قومی خبریں

دہلی:فنڈ کی کمی، کالج اساتذہ کی تنخواہوں میں کٹوتی

نئی دہلی ،10ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) دہلی کے سرکاری کالجوں نے فنڈز کی کمی کی وجہ سے ایسوسی ایٹ پروفیسروں اور اسسٹنٹ پروفیسروں کی تنخواہوں میں زبردست کٹوتی کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ دہلی کے دین دیال اپادھیائے کالج Deen dayal upadhyaya college انتظامیہ کی طرف سے پروفیسروں کو بھیجے گئے پیغام میں کہا گیا ہے کہ کالج انتظامیہ کے پاس پیسوں کی کمی ہے، اس لیے ایسوسی ایٹ پروفیسروں کی تنخواہ میں 50 ہزار روپے اور اسسٹنٹ پروفیسروں کی 30 ہزار روپے کی کٹوتی کی جا رہی ہے۔کالجوں نے کہا ہے کہ جب ان کے پاس کافی فنڈز دستیاب ہوں گے تو فی الحال جو تنخواہ کاٹی جا رہی ہے وہ انہیں واپس کر دی جائے گی۔ لیکن اسے کب دیا جائے گا اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔

پروفیسرز کا کہنا ہے کہ تہواروں کے سیزن میں تنخواہوں میں کٹوتی کی وجہ سے ان کی مالی حالت خراب ہو رہی ہے۔ وہیں اس خبر پر دہلی حکومت کی طرف سے اب تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔پروفیسر اے کے بھاگی نے بتایا کہ دہلی یونیورسٹی کے 12 کالج، جن کو دہلی حکومت 100 فیصد فنڈ فراہم کرتی ہے، گزشتہ کئی سالوں سے ناکافی گرانٹ اور بے قاعدہ تنخواہوں کے مسئلے سے دوچار ہیں۔ فیسٹیول سیزن میں بھی پروفیسرز کو تنخواہیں نہیں دی جارہی ہیں جس کی وجہ سے انہیں اپنا گھر چلانے میں بھی پریشانی کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی حکومت کی طرف سے مناسب گرانٹ نہ ملنے کی وجہ سے ان 12 کالجوں کے اساتذہ اور دیگر ملازمین کی تنخواہیں، ساتویں پے کمیشن کے بقایا جات، پروموشن کے بقایا جات، میڈیکل بل ادا نہیں کیے جا رہے ہیں۔

چلڈرن ایجوکیشن الاؤنس کی رقم بھی پچھلے دو سالوں سے پھنسی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ دہلی حکومت نے 16 کالجوں کی پانچ فیصد گرانٹ بھی جاری نہیں کی ہے۔ڈی یو ٹی اے کے صدر پروفیسر۔ اے کے بھاگی نے کہا کہ دہلی حکومت کے اس رویے سے ناراض دہلی کے سرکاری کالجوں کے اساتذہ نے 16 جولائی کو لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ سے ملاقات کی اور اس معاملے میں ان کی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ لیکن اس میٹنگ کے بعد بھی کالج انتظامیہ نے تنخواہ جاری نہیں کی۔ اس معاملہ میں کالجوں اور دہلی حکومت کا رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button