ایڈیڈاس کے اشتہار سے فلسطینی نژاد ماڈل بیلا حدید کی تصویر ہٹانے پر تنازع
بیلا جدید جوتوں کے ایک اشتہار کا حصہ تھیں
دبئی،20جولائی :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) کھیلوں کے ساز و سامان کے معروف برانڈ Adidas نے فلسطینی نژاد امریکی سپر ماڈل بیلا حدید کو اپنی ایک تشہیری مہم سے الگ کیا ہے جس پر کمپنی تنقید کی زد میں ہے اور سوشل میڈیا پر بعض حلقے اس کے بائیکاٹ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق بیلا جدید جوتوں کے ایک اشتہار کا حصہ تھیں مگر ایڈیڈاس کی جانب سے انھیں اس کا حصہ بنانے پر کچھ اسرائیلی تنظیموں نے غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔جرمنی میں اسرائیلی سفارتخانے نے یہاں تک کہا تھا کہ بیلا حدید ماضی میں یہود مخالف خیالات پھیلاتی رہی ہیں اور انھوں نے لوگوں کو یہودیوں اور اسرائیلیوں کے خلاف تشدد پر اُکسایا ہے۔
تاہم ایڈیڈاس کا کہنا ہے کہ 1972 کے میونخ اولمپکس کے لیے ڈیزائن کیے گئے جوتوں سے متعلق ایک تشہیری مہم پر نظر ثانی کی گئی ہے۔ خیال رہے کہ 1972 کے اولمپکس کے دوران ایک حملے میں 11 اسرائیلیوں کی ہلاکت ہوئی تھی۔فلسطین کے پراپرٹی ٹائیکون محمد انور حدید کی بیٹیاں بیلا حدید اور جیجی حدید فلسطین میں جاری جنگ میں متاثر ہونے والے افراد کے لیے آواز اٹھانے میں پیش پیش رہی ہیں۔مئی میں ایک انسٹاگرام پوسٹ میں بیلا نے کہا تھا کہ وہ فلسطینی عوام کے جانی و مالی نقصان اور دنیا بھر کی حکومتوں کی طرف سے ہمدردی کے فقدان پر دل گرفتہ ہیں۔
جرمنی میں قائم اسپورٹس ویئر کمپنی ایڈیڈاس نے کہا کہ بیلا حدید کی شمولیت پر اسرائیلی تنقید کے بعد وہ اپنی مہم پر نظر ثانی کر رہی ہے۔خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق کمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ ہم اس بات سے آگاہ ہیں کہ المناک تاریخی واقعات سے روابط بنائے گئے ہیں، حالانکہ یہ مکمل طور پر غیر ارادی ہیں اور ہم کسی پریشانی یا تکلیف کے لیے معذرت خواہ ہیں۔کمپنی نے سنہ 1972 کے ایک جوتے ’ایس ایل 72‘ کو اپنی کمپنی کا تیار کردہ ایک لازوال کلاسک ڈیزائن قرار دیا ہے۔ اس کی تازہ کلیکشن میں بیلا حدید کو بطور ماڈل رکھا گیا تھا لیکن اب اسرائیل کی جانب سے سخت تنقید کے بعد بیلا حدید کو کمپین سے ہٹا دیا گیا ہے۔
اسرائیل کی وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پر اس مہم میں بیلا حدید کے ہونے پر شدید تنقید کی ہے جبکہ یہودی امریکی کمیٹی نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں اسے ایڈیڈاس کی سنگین غلطی کہا ہے اور اسے دور کرنے کا مطالبہ کیا۔اس ٹویٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایڈیڈاس نے اولمپکس کو یاد کرنے کے لیے اسرائیل مخالف ماڈل کو چننے میں یا تو بہت بڑی بھول کی ہے یا یہ دانستہ اشتعال انگیزی ہے اور دونوں ہی ناقابل قبول ہے۔ایڈیڈاس نے 1972 کے اولمپکس کو یاد کرتے ہوئے جو اشتہار اپنے تمام پلیٹ فارمز کے ساتھ ساتھ نیویارک میں ٹائمز سکوائر کے بل بورڈ پر لگایا تھا اس میں حدید کو ٹرینرز پہنے ہوئے گل دستے کے ساتھ دکھایا گیا تھا۔تنظیم کمبیٹ اینٹی سیمیٹزم موومنٹ کی چیف ایگزیکٹیو سچا روئٹ مین نے کہا کہ اس اولمپکس تقریب میں یہودیوں کا اتنا خون بہایا گیا اور اب اسی کی تشہیر کے لیے بیلا حدید کا انتخاب کیا گیا۔



