بین ریاستی خبریں

 شاہین ادارہ جات کے زیر ِ اہتمام حفاظ‘عالمات کی دستار بندی و خمار پوشی کا انعقاد

شاہین ادارہ جات بیدر کے زیرِ اہتمام شعبہ حفظ القُرآن کے 26 جیّد حفاظ 63‘حفاظ کرام اور شعبہ جامعۃ المومنات کے 49 جیّدہ عالمات کی دستار بند و خمار پوشی پروگرام کا عظیم الشان انعقاد‘مولانا محمد ابو طالب رحمانی اور ڈاکٹر عبدالقدیر نے خطاب کیا

بیدر۔30/مارچ۔(محمد امین نواز)۔شاہین ادارہ جات بیدر کی زیرِ اہتمام شعبہ حفظ القُرآن اور شعبہ جامعۃ المومنات کے زیر اہتمام حفاظ اورعالمات کی دستار بندی و خمار پوشی کا جناب ڈاکٹر عبدالقدیر چیئرمین شاہین ادارہ جات بیدر کی صدارت میں عظیم الشان پیمانے پرشاہین کیمپس شاہین نگر شاہ پوررگیٹ بیدر میں انعقاد عمل میں آیا۔جس میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے مولانامحمد ابو طالب رحمانی رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور جناب محمد عنایت الرحمن سندھے ایجوکیشن آفیسر محکمہ تعلیمات عامہ بیدر نے شرکت کی۔

شاہین ادارہ جات بیدر سے گذشتہ تین سال میں یعنی2019-20میں 13حفاظ‘سال2020-21میں 12اور سال 2021-22میں 38حفاظ نے قُرآن مجید حفظ کیا۔اور 26حفاظ نے جیّد حفاظ کی سند حاصل کئے۔اسی طرح سال2020-21میں 27عالمات‘سال2021-22میں 21عالمات اپنا کورس مکمل کیا۔

ان تمام حفاظ اور عالمات کو مہمانِ خصوصی مولانا محمد ابو طالب رحمانی اور ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب کے ہاتھوں دستار بندی کی گئی۔طالبات کی خمار پوشی شاہین ادارہ جات کی ڈائریکٹر محترمہ مہر سلطانہ صاحبہ‘محترمہ ذکیہ بیگم صاحبہ ڈائریکٹر شاہین ادارہ جات بیدر‘اور محترمہ شائستہ ناز صاحبہ وومینس ڈائریکٹر شاہین ادارہ جات بیدر کے ہاتھوں عمل میں آئی۔اس موقع پر ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب نے تمام حفاظ کرام طلباء اور عالمات کورس مکمل کرنے والی طالبات اور ان کے سرپرستوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے نہایت ہی مسرت کا اِظہار کیا اور کہا کہ شاہین ادارہ جات کی اس جانب خصوصی توجہ پرآج کئی طلباء وطالبات دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم میں نمایاں اور بہترو عمدہ تعلیمی مُظاہرہ پیش کررہے ہیں بتایا کہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں عصری مدارس میں دینی تعلیم کا چلن عام ہو۔

دینی تعلیم دراصل بچے کی ضرورت جہاں ہیں وہیں اسکول کی ذمہ داری میں بھی شامل ہے ہمارے یہاں ایل کے جی سے عربی قاعدہ پڑھایا جاتا ہے‘ جماعت دوم میں 30پارے مع تجوید ناظرہ و قُرآن پڑھانے کا اہتمام ہوتا ہے۔ ان طلباء میں جو قابلِ طلباء ہوتے ہیں وہ شعبہ حفظ القُرآن میں داخلہ لے لیتے ہیں‘جہاں دو تا ڈھائی سال میں حفظ مکمل کرایا جاتا ہے اور مُختصر عرصہ کے دوران فاؤنڈیشن کورس کے بعد عصری تعلیم کے معاملے میں دیگر طلباء سے بہتر مُظاہرہ کرنے لگتے ہیں۔

اب تک 1022 طلباء نے اس کورس میں داخلہ لیا ہے جن میں کئی انجینئرس‘ ڈاکٹرس اور دیگر گریجویشن کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملک و بیرون ممالک میں خدمات انجام دے رہے ہیں‘جن کی تفصیل انھوں نے اس طرح بتائی شعبہ حفظ میں ابتداء سے اب تک کی تعداد1022‘جملہ فارغ حفاظ640‘حفظ کی تکمیل اور دور مکمل کرنے کے بعد انجینئر نگ کرنے والے طلباء75‘حفظ مکمل اور دور مکمل کرنے کے بعد میڈیکل کرنے والے طلباء 70‘تکمیل حفظ کے بعد عالمہ بن چکیں اور زیرِ تعلیم طالبات کی تعداد55‘تکمیل حفظ کے بعد پیشہ تدریس سے جڑی ہوئی طالبات کی تعداد92‘حفظ کی تکمیل کے بعد دیگر کورسس جیسے بی ایس سی‘ بی ایڈ‘ اور ڈی ایڈ وغیرہ میں 165‘پی یو سی میں زیرِ تعلیم یا پھر عصری تعلیم سے وابستہ باقی تعداد 380‘موجود ہ شعبہ حفظ کی تعداد255ہے۔

انھوں نے کہا کہ تعلیم منقطع کرنے والے طلباء اور حفاظ کے امیج کو بدلنے کیلئے حفظ القُرآن پلس پروگرام اور اکیڈمک انٹینسیو کئیر (AICU)پروگرام کے ذریعے ہماری یہ ادنی سی کوشش ہے کہ حفاظ کرام کو عصری تعلیم سے جوڑ کر آئی اے ایس‘آئی پی ایس‘ڈاکٹر‘ انجینئربنادیں‘اسی مقصد کے تحت ہماری کوشش جاری ہے۔الحمدللہ ہمیں اس میں خاطر خواہ کامیابی حاصل ہورہی ہے۔

اس موقع پر مہمانِ خصوصی مولانا محمد ابو طالب رحمانی رکن مسلم پرسنل لاء بورڈ نے بعنوان”دینی و عصری تعلیم کی اہمیت‘افادیت اور ضرورت“پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت محمد نے اسلام اور دین کو دینا کے سامنے علوم علم حاصل کرنے کے حکم کے ساتھ متعارف کروایا۔

نبی کریم کی نظروں میں آپؐ نے دنیا کے تمام علوم حصول کیلئے اپنی امت کو ترغیب دی۔اس دنیا کی بد قسمتی اور مسلمانوں کیلئے بہت بڑے نقصان کی بات اس وقت ہوگئی جب یہ کہہ دیا گیا یہ دینی علم ہے اور یہ دنیوی علم ہے۔ علم کی تقسیم نے مسلمانوں کو ذبح کردیا۔ایک عرصہ اور مدت تک ہم جیسے لوگ علوم کی تقسیم کی پگڈنڈیو یو ں پر حادثوں کی طرف چلتے رہے۔خیالات کے ذریعے نقصان اُٹھاتے رہے۔ انھوں نے پُر زور انداز میں کہا کہ آج ہمارے بڑوں نے بھی یہ کہنا شروع کردیا تمہیں پیٹ پر پتھر باندھنا ہے تو باندھ لو مگر اسکول کالج قائم کرو میں اس آیڈیالوجی اور اس بات کا استقبال وخیر مقدم کرتا ہوں‘ لیکن اسی کے ساتھ پوری قوت اور ذمہ داری کے ساتھ یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ اگر یہ خیال چالیس‘ پچاس سال پہلے ملک ہندوستان کے مسلمانوں کے قائدین کے ذہنوں میں آچکا ہوتا شائد پیٹ پراس وقت پر دو چار کنکریاں باندھ لئے ہوتے تو آج پتھر باندھنے کی نوبت نہیں آتی۔

مولانا نے کہا کہ جب انسان قومیں اپنی زندگی کی قیمتی چیزوں کو برباد کرلیا کرتے ہیں‘ برباد کرنے والی قوموں کو عورتوں کی طرح رونے کی اجازت نہیں دی جاتی‘ اسے رونے کا بھی حق نہیں ملتا۔ انھوں نے اس موقع پر اسپین (اندلس)کی تباہی کی تاریخ بتائی۔جو قومیں کام نہیں کرتی ہیں اس قوم کو معافی نہیں دی جاتی اور معافی مانگنے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔

انھوں نے کہا کہ کچے مکان رکھو گے تو سیلاب میں بہہ جائیں گے‘ چاہے تمہاری نسلیں کتنی اونچی ہوں اور تمہاری نسبتیں کتنی بلند ہو تم بچ نہیں سکتے۔انھوں نے اسلام کی پہلی جنگ جو اسلام پر مسلط کردی غزوہ بدر کا واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ غزوہ بدر کی فتح کے بعد کہا گیا کہ جو قیدی پڑھ لکھے ہیں وہ پڑھنا لکھنا سکھادیں۔ان قیدیوں نے کیا پڑھایا معلوم ہے انھوں دنیوی علم پڑھایا۔

صحابہ کرام تو قُرآن کی تعلیمات تو اللہ کے رسول سے سیکھی تھیں۔مگرصحابہ نے ان قیدیوں سے ان کی زبانیں اور ان سے لکھنا سیکھا۔علم کی تقسیم جن ظالموں نے کیا‘ ظالم ہے وہ لوگ۔

حضرت محمد نے کفاروں اور مشرکین سے بھی علوم سکھوائے۔ انھوں نے کہا کہ آج لاجک کی جگہ میجک کی زبانیں سمجھی جاتی ہیں‘اسی لئے سائنٹسٹ کم اور بابا زیادہ پیدا ہورہے ہیں۔بابا بننے کیلئے کسی کوالیفیکیشن کی ضرورت نہیں ہے۔ہمارے اسلاف نے تعلیم کا منظم و مستقل طریقہ کار مہیا کیا تھا۔

جس کے بے شمار فوائد و مثبت اثرات سے آج تک پوری دنیا فیضیاب ہورہی ہیں۔ چاہے وہ دینوی علم ہو یا دنیاوی علوم و فنون ہو۔ اسکی تفصیلات جاننے کے لئے ہمیں تاریخ کے اوراق کی گردانی کرنی ہوگی۔ جب سے ہم نے علم کو دینوی اور دنیاوی حصوں میں منقسم کیا ہماری تنزلی شروع ہو گئی۔

جس کے اثرات آج بھی ہم محسوس کررہے ہیں۔ ہم یہی نہیں روکے بلکہ ہم نے دیگر زبانوں کو سیکھنے سے بھی گریزکیا۔ آج ہمیں دنیا کے تعلیمی، سماجی، معاشی اور مذہبی مشنری کو بخوبی سمجھتے ہوئے ہمارے حقیقی مذہبِ اسلام کی بقاء وترقی کے لئے اوراسلامی تعلیمات ہماری آئندہ نسلوں میں پروان چڑھانے کے لئے ایسے منظم، مستقل، منصوبہ بند اور جدید طرز پرتعمیر شاہین ادارہ جات جیسے اداروں کی اشد ضرورت ہے۔ یہاں دینی تعلیم کے ساتھ ہی عصری تعلیم سیکھانے کا اعلیٰ، مؤثراور جدید نصاب موجود ہوتا ہے۔ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب چیئرمین شاہین ادارہ جات بیدر نے قوم کے بچوں کیلئے بہتر و درخشاں مستقبل فراہم کرنے میں اپنے تعلیمی کارواں کو ملک بھر میں پھیلا کر تعلیمی انقلاب برپا کردیا ہے۔

آج ہمارے بچے حافظ و عالمِ دین ہونے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرس‘انجینئرس‘ سائنسدان‘اور مُختلف عہدوں پر فائز رہ کر دنیا کو بتادیا ہے کہ ہم وہ قوم ہیں جو جہد مسلسل کے ساتھ خدمات انجام دے رہی ہیں۔جلسہ کا آغازحافظ محمد عبدالعظیم کی قرا ء تِ کلام پاک سے کیا گیا۔ حافظ محمد تحسین عالم نع حمد باری تعالی اور شیخ سبیل احمد نے نعتِ رسول ؐ سنانے کی سعادت حاصل کی۔حافظ توحید اور مولانا محمد نوازنے پروگرام کی نظامت بحسن خوبی انجام دی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button