
ٹیکہ اندازی کو تیز کیے جانے پر ہنوز جانی نقصانات اور تشویشناک صورتحال پر قابو پانا ممکن
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کورونا وائرس کی تیسری لہر جاریہ دوسری لہر کی طرح خطرناک ثابت ہوسکتی ہے لیکن طبی سہولتوں میں اضافہ اور زیادہ سے زیادہ شہریوں کو ٹیکہ اندازی کے ذریعہ کورونا وائرس کی تیسری لہرکے دوران جانی نقصانات اور تشویشناک صورتحال پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ کورونا وائرس کی تیسری لہر کے سلسلہ میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے ماہرین نے دنیا بھر کے اعداد و شمار کا جائزہ لینے کے بعد جاری کردہ ایک رپورٹ میں اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ تیسری لہر مزید تشویشناک صورتحال پیدا کرسکتی ہے۔
کورونا وائرس کی پہلی لہر 98 دن پر مشتمل رہی جبکہ دوسری لہر 108 دن تک جاری رہی اور دنیا بھر کے کئی ممالک میں یہی صورتحال دیکھی جا رہی ہے ۔اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی جانب سے تیار کردہ تحقیقی رپورٹ میں دنیا کے مختلف ممالک میں کورونا وائرس کی پہلی اور دوسری لہر کے علاوہ ماہرین کے تیسری لہر کے انتباہ کو نظر میں رکھتے ہوئے تیار کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تیسری لہر کے لئے ہندستان کو بہتر انداز میں تیاری کرنی چاہئے کیونکہ تیسری لہر کے مزید خطرناک ثابت ہونے کے خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں۔
کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کے سلسلہ میں جو تفصیلات جاری کی گئی ہیں ان کے مطابق جاریہ سال مارچ کے اختتام تک 1لاکھ 62ہزار افراد کی موت واقع ہوچکی تھی اور اس کے بعد اندرون دو ماہ فوت ہونے والوں کی تعداد دوگنی ہوچکی ہے اور ملک بھر میں کورونا وائرس سے فوت ہونے والوں کی تعداد 3لاکھ 30ہزارسے تجاوز کرچکی ہے۔
ہندستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران طبی سہولتوں اور آکسیجن کی قلت جیسے مسائل نے ہر کسی کی توجہ حاصل کی اورتیسری لہر سے قبل اگر ان امور کو حل کرلیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں تیسری لہر کے دوران شدید نقصانات سے محفوظ رہنے کے اقدامات کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر تیسری لہر سے قبل ٹیکہ اندازی میں تیزی لائی جاتی ہے اور طبی سہولتوں کو بہتربنانے کے اقدامات کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں حالات تبدیل ہوسکتے ہیں اور دوسری لہر میں وائرس کی جو شدت رہی اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
ملک بھر میں فی الحال صرف 3.2 فیصد آبادی ایسی ہے جو کہ مکمل طور پر ٹیکہ حاصل کرچکی ہے یعنی دونوں خوراک انہیں دیئے جاچکے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ ٹیکہ اندازی کو تیز کئے جانے اور زیادہ سے زیادہ افراد کو ٹیکہ دیئے جانے کی صور ت میں ملک بھر میں کورونا وائرس سے فوت ہونے والوں کی تعداد کو 40ہزار تک محدود کیا جاسکتا ہے جبکہ دوسری لہر کے دوران کورونا وائرس سے فوت ہونے والوں کی تعداد 1.7لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔



