تلنگانہ کی خبریں

خوردنی تیل پٹرول و ڈیزل سے بھی مہنگا

تلنگانہ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ملک میں ایک جانب جہاں کورونا کا قہر ہے اور لوگ پریشان ہیں ، غریب و متوسط طبقہ زیادہ فکرمند ہے وہیں دوسری جانب مہنگائی عروج پر ہے ۔ خوردنی تیل جس کو میٹھا تیل بھی کہا جاتا ہے ، دن بہ دن مہنگا ہوتا جارہا ہے اور عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہوگیا ہے ۔ مثال کے طور پر مشہور برانڈ گولڈ ڈراپ کی بات کریں تو سال گذشتہ مئی یعنی 2020 میں 5 کیلو تیل کے گیالن کی ایم آر پی 599/- روپئے تھی اور رواں سال مئی میں ایم آر پی 1082 روپئے تک جا پہنچی ہے۔

پکوان تیل اب عام آدمی کی پہونچ سے باہر ہوگیا ۔ تصویر میں آپ صاف طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ گذشتہ سال اس کی قیمت 599/- تھی اور اب 1082/- روپئے ہوگئی ۔ ضروری اشیاء کی قیمتیں بڑھنے سے غریب اور متوسط لوگ حد سے زیادہ متفکر ہیں ۔ سوشل میڈیا پر اس پر ہنگامہ ہے ۔ صارفین پریشان ہیں اور لکھ رہے ہیں کہ مہنگائی کے دور میں مشکل ترین حالات کا سامنا ہے ۔ملک میں ایک جانب پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں دن بہ دن بڑھتی جارہی ہیں ۔

خود حیدرآباد میں پٹرول و ڈیزل 100/- کے قریب پہنچ گیا جو تشویش کی بات ہے اور دوسری جانب پکوان تیل کی قیمت فی لیٹر 170/- تا 200/- روپئے پہنچ گئی ہے ۔ سوشل میڈیا خاص طور پر ٹوئیٹر صارفین کا کہنا ہے کہ ’پٹرول اور ڈیزل تو صرف لڑتے رہ گئے ۔ بازی میٹھا تیل مار لے گیا‘۔ کیا مرکزی اور ریاستی حکومتیں اس جانب توجہ دیں گی ؟ ٹیکس میں کمی کرکے عام آدمی کیلئے راحت پہنچائی جائیگی ؟ اور کیا تیل کمپنیوں پر قیمت میں کمی کیلئے دباؤ ڈالا جاسکتا ہے یہ ایک بڑا سوال ہے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button