
تبدیلی مذہب کے لیے مجسٹریٹ سے اجازت کی ضرورت نہیں گجرات ہائی کورٹ کا ’لو جہاد قانون‘ پر فیصلہ برقرار
اصل لڑائی، شخصی آزادی بچانے کی ہے ، اگر حکومت سپریم کورٹ جائے گی تو جمعیۃ بھی سپریم کورٹ جائے گی ، بہر صورت آئین کی حفاظت کی جائے گی : مولانا محمود مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند
نئی دہلی27اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)جمعیۃ علماء ہند کی عرضی پر گجرات ہائی کورٹ نے گزشتہ ہفتے ریاست کے #لو #جہاد #قانون کی اہم دفعات (3 ، 4 ، 5 اور 6) پر روک لگا دی تھی۔ اس روک کو ہٹانے کے لیے جمعرات کو دوبارہ ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی ، چنانچہ #کورٹ نے پبلک پراسیکیوٹر کی جانب سے دفعہ 5 پرا سٹے ہٹانے کی درخواست خارج کردی او رکہا کہ تبدیلی #مذہب کے لیے مجسٹریٹ کی اجازت ضروری نہیں ہے ۔ سرکاری درخواست کی جمعیۃ #علماء ہند کی طرف سے سینئر ایڈوکیٹ مہرجوشی نے شدت سے مخالفت کی او رکہا کہ سرکار لوگوں کی ِذاتی زندگی میں مداخلت کررہی ہے ، وہ چاہتی ہے کہ جب کوئی شادی کرے تو اسے جیل میں بند کردیا جائے او ر اس وقت تک نہ چھوڑ ا جائے جب کہ تک سرکار کو اطمینان نہ ہوجائے کہ شادی میں کوئی زبردستی یا لالچ نہیں تھی ، یعنی شادی کی ابتدائی زندگی کو سرکار جہنم بنانا چاہتی ہے ۔
ایڈوکیٹ مہر جوشی نے یہ بھی استدلال کیا کہ اگر ایکٹ کی دفعہ 5 پر حکم امتناعی باقی نہیں رکھا گیا تو عدالت کا مکمل فیصلہ بے معنی اور بے حیثیت ہو کر رہ جائے گا ۔ایڈوکیٹ جنرل نے دعوی کیا کہ سیکشن 5کا شادی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ،بلکہ یہ جنرل حکم ہے کہ ہر کوئی شخص جو مذہب تبدیل کرنا چاہتاہے اسے اجازت کی ضرورت ہوگی ، عدالت نے جواب دیا کہ19 اگست کو منظور کردہ آرڈر تبدیل کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی،کیوں کہ ہم نے اسے محض شادی کے تناظر میں دیکھا ہے اور اس کے مطابق ہی فیصلہ دیا ہے۔
عدالت میں جمعیۃ علما ء ہند کے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ عیسی حکیم اور محمد طاہر حکیم بھی موجود تھے، اس مقدمہ کی مکمل پیروی جمعیۃ علماء گجرات کررہی ہے، جمعیۃ علماء گجرات کے جنرل سکریٹری پروفیسر نثار احمد انصاری اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں ۔عدالت کے آج کے فیصلے پر جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا محمود مدنی نے کہا کہ اصل لڑائی آئین میں حاصل شخصی آزادی کی بقاکی ہے۔ا گر اس فیصلے کے خلاف گجرات سرکار ،سپریم کورٹ جائے گی تو ہم بھی جائیں گے، انھوں نے کہا کہ ہمارے ملک کے آ ئین میں اپنے مذہب اور عقیدے کے ساتھ ہر شخص کو جینے کا حق حاصل ہے، لیکن حال میں کچھ ریاستوں نے اس پر قد غن لگانے کی کوشش کی ہے ۔
اس فیصلے سے نہ صرف گجرات سرکار کے’ لو جہاد قانون ‘کی دستوری حیثیت پر سوالیہ نشان لگادیا ہے بلکہ اس کا اثر تمام متعلقہ ریاستوں پر پڑے گا، سرکار نے اس قانون میں ایسی شقیں رکھی ہیں جن سے فرقہ پرست عناصر کو موقع ملتاہے کہ ہر کسی ایسے شخص کو ڈرائے جس نے مرضی سے شادی کی ہے ، کیوں کہ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا بوجھ بھی ملزم پر ہے ۔



