سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

پیشاب کو روکنے کےخطرناک نتائج

تقریباً ہر تین گھنٹے میں ایک بار۔ لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ بعض اوقات ایسے حالات ہوتے ہیں کہ یہ ممکن نہیں ہوتا

انسان کی زندگی میں کچھ لوازمات ایسے ہوتے ہیں جنہیں بر وقت ہی سر انجام دیا جائے تو معاملات درست رہتے ہیں۔ایسے ہی معاملات میں پیشاب کرنا بھی شامل ہے، جسے عین اس وقت کرنا لازمی ہے جب انسان کو اس کا دماغ پیشاب کے اشارے دے۔تاہم بعض اوقات پیشاب کے لیے محفوظ اور مناسب جگہ نہ ملنے یا مصروفیت کے باعث لوگ پیشاب کو کافی دیر تک روک کر رکھتے ہیں۔اگرچہ پیشاب کے لیے صاف اور محفوظ جگہ ہی بیماریوں اور انفیکشنز سے محفوظ رکھتی ہے، تاہم مصروفیت کی وجہ سے پیشاب کو روکنا انتہائی نقصان دہ عمل ہے۔

پیشاب کو روکنا ایک خطرناک عمل ہے، یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر آپ کے مثانے کو باقاعدگی سے خالی کرنے کا مشورہ دیتے ہیں، تقریباً ہر تین گھنٹے میں ایک بار۔ لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ بعض اوقات ایسے حالات ہوتے ہیں کہ یہ ممکن نہیں ہوتا۔اگرچہ اس فطری ضرورت کو ایک یا دو گھنٹے تک موخر کرنے سے آپ کی صحت کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا، لیکن زیادہ دیر تک پیشاب کو روکنا، یا اپنے آپ کو کثرت سے فارغ نہ کرنے کی عادت اپنانا آپ کے جسم کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق پیشاب کو روکنا نہ صرف انسانی جسم میں متعدد پیچیدہ تبدیلیاں رونما کرتا ہے بلکہ اس سے صحت کے کئی سنگین مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔

عام طور پر پیشاب یا پاخانے کو روکنے سے معدے، جگر اور گردوں پر اثرات پڑتے ہیں جب کہ اس عمل سے فوری طور پر مثانہ بھی متاثر ہوتا ہے اور اس کے کمزور پڑنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ماہرین صحت کے مطابق عام طور پر پیشاب کو روک کر رکھنے سے مثانے کے باہر موجود مسلز کمزور ہوجاتے ہیں جس کے بعد پیشاب انتہائی کم مقدار میں لیک ہونا شروع ہوتا ہے اور وہ گردوں اور معدے سمیت جسم کے دیگر اندرونی اعضاء کو متاثر کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پیشاب کو ایک یا دو بار روکنے سے ایسے مسائل پیدا ہونے کے امکانات نہیں ہوتے، تاہم اگر یہ سلسلہ جاری رکھا جائے اور ٹوائلٹ میں تاخیر سے جانا معمول بنایا جائے تو نتائج سنگین ہوسکتے ہیں۔تاخیر سے ٹوائلٹ جانے سے جہاں قبض کی شکایات پیدا ہوسکتی ہے، وہیں پیشاب کو روکے رکھنے پر انسانی جسم میں تبدیلیاں رونما ہونے سے انسان کمزور بھی پڑنے لگتا ہے۔

اس عمل سے انسان کو پیٹ میں درد، مثانوں اور گردوں کے ارد گرد تکلیف، معدے میں جلن اور بعض اوقات گردوں کے فیل ہونے کے خدشات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پیشاب کو روکے رکھنے سے انسان میں پیشاب کی کمی بھی ہوجاتی ہے جو ایک بڑی بیماری کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے پیشاب کو بر وقت کرنے سمیت زیادہ سے زیادہ پانی کا استعمال کیا جائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button