لکشدیپ کے نااہل رکن پارلیمنٹ فیضل کی رکنیت بحالی میں تاخیر
فیضل کی 10 سال کی جیل کی سزا پر کیرالہ ہائی کورٹ نے 25 جنوری کو روک لگا دی تھی
نئی دہلی ، 27مارچ:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) سپریم کورٹ نے پیر کے روز لکشدیپ کے نااہل قرار دیئے گئے رکن پارلیمنٹ محمد فیضل پی پی کے ذریعہ ان کی رکنیت بحالی کرنے میں ہو رہی تاخیر کو چیلنج پیش کرنے والی عرضی پر سماعت کے لیے تیار ہو گیا ہے۔ فیضل کی 10 سال کی جیل کی سزا پر کیرالہ ہائی کورٹ نے 25 جنوری کو روک لگا دی تھی، اس کے باوجود ابھی تک ان کی پارلیمانی رکنیت بحال نہیں ہو سکی ہے۔سینئر وکیل اے ایم سنگھوی نے فیضل کی طرف سے پیش ہو کر اس معاملے کو ہندوستان کے چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی صدارت والی بنچ کے سامنے رکھا۔
سنگھوی نے جانکاری دی کہ خط لکھے گئے تھے، لیکن فیضل کی رکنیت بحال کرنے کے لیے ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اس معاملے میں مختصر سماعت کے بعد منگل کے روز عرضی پر سماعت کی اجازت دی۔فیضل کے ذریعہ پیش کردہ عرضی میں دلیل دی گئی ہے کہ لوک سبھا سکریٹریٹ نے 13 جنوری کو جاری نوٹیفکیشن کو واپس نہیں لیا، جس میں انھیں رکن پارلیمنٹ کے طور پر نااہل ٹھہرایا گیا تھا۔ وکیل کے آر ششی پربھو کے ذریعہ داخل عرضی میں این سی پی لیڈر نے کہا کہ ان کی سزا پر ہائی کورٹ نے 25 جنوری کو روک لگا دی اور عدالت عظمیٰ نے بھی ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگانے سے انکار کر دیا ہے۔ اس کے باوجود اب تک لوک سبھا سکریٹریٹ کی طرف سے ان کی رکنیت بحال نہیں کی گئی۔



