دہلی: فرضی سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنا کر خاتون کو ہراساں کرنے والا شخص گرفتار
نئی دہلی،28؍ فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) پولیس نے ایک شخص کو مبینہ طور پر ایک خاتون کو ہراساں کرنے کے لیے اس کا فرضی سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنا نے اور اس کے رشتہ داروں اور دوستوں کو توہین آمیز پیغامات بھیجنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔
پولیس نے پیر کو کہا کہ 47سالہ ملزم سورو ٹھاکر کا مبینہ طور پر اس خاتون کے ساتھ عشق تھا۔ جب خاتون نے اس سے بات کرنا بند کر دیا تو اس نے خاتون کے فرضی اکاؤنٹس بنا کر اسے ہراساں کرنا شروع کر دیا۔
خاتون نے 9 فروری کو اس سلسلے میں پولیس سے شکایت کی تھی۔شکایت میں خاتون نے الزام لگایا تھا کہ کوئی اس کاجعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنا کر اس کے رشتہ داروں اور دوستوں کو توہین آمیز پیغامات بھیج کر اسے ہراساں کر رہا ہے۔
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا تھا کہ ملزم سوشل میڈیا پر نازیبا باتیں کر رہا ہے۔ڈپٹی کمشنر آف پولیس ایشا پانڈے نے بتایا کہ خاتون کی شکایت کے بعد تعزیرات ہند کی دفعہ 354 (ڈی) اور 509 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا اور مختلف مشتبہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر نظر رکھی گئی۔
افسر نے کہا کہ تحقیقات کے دوران جعلی فیس بک اکاؤنٹ کے ’آئی پی ایڈریس‘ کا پتہ چلا، جو ملزم کے ’آئی پی ایڈریس‘ سے مماثلت رکھتا تھا۔ دونوں آئی ڈیز کو چیک کیا گیا تو پتہ چلا کہ مشتبہ شخص ایک ہی’آئی پی ایڈریس‘ کا استعمال کرکے اپنی فیس بک آئی ڈی کے ساتھ جعلی فیس بک آئی ڈی چلا رہا تھا۔
اس کے بعد ٹھاکر کی شناخت ہوئی اور ایک ٹیم نے اس کے گھر پر چھاپہ مار کر اسے گرفتار کر لیا۔پوچھ گچھ کے دوران ٹھاکر نے انکشاف کیا کہ اس کا اس خاتون کے ساتھ 10 سال سے زیادہ عرصے سے محبت کا رشتہ تھا۔
وہ ایک اشتہاری کمپنی میں کام کرتا تھا اور تعلقات میں تھا۔ کچھ عرصے بعد خاتون اسے نظر انداز کرنے لگی۔انہوں نے کہاکہ ملزم نے خاتون کی گاڑی میں ایک ’جی پی ایس ٹریکر‘ بھی نصب کر رکھا تھا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ وہ کس سے مل رہی ہے۔
اس نے خاتون کے نام سے فیس بک اور انسٹاگرام پر جعلی اکاؤنٹس بنایا اور اپنے ہی رشتہ داروں اور دوستوں کو توہین آمیز پیغامات بھیجنے لگا۔ڈپٹی کمشنر آف پولیس نے بتایا کہ اس کے قبضے سے دو موبائل فون، ایک ایپل میک بک اور ایک وائی فائی راؤٹر بھی برآمد ہوا ہے۔



