
"49 سال بعد عدالت میں اعتراف: میں نے 150 روپے کی گھڑی چوری کی تھی!”
کنہیا لال نے 49 سال بعد 150 روپے کی گھڑی چوری کا اعتراف کیا
جھانسی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اترپردیش کے ضلع جھانسی سے ایک ایسا حیران کن مقدمہ سامنے آیا ہے جس نے سب کو چونکا کر رکھ دیا۔ ایک چوری کا کیس جو تقریباً نصف صدی تک عدالت میں چلتا رہا، بالآخر اس وقت اپنے انجام کو پہنچا جب ملزم نے خود عدالت میں کھڑے ہو کر کہا: "ہاں، میں نے 150 روپے کی گھڑی چوری کی تھی!”
یہ مقدمہ مارچ 1976 میں درج کیا گیا تھا جب تہرولی میں واقع "لارج کوآپریٹو سوسائٹی” کے اس وقت کے سکریٹری بہاری لال گوتم نے چوتھے درجے کے ملازم کنہیا لال پر رسید بک، گھڑی اور 14 ہزار روپے کے غبن کا الزام عائد کیا۔ کنہیا لال کے ساتھ دو اور افراد — لکشمی پرساد اور رگھوناتھ — بھی اس مبینہ فراڈ میں شریک تھے۔
اس مقدمے کی عدالتی کارروائی اس قدر طویل ہوئی کہ ان پانچ دہائیوں کے دوران دو شریک ملزمان کا انتقال ہو گیا، جبکہ مرکزی ملزم کنہیا لال عدالت میں پیش ہوتا رہا۔ وقت کے ساتھ ساتھ وہ عمر کے اس حصے میں داخل ہو گیا جہاں نہ جسم طاقتور رہا، نہ ذہن میں مقدمہ لڑنے کا حوصلہ بچا۔
بالآخر 68 سالہ کنہیا لال نے جھانسی کے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ منا لال کی عدالت میں خود کو قصوروار تسلیم کرتے ہوئے کہا، "میں تاریخوں پر آتے آتے تھک گیا ہوں۔ میں نے واقعی یہ چوری کی تھی۔ اب صحت اجازت نہیں دیتی، رحم کیا جائے۔”
عدالت نے ان کے اعتراف پر مقدمے کو نمٹاتے ہوئے تعزیرات ہند کی دفعات 380، 409، 467، 468، 457، اور 120B کے تحت سزا سنائی، تاہم چونکہ ملزم مقدمے کے دوران کچھ مدت جیل میں گزار چکا تھا، اس مدت کو سزا میں ایڈجسٹ کر کے فیصلہ نرم رکھا گیا۔ عدالت نے کنہیا لال پر دو ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا اور واضح کیا کہ عدم ادائیگی کی صورت میں تین دن کی اضافی قید بھگتنا ہوگی۔
عدالت میں ملزم کے اعتراف اور اس کی بوڑھی آواز میں بولے گئے جملوں نے وہاں موجود ہر فرد کو سوچ میں ڈال دیا کہ کیا ہمارا عدالتی نظام واقعی اتنا سست ہے کہ ایک معمولی جرم کا فیصلہ آدھی صدی بعد سنایا جائے؟
یہ کیس نہ صرف انصاف کے نظام پر سوالیہ نشان ہے بلکہ وقت اور انصاف کے درمیان فاصلوں کی ایک خاموش چیخ بھی۔



