بین ریاستی خبریں

حادثہ کے وقت دیپ سدھو ہوش میں تھا، گاڑی 120 کی رفتار سے چل رہی تھی، عینی شاہد

نئی دہلی ،16فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پنجابی گلوکار اور اداکاراور لال قلعہ تشدد میں کلیدی ملزم دیپ سدھو Deep Sidhu کی سڑک حادثہ میں موت کے معاملے میں نیا موڑ آیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس منگل کو حادثہ کے بعد دیپ سدھو کو کار سے باہر نکالا گیا، اس وقت وہ زندہ تھا، بلکہ پوری طرح ہوش میں تھا۔

حالانکہ اس سے پہلے یہ خبر آئی تھی کہ حادثے کے بعد دیپ سدھو کی موقع پر ہی موت ہوگئی تھی۔اطلاعات کے مطابق اس حادثے کے عینی شاہدین نے یہ دعویٰ کیا ہے۔ محمد یوسف نامی اس عینی شاہدنے دعویٰ کیا کہ جب دیپ سدھو کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا تو وہ اس کے بالکل پیچھے تھا، جیسے ہی دیپ سدھو کی کار کوحادثہ پیش آیا، انہوں نے جلدی سے اپنی کار سائیڈ کرکے موقع پر پہنچ کر اسے کار سے باہر نکالا۔

دیپ سدھو کے ساتھ اس کی گرل فرینڈ رینا رائے بھی تھی۔ دونوں کو ایک طرف بٹھانے کے بعد اس نے پہلے 112 نمبر پر کال کی اور ایمبولینس بلائی،اس کے بعد رینا نے دیپ سدھو کے بھائی کا نمبر دیا، پھر اسے بھی فون کیا۔

دیپ کے بھائی نے بتایا کہ وہ دہلی سے کسی کو موقع پر بھیج رہے ہیں۔ ایک گھنٹے میں وہاں پہنچ جائیں گے۔انگریزی روزنامہ انڈیا ٹوڈے کے مطابق محمد یوسف نے دعویٰ کیا ہے کہ دیپ سدھو کی گاڑی کے حادثے کے فوراً بعد بڑی تعداد میں لوگ وہاں جمع تھے، حادثے کے تقریباً آدھے گھنٹے بعد ایک ایمبولینس وہاں پہنچی، اس کے بعد دیپ سدھو اور ان کی گرل فرینڈ رینا کو ہسپتال لے جایا گیا۔

عینی شاہد نے یہاں تک دعویٰ کیا کہ حادثے کے وقت دیپ سدھو کی کار تقریباً 110-120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی تھی۔ پھر وہ اوور ٹیک کرنے میں ایک ٹرک میں جا گھسی۔ اس کے مطابق نہ تو ٹرک ڈرائیور نے اچانک بریک لگائی ،اور نہ ہی دیپ سدھو نے پاور بریک کا استعمال کیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button