دبئی: (ایجنسیاں) مشرقِ وسطیٰ میں متعین دو امریکی جنگی بحری جہازوں میں کورونا وبا پھیلنے کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ امریکی عسکری انتظامیہ نے ان دونوں بحری جہازوں کو واپس خلیجی ریاست بحرین طلب کر لیا ہے۔امریکی بحری جہاز یو ایس ایس سان ڈیاگو ایک سامان بردار فوجی بحری جہاز ہے اور اس کے عملے شامل درجنوں سیلرز کے کورونا ٹیسٹس مثبت آئے ہیں۔
ان جہازوں کا تعلق ہانچویں امریکی نیول بیڑے سے ہے۔ اس بیڑے کا ہیڈکوارٹرز خلیج فارس کی ریاست بحرین میں قائم ہے۔امریکی پانچویں بحری بیڑے کی ترجمان کمانڈر ربیکا ریبیرش نے بتایا ہے کہ ان بحری جہازوں کے عملے میں وائرس کی موجودگی تشخیص ہونے کے بعد انہیں عملے سمیت واپس بلا لیا گیا ہے۔ دوسرا بحری جہاز یو ایس ایس فلپائن سی گائیڈڈ کروز میزائلوں سے لیس ہے۔
خاتون ترجمان نے اس بحری جہاز پر بھی موجود عملے کے کئی اراکان میں کورونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق کی۔کمانڈر ربیکا ریبیرش کا کہنا ہے کہ وائرس کی تشخیص کے بعد تمام متاثرین کو بقیہ عملے سے علیحدہ کر دیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق ان دونوں بحری جہازوں کی مجموعی حالت بظاہر تشویشناک قرار دی جا سکتی ہے۔ ففتھ فلیٹ کی ترجمان کے مطابق میزبان ملک بحرین کے طبی عملے کے تعاون اور ضروری امداد سے صورت حال کو کنٹرول میں لانے کی کوشش شروع کر دی گئی ہیں۔
بحرین کی وزارتِ صحت نے امریکی بحری جنگی جہازوں کو ہر قسم کی طبی سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔مشرقِ وسطیٰ کے وسیع سمندری علاقے میں امریکی ففتھ فلیٹ نگرانی کا سلسلہ کئی برسوں سے جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس بیڑے میں شامل یو ایس ایس سان ڈیاگو پر چھ سو سیلرز اور میرینز کو تعینات کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب گائیڈڈ کروز میزائل کا حامل یو ایس ایس فلپائن سی تین سو اسی سیلرز کو لے کر سمندری نگرانی میں شریک ہے۔ ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا کہ ان فوجیوں کو واپس امریکا روانہ کرنے کا بھی کوئی منصوبہ ہے۔
امریکی بحری فوج کے پانچویں بیڑے کی نگرانی میں بحیرہ احمر، بحیرہ اسود، بحر ہند کے علاوہ خلیج فارس اور بنائے ہرمز بھی شامل ہیں۔ یہ امر اہم ہے کہ بنائے ہرمز سے دنیا کی بیس فیصد تیل کی تجارت ہوتی ہے۔




