بین الاقوامی خبریں

وزرائے دفاع کی ملاقات، چین نے امریکہ کی درخواست مسترد کر دی

کیا اپنے وزیر دفاع پر پابندی کے پیش نظرچین نے آسٹن سے ملنے سے کیاانکار؟

بیجنگ ،30مئی :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) چین نے امریکہ کی جانب سے کی جانے والی دونوں ممالک کے دفاعی سربراہان کی ملاقات کی درخواست مسترد کر دی ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے اخبار وال سٹریٹ جرنل کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ امریکہ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ یہ ملاقات سنگاپور میں اگلے ویک اینڈ پر ہونے والے سکیورٹی فورم کے سالانہ اجلاس میں ہو سکتی ہے۔پینٹاگون کی جانب سے اخبار کو جاری کیے بیان میں بتایا گیا ہے کہ چین کی جانب سے امریکہ کو مطلع کردیا گیا ہے کہ یہ ملاقات نہیں ہو سکے گی۔ان کا کہنا تھا کہ مئی کے آغاز میں چین کو دعوت دی گئی تھی اور اس میں سیکریٹری دفاع آسٹن کی ملاقات چینی کے وزیر دفاع لی شنگفو سے ملاقات کی درخواست کی گئی تھی۔

بیان میں پیٹاگان کا مزید کہنا تھا کہ ’ڈیپارٹمنٹ کھلے انداز میں مواصلاتی رابطوں پر یقین رکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ مسابقت تصادم کی طرف نہ جائے۔پچھلے ہفتے وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی نے کہا تھا کہ وزارت دفاع میں سیکریٹری دفاع لائیڈ آسٹن کی اپنے چینی ہم منصب سے ملاقات کے حوالے سے مشاورت ہو رہی ہے۔لائیڈ کربی نے یہ بھی کہا تھا کہ ڈیٹرائٹ میں ہونے والے ایشیا پیسفک اکنامک کارپوریشن (ایپک) کے اجلاس میں امریکہ کے تجارتی نمائندے کیتھرائن ٹائے کی چینی ہم منصب سے ملاقات بھی امکان ہے۔

پنٹاگون کے ترجمان جنرل پیٹ رائڈر نے کہا ہے کہ بامعنی فوجی مذاکرات میں چین کی رضامندی کا فقدان پریشان کن ہے، تاہم اس سے محکمہ دفاع کے پیپلز لبریشن آرمی کے ساتھ رابطے کی لائنیں کھولنے کا عزم کمزور نہیں ہوگا۔ امریکی وزارت دفاع کے ایک اعلیٰ اہلکار نے اس چینی انکار کو بہانوں کے سلسلے میں تازہ ترین بہانہ قرار دیا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان تائیوان سمیت کئی معاملات پر تناؤ ہے۔ تاہم اس تناؤ کے باوجود دونوں ملکوں کے حکام نے گزشتہ عرصے کے دوران ملاقات کی۔امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے مئی کے اوائل میں آسٹریا کے دارالحکومت میں چینی چیف خارجہ امور کے اہلکار وانگ یی سے ملاقات کی تھی۔

امریکی وزیر دفاع نے گزشتہ سال جون میں سنگاپور میں دفاعی سربراہی اجلاس کے دوران چین کے سابق وزیر دفاع وی فینگ سے بھی ملاقات کی تھی۔تو شاید لی اور آسٹن کے درمیان ملاقات سے انکار کی وجہ یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ نے 2018 میں چینی وزیر دفاع پر روسی ہتھیاروں کی خریداری کی وجہ سے پابندیاں عائد کی تھیں۔ یاد رہے پنٹاگون نے پہلے کہا تھا کہ لی پر عائد پابندیاں آسٹن کو سزا یافتہ وزیر کے ساتھ سرکاری طور پر ڈیل کرنے سے نہیں روکتی ہیں۔واضح رہے 2021 سے لے کر اب تک چین نے امریکی وزارت دفاع کی طرف سے دونوں قیادتوں کے درمیان رابطے کے لیے کی گئی 12 سے زیادہ درخواستوں کو مسترد کیا یا ان کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان کشیدگی اس سال اس وقت بڑھ گئی جب امریکہ نے چین پر اپنی سرزمین پر جاسوسی غبارہ اڑانے کا الزام لگایا اور پھر اسے مار گرایا تھا۔ واشنگٹن نے چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے ایشیا میں اتحاد اور شراکت داری کو مضبوط بنانے کی کوشش بھی کی ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے حال ہی میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہت جلد بہتر ہونے والے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button