تلنگانہ کی خبریں

کریڈٹ کارڈس کا غیر ضروری استعمال اور ایپس سے قرض کا حصول وبالِ جان

نوجوانوں کو کارڈ اور قرض کے حصول سے چوکنا رہنا ضروری، علماء فوری توجہ دیں

کریڈٹ کارڈس اور قرض ایپس کا بڑھتا رجحان نوجوانوں کے لیے خطرہ

حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) کریڈٹ کارڈس کا غیر ضروری استعمال اور موبائل ایپس کے ذریعہ بہ آسانی فراہم کیا جانے والا قرض دونوں ہی نوجوانوں کے لئے وبالِ جان بنتے جا رہے ہیں۔ یہ قرض بظاہر آسانی سے مل جاتے ہیں، لیکن ان کی وصولی کے لئے کی جانے والی مسلسل فون کالس اور ہراسانی کئی نوجوانوں کے لئے ذہنی اذیت اور بعض معاملات میں جان لیوا بھی ثابت ہوچکی ہے۔ اسی لئے نوجوانوں کو کریڈٹ کارڈ کے استعمال اور فوری قرض فراہم کرنے والی ایپس سے چوکنا و چوکس رہنے کی سخت ضرورت ہے۔

ماہِ رمضان المبارک کے دوران اخراجات میں اضافے کے سبب ایسی ایپس کے ذریعہ قرض حاصل کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ علماء کرام بالخصوص ذمہ دارانِ ملت اسلامیہ کی بااثر شخصیات کو اس سنگین مسئلہ پر فوری توجہ مرکوز کرتے ہوئے نوجوانوں میں شعور بیدار کرنے کے اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ وہ اس لعنت کا شکار ہونے سے محفوظ رہ سکیں۔ بظاہر آسانی سے ملنے والا یہ قرض نہ صرف نوجوانوں کو مالی مشکلات میں مبتلا کرتا ہے بلکہ سودی نظام کا حصہ بننے پر بھی مجبور کرتا ہے۔

اخراجات کی تکمیل کے لئے فوری قرض یا کریڈٹ کارڈ کا استعمال عام ہوتا جا رہا ہے۔ قومی سطح پر انسدادِ خودکشی اور ذہنی تناؤ کے شکار افراد کے لئے قائم ہیلپ لائن پر سال 2025 کے دوران موصول ہونے والی کالس میں سے 24 فیصد سے زائد کالس ایسے افراد کی تھیں جو چھوٹے ڈیجیٹل قرض کی وصولی سے پریشان تھے۔ یہ قرض عموماً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے حاصل کئے گئے تھے۔

قرض حاصل کرتے وقت نوجوان صرف اپنی فوری ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہیں اور انجام کی پرواہ نہیں کرتے۔ بعد ازاں قرض کی واپسی کے لئے نہ صرف مسلسل فون کالس کے ذریعہ ہراساں کیا جاتا ہے بلکہ بعض اوقات رشتہ داروں سے بھی رابطہ کر کے قرض دار کو رسوا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ڈیجیٹل قرض فراہم کرنے والے اداروں کے غیر قانونی طریقۂ وصولی سے ہر کوئی واقف ہے، لیکن اس کے باوجود وہ اپنی رقم کی وصولی کے لئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔

ماہِ رمضان المبارک کے دوران بڑھتے ہوئے اس رجحان پر قابو پانے کی اشد ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو بھاری سود پر قرض فراہم کرنے والی ڈیجیٹل ایپس سے دور رہنے کی ترغیب دی جائے اور انہیں یہ باور کرایا جائے کہ کریڈٹ کارڈ کے غیر ضروری استعمال اور بروقت ادائیگی نہ کرنے کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ وقتی خوشی یا عارضی ضرورت کی تکمیل کے بجائے کفایت شعاری اور ذمہ دارانہ مالی منصوبہ بندی کو ترجیح دینا ہی دانشمندی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button