قومی خبریں

سی پی رادھا کرشنن ہندوستان کے نائب صدر منتخب

این ڈی اے امیدوار سی پی رادھا کرشنن کو 452 ووٹ ملے

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مہاراشٹر کے گورنر سی پی رادھا کرشنن کو ہندوستان کا نیا نائب صدر منتخب کر لیا گیا ہے۔ نائب صدر کے سترہویں انتخاب میں 788 اراکین کو ووٹ دینے کا اختیار تھا جن میں سے 781 نے حصہ لیا، جس سے ووٹنگ کا تناسب 98.2 فیصد رہا۔مجموعی طور پر 767 ووٹ ڈالے گئے، جن میں 15 ووٹ ’غیر درست‘ قرار دیے گئے اور 752 ووٹ قابل قبول شمار ہوئے۔ ووٹوں کی گنتی کے بعد این ڈی اے امیدوار سی پی رادھا کرشنن کو 452 ووٹ ملے، جبکہ ان کے حریف بی سدرشن ریڈی نے 300 ووٹ حاصل کیے، اس طرح رادھا کرشنن نے 152 ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی۔

بی جے ڈی ، بی آر ایس اور اکالی دل نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا ۔ راجیہ سبھا کے سکریٹری اور الیکٹورل آفیسر پی سی مودی نے سی پی رادھا کرشنن کی کامیابی کا باضابطہ اعلان کیا اور بتایا کہ نائب صدر کے انتخاب کے لیے 7 اگست کو نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ مجموعی طور پر 68 نامزدگیاں موصول ہوئیں، جن میں صرف سی پی رادھا کرشنن اور بی سدرشن ریڈی کی نامزدگیاں درست پائی گئیں۔صدر دروپدی مرمو ، وزیراعظم نریندر مودی ، سی پی پی لیڈر سونیا گاندھی ، اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی و دیگر نے نو منتخب نائب صدر کو مبارکباد کے پیام بھیجے ہیں ۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے سی پی رادھا کرشنن کو کامیابی کے بعد مبارکباد دی اور کہا کہ سماج کی نچلی سطح سے اْٹھنے والے ایک لیڈر کی حیثیت سے رادھا کرشنن کی دور اندیشی اور انتظامی جانکاری ہماری پارلیمانی جمہوریت کے لیے فائدہ مند ہوگی۔

سنگھ کارکن سے نائب صدر کے عہدہ تک سی پی رادھا کرشنن کا سفر

چندرپورم پونّوسامی رادھا کرشنن، تمل ناڈو کی سیاست کا ایک معتبر نام ہیں جنہوں نے جنوبی ہند میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو مضبوط کرنے اور پارٹی کے پرچم کو بلند کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ عوامی زندگی میں ان کا تجربہ پچاس برس سے زیادہ پر محیط ہے، جو سیاست، انتظامیہ اور سماجی خدمت کے مختلف شعبوں پر محیط ہے۔

رادھا کرشنن 4 مئی 1957 کو تمل ناڈو کے ضلع تروپور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے بزنس ایڈمنسٹریشن میں گریجویشن کیا اور اپنی تعلیم کے زمانے میں کھیلوں میں بھی سرگرم رہے۔ وہ ٹیبل ٹینس کے کالج چیمپیئن اور لمبی دوڑ کے کھلاڑی رہے، جبکہ کرکٹ اور والی بال سے بھی گہری دلچسپی رکھتے تھے۔

رادھا کرشنن نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز 1974 میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے کارکن کے طور پر کیا اور جلد ہی بھارتی جن سنگھ کی ریاستی عاملہ کے رکن منتخب ہوئے۔ بی جے پی کی تشکیل کے بعد وہ تمل ناڈو میں پارٹی کے سرگرم رہنما بن گئے اور 1996 میں ریاستی سکریٹری کے طور پر ذمہ داری سنبھالی۔

1998 میں رادھا کرشنن پہلی بار کوئمبٹور سے لوک سبھا کے رکن منتخب ہوئے اور 1999 میں دوبارہ کامیابی حاصل کی۔ بطور رکن پارلیمان انہوں نے پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے ٹیکسٹائل کی سربراہی کی اور پبلک سیکٹر انٹرپرائزز اور مالیاتی مشاورتی کمیٹی کے بھی رکن رہے۔ اسٹاک ایکسچینج گھپلے کی تحقیقات کرنے والی خصوصی کمیٹی میں ان کا کردار خاص طور پر اہم رہا۔

2004 میں وہ بھارتی پارلیمانی وفد کے رکن کے طور پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے گئے اور ہندوستان کے پہلے پارلیمانی وفد کے ساتھ تائیوان کا بھی دورہ کیا۔ 2004 سے 2007 تک وہ بی جے پی تمل ناڈو کے ریاستی صدر رہے۔

رادھا کرشنن نے انتظامی سطح پر بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ 2016 میں انہیں کوچی کے کوائر بورڈ کا چیئرمین مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے چار سال تک خدمات انجام دیں۔ فروری 2023 میں انہیں جھارکھنڈ کا گورنر مقرر کیا گیا اور بعد ازاں 31 جولائی 2024 کو مہاراشٹرا کے گورنر کے طور پر حلف اٹھایا۔ اس کے علاوہ وہ تلنگانہ کے گورنر اور پڈوچیری کے نائب گورنر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

سیاست اور انتظامیہ کے ساتھ ساتھ رادھا کرشنن کو کھیلوں سے ہمیشہ دلچسپی رہی ہے۔ اپنے طالب علمی کے زمانے میں وہ کھیلوں کے میدان میں سرگرم رہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی سمیت کئی ممالک کے سرکاری دورے بھی کیے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button