پونے میں دریا سے ایک ہی خاندان کے 7 افراد کی نعشیں برآمد، 5 رشتہ دار گرفتار
مہاراشٹر کے پونے ضلع میں ایک ہی خاندان کے 7 افراد کی دریا سے ملنے والی نعشوں کے سلسلے میں پولیس نے پانچ افراد کو گرفتار کر کے قتل کا مقدمہ درج کر لیا
پونے ، 25جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ) مہاراشٹر کے پونے ضلع میں ایک ہی خاندان کے 7 افراد کی دریا سے ملنے والی نعشوں کے سلسلے میں پولیس نے پانچ افراد کو گرفتار کر کے قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایک اہلکار نے بدھ کو اس کی جانکاری دی۔ پولیس نے بتایا کہ مرنے والوں میں ایک 40 سالہ جوڑا، ان کی بیٹی اور داماد اور تین پوتے شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ 18 جنوری سے 22 جنوری کے درمیان چار نعشیں ملی تھیں، جبکہ تین نعشیں منگل کو پونے شہر سے تقریباً 45 کلومیٹر دور داؤد تحصیل کے یاوت گاؤں کے مضافات میں بھیما ندی پر پرگن پل کے قریب سے ملی تھیں۔ پونے دیہی پولیس کے ایک افسر نے کہا کہ ہم نے سات لوگوں کی موت کے سلسلے میں پانچ لوگوں کو گرفتار کیا ہے اور دفعہ 302 (قتل) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ایک اہلکار نے بتایا کہ پولیس نے پانچ بہن بھائیوں اشوک کلیان پوار، شیام کلیان پوار، شنکر کلیان پوار، پرکاش کلیان پوار اور کانتا بائی سرجیراؤ جادھو کو گرفتار کیا ہے، جو متوفی موہن پوار کے کزن ہیں۔
مرنے والوں کی شناخت موہن پوار (45)، ان کی بیوی سنگیتا موہن (40)، ان کی بیٹی رانی پھلوارے (24)، داماد شیام پھلوارے (28) اور تین سے سات کے درمیان تین بچوں کے طور پر کی گئی ہے۔پونے دیہی پولیس سپرنٹنڈنٹ انکت گوئل نے کہا کہ تفتیش کے دوران کچھ حقائق سامنے آئے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمام مرنے والوں کو قتل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ملزم اشوک پوار کے بیٹے دھننجے پوار کی چند ماہ قبل ایک حادثے میں موت ہو گئی تھی اور اس سے متعلق ایک مقدمہ پونے شہر میں درج کیا گیا تھا۔گوئل نے کہا کہ بادی النظر میںیہ شبہ ہوتا ہے کہ اشوک کے بیٹے کی موت کا بدلہ لینے کے لیے ان کا قتل کیا گیا ہے۔



