صحت اور سائنس کی دنیا

ڈی ہائڈریشن: پانی کی کمی کی علامات، وجوہات اور مؤثر علاج

ڈی ہائڈریشن کی نمایاں علامات

گرمی کا موسم جہاں ہمارے جسم کو نکھارنے کا موقع دیتا ہے، وہیں ڈی ہائڈریشن یعنی پانی کی کمی کا خطرہ بھی بڑھا دیتا ہے۔ اگر اس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔ ڈی ہائڈریشن کی بنیادی وجوہات میں تیز دھوپ، الٹی، ڈائریا، بخار، زیادہ پیشاب آنا، اور پانی کی ناکافی مقدار لینا شامل ہیں۔

پانی کی کمی کی عام علامات میں خشک منہ، کم پیشاب آنا، پیلے رنگ کا پیشاب، تیز دل کی دھڑکن، چکر آنا اور آنکھوں کا اندر دھنس جانا شامل ہیں۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ لوگ کیفین والے مشروبات جیسے الکوہل، میٹھی بوتلیں اور چائے پر انحصار کرتے ہیں، جو دراصل جسم کی نمی کو مزید کم کرتے ہیں۔

پانی کی ضرورت ہر فرد کے لیے مختلف ہو سکتی ہے، لیکن عمومی اصول 8×8 کا ہے: یعنی روزانہ 8 گلاس پانی ضرور پینا چاہیے۔ بیماری کی صورت میں فزیشن سے مشورہ کرنا ضروری ہے کیونکہ بعض اوقات زیادہ پانی نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

ڈی ہائڈریشن سے بچاؤ کے لیے چند سادہ مگر مؤثر تدابیر درج ذیل ہیں:

  • دوپہر میں دھوپ سے بچیں

  • جسمانی مشقت یا ورزش کے دوران پانی کا استعمال بڑھائیں

  • نمکیات والے پانی کا استعمال کریں

  • کیفین والے مشروبات سے گریز کریں

اگر کوئی شخص کسی بیماری مثلاً گلا خراب، معدے کی خرابی، یا ڈائریا کا شکار ہے تو ڈی ہائڈریشن کا خطرہ دوگنا ہو جاتا ہے۔ ان حالات میں پانی کے باقاعدہ استعمال سے جسم کو تقویت دی جا سکتی ہے۔

صحت مند زندگی کے لیے ان تدابیر کو اپنائیں اور اپنے روزمرہ معمولات میں پانی کو اہمیت دیں۔ آج کل کئی موبائل ایپس دستیاب ہیں جو وقت پر پانی پینے کی یاد دہانی کراتی ہیں—ان کا فائدہ اٹھائیں۔

اگر آپ مناسب مقدار میں پانی پینے کے باوجود پیاس محسوس کرتے ہیں، تو فوری طور پر معالج سے رجوع کریں کیونکہ یہ حالت میڈیکل ایمرجنسی بن سکتی ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button