سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

کھجور طبی فوائد کا بے مثال خزینہ

ڈاکٹر حکیم محمد فاروق اعظم حبان قاسمی رحیمی شفا خانہ بنگلور

کھجوروں کا نام لیا جائے تو رمضان المبارک کے بابرکت دن اور افطار کے دسترخوان کی رونقیں نظر آنے لگتی ہیں، افطار کے دسترخوان پر کچھ ہو نہ ہو لیکن کھجور ضرور موجود ہوتی ہے۔ حضور اکرم e کا فرمان اور آپ کی سیرت میں افطار او رکھجور لازم وملزوم دکھائی دیتی ہیں۔ رمضان المبارک کے پورے ماہ ِ مقدس میں ہر شہر او رہر گائوں کے گلی کوچوں میں کھجوریں ہی کھجوریں نظر آتی ہیں ۔ چھوٹی سے لیکر بڑی بڑی سپر مارکٹیں کھجور سے بھری ہوتی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ آخر افطار کیلئے کھجور Dates ہی سب سے زیادہ اہم کیوں ہے؟

طب نبوی e میں یہ بات موجود ہے اور دور جدید کے اطباء بھی اس بات پر متفق ہیں کہ محض ایک دو کھجوروں کے ساتھ دن بھر کی بھوک اور پیاس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کمزوری مکمل طور پر دور ہوجاتی ہے۔ ماہرین بھی اس بات پر متفق ہیں کہ کھجور ایک مکمل غذا ہے اور اگر خوراک میں شامل ہوجائے تو خوراک کی افادیت میں شاندار اضافہ ہوجاتا ہے۔ ہر کھجور میں وٹامنز اور معدنیات کی حیران کن حد تک ایک بڑی تعداد موجود ہوتی ہے۔ کھجور چربی سے بھی مکمل طو رپر پاک ہوتی ہے اس میں نمکیات اور کولیسٹرول بھی نہیں ہوتا۔ حضور اکرم e عجوہ کھجور سے روزہ افطار فرماتے تھے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:رسول اکرم e عجوہ کے بہت زیادہ شوقین تھے۔ نبی اکرم e کا فرمان ہے کہ عجوہ جنت سے آئی ہے اور اس میں زہر کیلئے تریاق موجود ہے‘‘۔ (ترمذی ،ابن ماجہ)

کھجور طبی فوائد کا بے مثال خزینہ ہے

بلغم اور سردی کے اثر سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں کھجور کا کھانامفید ہے، یہ دماغ کا ضعف مٹاتی ہے اور یاد داشت کی کمزوری کا بہترین علاج ہے۔ قلب کو تقویت دیتی ہے اور بدن میں خون کی کمی کو دور کرتی ہے۔ گردوں کو قوت دیتی ہے۔ سانس کی تکلیف میں بالعموم اور دمہ میں بالخصوص سود مند ہے۔ کھانسی، بخار میں اس کے استعمال سے افاقہ ہوتا ہے۔ غرضیکہ کھجور کا استعمال ایک مکمل غذا بھی ہے اور اچھی صحت کے لیے ایک لاجواب پھل بھی۔

حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ’’ میںنے حضورe کو خربوزہ اور کھجور اکھٹے کھاتے دیکھا‘‘۔اسی طرح حضرت عبد اللہ بن جعفرؓ نے بھی فرمایا ہے کہ ’’ حضور e تربوز کو کھجوروں کے ساتھ تناول فرماتے تھے۔ایک اور حدیث میں ہے کہ کسی موقع پر آنحضرت e نے حضرت علی ؓ کو کھجور کھانے سے منع فرمایا کیونکہ وہ کچھ ہی دن قبل بیماری سے اٹھے تھے۔ گویا کہ بیماری کے بعد صحت یابی کے دوران کھجور کھانے سے منع فرمایا گیا۔

کھجور کے فائدے

کھجور کے درخت سے نکلنے والی گوند آنتوں، گردوں اور پیشاب کی نالیوں کی سوزش کے لئے مفیدہے۔ اس کو کھانے سے منہ کی بدبو جاتی رہتی ہے۔ بنیادی طور پر کھجور غذائیت سے بھرپور ہے۔ مخرج بلغم ہے۔ مقوی ہے۔ جلن کو رفع کرتی ہے۔ ملین ہے، قوتِ باہ کو بڑھاتی ہے اور پیشاب آور ہے۔ کھجور کو پانی میں بھگو کر اس کا یہ پانی اگر پیا جائے تو جگر کی اصلاح کرتا ہے اور طبیعت سے نشہ آور اشیاء کی گرانی کو دور کرتا ہے۔ کھجور کو دھوکر دودھ میں ابال کر دینے سے ایک مقوی اور فوری طور پر توانائی مہیا کر نے والی غذا تیار ہوجاتی ہے۔ یہ تمر بیماریوں کے بعد کی کمزوری کے لئے حد درجہ مفید ہے۔ کھجور میں توانائی مہیا کرنے والے عناصر فوری اثر کرتے ہیں۔

کھجور کے درخت کا عرق

ہندورستان میں کھجور کا درخت ہوتا ہے لیکن یہ درخت طاقتور نہ ہونے کی وجہ سے صحت مند پھل نہیں دے پاتا کھجور پیدا تو ہوتی ہے لیکن مغز برائے نام ہوتا ہے جس کو جنوبی ہند میں سندولا کہتے ہیں جس سے سینڈی تیار کی جاتی ہے مہاراشٹر، تمل ناڈ، راجستھان اور بہار میں کھجور کے درخت سے ایک مفرح مشروب ’’سنڈی‘‘ تیار کرتے ہیں جسے گرمی کے دنوں میں ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے استعمال کیاجاتا ہے یہ پیاس بجھانے میں دوسرے تمام مشروبات سے زیادہ مفید ہے۔لیکن یہ مشروب دھوپ لگتے ہی شراب میں تبدیل ہوجاتا ہے جس سے بہت سے احباب نشہ بھی کرتے ہیں۔

عام کمزوری کیلئے

طب یونانی کا مشہور معجون معجون آرد خرما جو عام دوا ہے اور کمزوری میں استعمال کیا جاتا ہے ، اس کا اصل جوہر کھجور ہی ہے جو حضرات کھجور نہ کھاپاتے ہوں وہ معجون آرد خرمے سے اپنی عام کمزوری دور کرسکتے ہیں۔

موٹا ہونے کیلئے

جو نوجوان ورزش کرتے ہوں یا پھر موٹے ہونے کے خواہشمند ہوں ان کو چاہیے کہ ایک گلاس رات کو دودھ گرم کرلیں اور ابال آنے پر چولہے سے نیچے اتار لیں اور چار عدد کھجور ، دو انجیر باریک کاٹ کر دودھ میں ڈالدیں اور صبح اس دودھ کو گرم نہ کریں اگر دودھ کو گرم کیا تو پھٹ جائے گا، کھجور اور انجیر کھا کر دودھ پی لیں، چند ماہ کے استعمال سے ان شاء اللہ جسم فربہ ہوجائے گا۔

دل کا پھیل جانا

یہ مرض عام طور پر ان حضرات کو لاحق ہوتا ہے جو مستقل بیٹھے رہتے ہیں میرے والد محترم بڑے حکیم صاحب حضرت مولانا ڈاکٹر حکیم محمد ادریس حبان رحیمیؒ بانی رحیمی شفاخانہ بنگلور کا دور درشن پر ایک انٹرویو نشر ہوا جس میں حکیم صاحب نے عجوہ کھجور کی گٹھلی سے پھیلے ہوئے دل کا علاج بتلایا۔

نسخہ: عجوہ کھجور کی گٹھلی کا باریک سفوف بنا لیا جائے اور صبح شام ایک ایک چمچ پانی سے استعمال کریں انشاء اللہ چند ماہ میں پھیلا ہوا دل اپنی اصل حالت پر ہوجائے گا۔ اس انٹرویو کو دیکھنے کے بعد کرناٹک کے ایک مشہور آشرم سے سوامی جی والد محترم سے ملنے آئے اور انہوں نے بے انتہا شکریہ ادا کیا کہ میں آپ کے کھجور کی گٹھلی والے نسخے سے مکمل شفایاب ہوگیا ہوں میرا دل پھیل گیا تھا اور ایلو پیتھی ڈاکٹرس نے مجھے لا علاج بتلا دیا تھا میں نے آپ کا انٹرویو دیکھا اور عجوہ کھجور منگوا کر اس کا سفوف استعمال کیا آج میں مکمل صحت مند ہوں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button