ممبئی، 8ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ممبئی دھماکہ کے مجرم قرار دے تختۂ دار پر چڑھائے جانے والے مرحوم یعقوب میمن کی قبر پر تنازع شروع ہو گیا ہے۔ یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب بتایا گیا کہ یعقوب میمن کی قبر کو سجایا گیا ہے اور اسے ایک مزار میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ یہ قبر بڑے قبرستان میں موجود ہے۔ اس سارے معاملے پر بڑے قبرستان کے ٹرسٹی شعیب خطیب نے کہا کہ یہ خبر درست نہیں ہے۔خبر کے مطابق بی ایم سی کمشنر اقبال چہل نے کہا کہ بڑا قبرستان ہمارے یعنی بی ایم سی کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، جس کی وجہ سے ہم اس پر کوئی کارروائی یا تحقیقات نہیں کر سکتے۔ یہ ایک نجی مسلم ٹرسٹ کا قبرستان ہے۔
ممبئی میں کئی قبرستان ہیں جو بی ایم سی کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، اگر ایسا کوئی قبرستان ہوتا تو ہم اس کا تفصیلی جائزہ لیتے۔ یہ بڑا قبرستان ہے جو ممبئی ٹرسٹ کی جامع مسجد کے نام ہے۔اس سارے معاملے پر بڑے قبرستان کے ٹرسٹی شعیب خطیب نے کہا کہ یہ خبر صحیح نہیں ہے۔ یہ روشنی شب برأت کے دن کی ہیں۔ یہاں پر اس قبر کے علاوہ 17 اور قبریں ہیں اور اس قبر پر ماربل سات سال پہلے لگایا گیا تھا۔ اب جو خبریں پھیلائی جا رہی ہیں وہ سب غلط ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ لائٹس غسل خانے کی وجہ سے لگائی گئی ہیں۔ یعقوب میمن کے لیے کوئی خاص کام نہیں کیا گیا۔
یہاں میمن کی قبر کے قریب ایک درخت گر گیا تھا جس کے بعد ان کے اہل خانہ نے ان کی قبر کی مرمت کی اجازت مانگی تھی جو ہم نے دے دی تھی۔ وہاں لائٹ کسی اور وجہ سے لگائی گئی ہے، یعقوب میمن کے لیے نہیں لگائی گئی ہیں۔خبر کے مطابق پولیس کی تفتیش میں پتہ چلا ہے کہ یہ لائٹس 18 مارچ 2022 کو لگائی گئی تھیں اس دن شب بر أت تھی۔ اس دن لوگ اپنے آباؤ اجداد کی قبروں پر جا کر فاتحہ پڑھتے ہیں تاکہ مرحوم سے جو بھی گناہ سرزد ہوئے ہیں وہ معاف ہو جائیں۔ یہ روشنیاں باقی دن استعمال نہیں ہوتیں۔ فی الحال اس معاملے میں پولیس نے تفتیش شروع کر دی ہے۔
یعقوب میمن کی قبر پرماربل لگانے والوں کوسزا دی جائے: نونیت رانا
ممبئی، 8ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) سنہ1993 میں ممبئی میں ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکہ میں سیکڑوں افرادہلاک ہوئے تھے۔سلسلہ وار بم دھماکہ کے مجرم یعقوب میمن کی قبر پر ماربل لگائے جانے کے بعد سے سیاست گرم ہو گئی ہے۔بی جے پی نے کہا ہے کہ ایسا کرنے والے کو یعقوب میمن کی طرح سزا ملنی چاہیے۔ پارٹی نے مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے، این سی پی لیڈر شرد پوار اور کانگریس پارٹی لیڈر راہل گاندھی سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔مہاراشٹر سے بی جے پی کے حامی آزاد ایم پی نونیت رانا نے کہا کہ جن لوگوں نے 1993 کے بم دھماکے کے مجرم یعقوب میمن کی قبرپرماربل لگایا اور لائٹنگ لگائی ان کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا جائے گا جیسا کہ یعقوب کے ساتھ کیا گیا تھا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مہا وکاس اگھاڑی کی حکومت نے ان لوگوں کو چھوٹ دی اور انہوں نے ایسی حرکت کی۔نونیت رانا نے کہا کہ جب تک مہاراشٹر میں بی جے پی کی حکومت تھی تب تک قبر پر اس طرح کی سجاوٹ کرنے کی ہمت کسی میں نہیں تھی۔ یہ مہا وکاس اگھاڑی کی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد ہوا ہے۔یہ معاملہ سامنے آنے اور قبر کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر ہونے کے بعد ممبئی پولیس نے لائٹنگ ہٹا دی اور لائٹنگ لگانے والوں کے بارے میں معلومات حاصل کررہی ہے۔
حالانکہ قبر کی دیکھ بھال کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یعقوب کی قبر کے اردگرد بہت سے دوسرے لوگوں کی قبریں ہیں۔ وہاں اور بھی بہت سے لوگ آتے ہیں۔ اس لیے وہاں لائٹس لگائی گئی ہیں۔ بتیاں شام کو ہی جلتی ہیں۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ یعقوب کے خاندان کے دیگر افراد بھی وہاں دفن ہیں، اس لیے دیگر لوگوں کی قبروں پر لائٹس لگائی گئی ہیں۔تاہم سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصاویر میں یعقوب کی قبر پر ماربل کی کوٹنگ صاف نظر آرہی ہے۔
اب معاملہ گرم ہوتے ہی سیاسی جماعتوں کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ جہاں بی جے پی اس کے لیے مہا وکاس اگھاڑی حکومت کو مورد الزام ٹھہرا رہی ہے وہیں اپوزیشن پارٹی کا کہنا ہے کہ جب 2015 میں یعقوب کو پھانسی دی گئی تھی تو انکی نعش گھر والوں کو کیوں دی گئی تھی۔



