حاجی ملنگ درگاہ کی ’آزادی‘ کے وزیر اعلیٰ شندے کے بیان پر تنازعہ
ٹرسٹی چندرہاس کیتکر نے کہا ، سیاسی مفاد کے حصول کیلئے کیا جا رہا دعویٰ
ممبئی،4 جنوری:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) مہاراشٹر کے وزیر اعلی ایکناتھ شندے نے یہ بیان دے کر تنازعہ کھڑا کر دیا ہے کہ وہ صدیوں پرانی حاجی ملنگ شاہ درگاہ کی آزادی کے لیے پرعزم ہیں۔ دائیں بازو کے گروہ اس درگاہ کو مندر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہ درگاہ ماتھیران کی پہاڑیوں پر ملنگ گڑھ قلعے کے قریب سطح سمندر سے 3000 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ یہاں یمن کے 12ویں صدی کے صوفی بزرگ حاجی عبدالرحمن کا مزار ہے، جنہیں مقامی لوگ حاجی ملنگ بابا کے نام سے جانتے ہیں۔ یہاں 20 فروری کو حاجی ملنگ کے یوم پیدائش کی خصوصی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔کلیان میں واقع صوفی بزرگ کی آخری آرام گاہ تک پہنچنے کے لیے دو گھنٹے کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ درگاہ کے ٹرسٹیوں میں سے ایک چندر ہاس کیتکر نے کہا کہ جو کوئی دعویٰ کر رہا ہے کہ حاجی ملنگ درگاہ ایک مندر ہے، وہ سیاسی فائدے کے لیے ایسا کر رہا ہے۔ چندر ہاس کیتکر کا خاندان گزشتہ 14 نسلوں سے اس درگاہ کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔
1980 کی دہائی کے وسط میں، مقامی شیوسینا رہنما آنند دیگے نے اس جگہ کو ناتھ فرقے سے تعلق رکھنے والا ایک قدیم ہندو مندر قرار دے کر درگاہ کی مخالفت شروع کی تھی۔چیف منسٹر ایکناتھ شندے نے تھانے ضلع میں ملنگ گڑھ ہرینام مہوتسو میں اپنے خطاب کے دوران کہا کہ میں ملنگ گڑھ کے تئیں آپ کے جذبات سے بخوبی واقف ہوں۔ یہ آنند دیگے تھے جنہوں نے ملنگ گڑھ کی آزادی کی تحریک شروع کی، جس سے ہم نے جئے ملنگ شری ملنگ کا نعرہ لگانا شروع کیا۔
تاہم، میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ کچھ معاملات ایسے ہیں جن پر عوامی سطح پر بات نہیں کی جاتی۔ میں ملنگ گڑھ کی آزادی کے بارے میں آپ کے گہرے یقین سے واقف ہوں۔ میں آپ کو بتاتا چلوں کہ ایکناتھ شندے اس وقت تک چپ نہیں بیٹھے گا جب تک وہ آپ کی خواہش پوری نہیں کر دیتا۔چندرہاس کیتکر کے مطابق، ’’1954 میں، حاجی ملنگ کے انتظام پر کیتکر خاندان کے کنٹرول سے متعلق ایک کیس میں، سپریم کورٹ نے تبصرہ کیا تھا کہ درگاہ ایک جامع ڈھانچہ ہے، جس پر ہندو یا مسلم قانون نہیں چل سکتا۔ یہ صرف اس کے اپنے مخصوص رسم و رواج یا ٹرسٹ کے مقرر کردہ اصولوں کے تحت چل سکتا ہے۔ پارٹیاں اور ان کے رہنما اب اسے صرف اپنے ووٹ بینک کو راغب کرنے اور سیاسی ایشو بنانے کے لیے اٹھا رہے ہیں۔



