قومی خبریں

سی پی رادھاکرشنن نے بطور پندرھویں نائب صدر ہند عہدہ سنبھالا

تقریب میں وزیراعظم مودی اور اعلیٰ قیادت کی شرکت

نئی دہلی 12/ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما سی پی رادھاکرشنن نے جمعہ کے روز بھارت کے پندرھویں نائب صدر کے طور پر عہدہ سنبھالا۔ یہ تقریب راشٹرپتی بھون میں منعقد ہوئی جہاں صدر دروپدی مرمو نے انہیں حلف دلایا۔

اس موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، وزیر داخلہ امت شاہ، بی جے پی صدر جے پی نڈا، وزیر ٹرانسپورٹ نتن گڈکری سمیت کئی مرکزی وزراء اور اعلیٰ شخصیات شریک ہوئیں۔ تقریب کے لیے 12 ستمبر کی صبح کو منتخب کیا گیا جسے پجاری نے "شبھ مہورت” قرار دیا تھا۔

تقریب میں شرکت کے لیے مختلف ریاستوں سے سیاسی رہنما دہلی پہنچے۔ اڑیسہ کے وزیر اعلیٰ موہن چرن ماجھی، آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندرا بابو نائیڈو، مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو، پنجاب کے گورنر گلاب چند کٹاریہ، جھارکھنڈ کے گورنر سنتوش گنگوار اور کرناٹک کے گورنر تھاورچند گہلوت بھی موجود تھے۔

انتخابی عمل میں سی پی رادھاکرشنن نے زبردست کامیابی حاصل کی۔ انہیں 452 ووٹ ملے جبکہ اپوزیشن امیدوار اور سابق جج بی سدھیرشن ریڈی کو 300 ووٹ ملے۔ کل 781 میں سے 767 ارکان پارلیمنٹ نے ووٹ ڈالے، جن میں سے 752 درست قرار دیے گئے۔ اس طرح پہلے ترجیحی ووٹوں کی اکثریت کے لیے 377 ووٹ درکار تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ NDA کو کاغذ پر 427 ووٹوں کی حمایت حاصل تھی لیکن 11 ایم پیز وائی ایس آر سی پی کے بھی ساتھ آئے۔ نتیجتاً رادھاکرشنن کو 14 زائد ووٹ ملے جس سے اپوزیشن کیمپ میں کراس ووٹنگ کے اشارے ملے۔ دوسری طرف 13 ارکان نے ووٹ ڈالنے سے اجتناب کیا جن میں بی جے ڈی کے 7، بی آر ایس کے 4، اکالی دل کے ایک اور ایک آزاد رکن شامل تھے۔

سی پی رادھاکرشنن ایک کہنہ مشق رہنما ہیں۔ وہ دو مرتبہ لوک سبھا میں کوئمبتور سے منتخب ہوئے، بی جے پی تمل ناڈو کے صدر بھی رہ چکے ہیں، اور حالیہ برسوں میں مہاراشٹر اور جھارکھنڈ کے گورنر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ تلنگانہ کے گورنر اور پڈوچیری کے لیفٹیننٹ گورنر کا اضافی چارج بھی سنبھال چکے ہیں۔

ان کے نائب صدر کے طور پر منتخب ہونے کے بعد راجیہ سبھا کی قیادت میں نیا باب کھل گیا ہے اور توقع ہے کہ ان کا طویل سیاسی تجربہ ایوان کی کارروائی کو مزید مؤثر بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button