بین ریاستی خبریں

کرولی فرقہ ورانہ فساد: 19 گھنٹے بعد بھی کشیدگی، گہلوت نے کہا،ہر حال میں قانون کی پاسداری ہوگی

جے پور ،3اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)راجستھان کے کرولی میں ہفتہ کی شام تقریباً 6 بجے ہندو سالِ نو کے موقع پر نکالی گئی ریلی میں مبینہ پتھراؤ کے بعد تشدد پھوٹ پڑا۔جس سے شہر میں کشیدگی کا ماحول بن گیا ہے۔ کرفیو اور خوف کی وجہ سے لوگ گھروں میں دبکے رہے ۔ 18 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی مبینہ طور پر حالات پہلے کی طرح معمول پر نہیں آسکے ہیں۔

جس کی وجہ سے اتوار کی صبح شہر کے بعض علاقوں میں بنیادی سہولیات بھی درہم برہم ہوگئیں۔ عوام دودھ اور اخبارات جیسی ضروری چیزوں سے بھی محروم رہ گئے ۔ یہاں انٹرنیٹ سروس بند ہونے سے لوگوں کو پریشانی کا سامنا ہے۔دوسری جانب بائیک ریلی پر پتھراؤ کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے۔ جس میں مبینہ طور پر ریلی کے گزرتے وقت کچھ لوگ گھروں کی چھتوں سے پتھر اؤ کر رہے ہیں ۔

جس سے تین پولیس اہلکار اور ایس ایچ او سمیت ریلی کے ساتھ آنے والے کچھ افراد زخمی ہو گئے۔ اس کے بعد دونوں فریق کے لوگ آمنے سامنے ہوگئے، اور تشدد پھوٹ پڑا۔ کچھ ہی دیر میں شرپسندوں نے بازار میں واقع دکانوں میں آگ لگا دی۔اس کے بعد حالات قابو سے باہر ہو گئے اور جے پور سے 600 پولیس اہلکاروں کی ٹیم کو بلانی پڑا۔

اس کے ساتھ پولیس کے اعلیٰ افسران بھی کرولی پہنچ گئے۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس نے پہلے دفعہ 144 نافذ کر دی لیکن اثر نہ ہونے کے باعث کچھ دیر بعد شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ پولیس نے لوگوں کو سمجھا کر اور سختی سے سمجھایا۔ تشدد میں پولیس اہلکاروں سمیت 43 افراد زخمی ہوئے۔ معمولی زخمیوں کو علاج کے بعد ہفتہ کو چھٹی دے دی گئی۔ جبکہ ایک شدید زخمی جے پور کے ایک اسپتال میں زیر علاج ہے۔

وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے اتوار کو تشدد پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ فسادات بھڑکانے والوں کوکسی بھی حال میں بخشا نہیں جائے گا۔ ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں ہر قیمت پر قانون کی پاسداری کی جائے گی۔ہفتہ کی رات 12 بجے انتظامیہ نے دونوں برادریوں کے سینئر لوگوں کے ساتھ میٹنگ کی۔

اس دوران لوگوں کو مشورہ دیتے ہوئے امن برقرار رکھنے کو کہا گیا۔ انتظامیہ نے دونوں فریقوں سے نوجوانوں کو پرسکون کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔خیال رہے کہ ہندو ؤں کے سالِ نو کے موقع پر نکالی گئی بائیک ریلی پر پتھراؤ کا واقعہ سنیچر کی شام کو سامنے آیا۔ جس کی وجہ سے ہٹواڑہ بازار میں ماحول کشیدہ ہوگیا۔ شرپسندوں نے ایک درجن سے زائد دکانوں اور تین بائکوں کو نذر آتش کر دیا۔ بگڑتی صورتحال کے پیش نظر شہر میں پہلے دفعہ 144، کرفیو اور پھر انٹرنیٹ سروس بھی بند کر دی گئی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button