ مہینے تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ کی جانب سے معاوضے کی جس رقم کا اعلان کیا گیا ہے
برطانیہ میں آلودہ خون سے علاج کے اسکینڈل کی تحقیقات کرنے والی انکوائری کمیٹی کے سر براہ سر برائن لینگ اسٹاف نے یہ فیصلہ سنایا ہے کہ اس اسکینڈل سے متاثر ہونے والے ہر مریض کو کم از کم ایک لاکھ پاؤنڈ ادا کیے جانے چاہئیں اور اس ہر جانے کی ادائیگی کسی تاخیر کے بغیر ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یہ تحقیقاتی رپورٹ متاثرہ افراد کو پہنچنے والی انتہائی شدید جسمانی اور ذہنی اذیت کے بارے میں ان کی شہادتوں کی سماعت اور تفتیش کے بعد تیار کی گئی ہے۔
یہ تحقیقاتی کمیٹی اس بارے میں حقائق معلوم کرنے کیلئے قائم کی گئی تھی کہ ہیموفیلیا اور خون کے رساؤ والی دیگر بیماریوں میں مبتلا ہزاروں مریض 1970ء اور 1980ء کی دہائیوں میں اس وقت ایڈز (ایچ آئی وی) اور ہیپاٹائٹس کے انفیکشن میں مبتلا ہوئے جب انہیں وہ خون چڑھایا گیا جو امریکہ میں قیدیوں، جسم فروشوں اور منشیات کے عادی افراد سے قیمت ادا کر کے حاصل کیا گیا تھا۔
اس اسکینڈل کے نتیجے میں تقریباً 2400 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور اسے برطانیہ کے سرکاری طبی ادارے ’’نیشنل ہیلتھ سروس کی تاریخ میں علاج کا بد ترین تباہ کن واقعہ قرار دیا جاتا ہے۔ 50 سال پرانے اس اسکینڈل کی آزادانہ تحقیقات کا اعلان 2017ء میں کیا گیا تھا اور شہادتوں کی سماعت 2019ء میں شروع ہوئی۔
اس ضمن میں مہم چلانے والی تنظیموں نے صحیح سمت میں درست قدم کی تعریف کی لیکن اس بارے میں تشویش ظاہر کی کہ اب بھی سینکڑوں کی تعداد میں متاثرہ افراد کے والدین یا بچے ایسے ہیں جنہیں ان ادائیگیوں کا مستحق نہیں سمجھا جائے گا۔
واضح رہے کہ 1970ء اور 1980ء کی دہائیوں میں تقریباً 30 ہزار برطانوی باشندے جن میں سے زیادہ تر ہیموفیلیا (ذراسی چوٹ لگنے پر بہت زیادہ خون بہنے کا موروثی مرض) کے مریض تھے اس وقت ایچ آئی وی (ایڈز) یا ہیپاٹائٹس سی میں مبتلا ہو گئے جب این ایچ ایس نے ان کا علاج امریکہ سے حاصل کردہ سستے اور جراثیم یا وائرس سے آلودہ خون سے کیا۔ اس آلودہ خون کی وجہ سے کم از کم 2400 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
گزشتہ مہینے تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ کی جانب سے معاوضے کی جس رقم کا اعلان کیا گیا ہے اس میں متاثرہ افراد کے والدین یا بچوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہزاروں خاندان انکوائری کے بعد بھی اس فیصلے کے منتظر ہیں کہ انہیں کس طرح معاوضہ ادا کیا جائے گا۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق آلودہ خون کے اسکینڈل کے اب بھی 4 ہزار سے زیادہ متاثرین زندہ ہیں جنہیں مجموعی طور پر 40 کروڑ پاؤنڈ کی ادائیگی کا تخمینہ لگا یا گیا ہے۔ سر برائن لینگ اسٹاف نے کہا ہے کہ بہت سے لوگ جو معاوضے کی ادائیگی کیلئے کسی زمرے میں شامل نہیں ہیں، وہ اس فیصلے سے مطمئن نہیں ہوئے ہوں گے جس کے لیے میں معذرت چاہتا ہوں لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ انکوائری ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے اور عبوری ادائیگیوں سے متعلق یہ مختصر رپورٹ حتمی نہیں ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ این ایچ ایس نے 1972ء میں امریکہ سے خون سے حاصل ہونے والی ایک پروڈکٹ Factor VIII بڑے پیمانے پر درآمد کرنی شروع کی تھی اور 1974ء میں ہی بعض ریسرچر ز نے خبر دار کر دیا تھا کہ خون میں شامل یہ پلازمہ آلودہ ہو سکتا ہے اور ہیپاٹائٹس پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے اس کے باوجود مریضوں کو یہ آلودہ خون دیا جاتا رہا۔



