
واٹس ایپ پر سائبر سکیورٹی کی خلاف ورزی ہمسایہ ملک سے جڑے تار، کئی فوجی افسران پر شک کی سوئی
نئی دہلی، 19اپریل :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)واٹس ایپ WhatsApp کے ذریعے جاسوسی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں نے کئی فوجی اہلکاروں کی جانب سے سائبر سکیورٹی کی خلاف ورزیوں کا شبہ ظاہر کیا ہے۔ اس کے تاروں کے پڑوسی ملک سے جڑے ہونے کا شبہ ہے۔ معاملہ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔
سائبر سیکورٹی کی خلاف ورزیوں کے معاملے پر اے این آئی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے دفاعی ذرائع نے کہا کہ فوجی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے کچھ فوجی عہدیداروں کے ذریعہ سائبر سیکورٹی کی خلاف ورزیوں کا پتہ لگایا ہے۔
اس پر پڑوسی ملک کی جاسوسی سے متعلق سرگرمیوں سے منسلک ہونے کا شبہ ہے۔ دفاعی ذرائع نے بتایا کہ کچھ واٹس ایپ گروپس پر سائبر سیکورٹی کی خلاف ورزیوں کی اطلاع ملی ہے۔ فوری تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرنے کو کہا گیا ہے۔الزامات کا سامنا کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کے معاملے پر دفاعی ذرائع نے بتایا کہ تحقیقات جاری ہیں۔
فوجی افسران کی جاسوسی کے معاملات کو سختی سے نمٹا جاتا ہے۔ ایسے معاملات میں ان کے خلاف سخت کارروائی کی جاتی ہے، کیونکہ وہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے دائرے میں آتے ہیں۔ قصوروار پائے جانے والے تمام اہلکاروں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے گی۔
جب اس معاملے میں مزید تفصیلات پوچھی گئیں تو دفاعی ذرائع نے کہا کہ معاملے کی حساسیت اور تحقیقات کو دیکھتے ہوئے کوئی قیاس نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس سے کیس کی تفتیش متاثر ہو سکتی ہے۔آپ کو بتاتے چلیں کہ حال ہی میں مشتبہ پاکستانی اور چینی جاسوس سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے ہمارے دفاعی اہلکاروں سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وہ یہ کوششیں فوج اور اس کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کے لیے حساس معلومات جمع کرنے کی نیت سے کر رہے ہیں۔ اگرچہ ان جاسوسوں کی زیادہ تر کوششیں ناکام رہی ہیں لیکن کچھ افسران ان کے جال میں آ گئے اور وہ ان سے کچھ معلومات اکٹھا کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
دفاعی ذرائع نے بتایا کہ فوجی افسران کو وقتاً فوقتاً ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہوئے معیاری اصولوں اور ضابطہ اخلاق پر عمل کریں تاکہ ایسے واقعات رونما نہ ہوں۔



