
نئی دہلی 10مئی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اتر پردیش کی طرز پر اب راجدھانی دہلی میں بھی نام بدلنے کی سیاست تیز ہوگئی ہے۔ دہلی بی جے پی نے منگل کو نئی دہلی میونسپل کونسل (این ڈی ایم سی) کو ایک خط لکھ کر مغل حکمرانوں کے نام سے منسوب چھ سڑکوں کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے جیسے اکبر روڈ، ہمایوں روڈ ۔ دہلی بی جے پی صدرآدیش گپتا نے کہاہے کہ آزادی کے اتنے سالوں بعد بھی دہلی کی کچھ گلیوں میں آج بھی غلامی کی علامت کی جھلک نظر آتی ہے، اس لیے اب ان گلیوں کے نام جلد از جلد تبدیل کیے جائیں۔
ان تمام معاملات پرعام آدمی پارٹی خاموش ہے ہاں جب مندرکونوٹس بھیجاجاتاہے تواحتجاج کرنے کے لیے پوری عام آدمی پارٹی سڑک پرآجاتی ہے۔کجریوال کااصل چہرہ دہلی فساد،جہانگیرپوری اورتبلیغی جماعت پرکھل کرسامنے آچکاہے۔بی جے پی کے خط میں کہا گیا ہے کہ یہ ہم تمام ہم وطنوں کے لیے فخر کا لمحہ ہے کہ آج پورا ملک سکھوں کے 10 ویں گرو گرو گوبند سنگھ جی کا 400 واں پرکاش پرو منارہاہے۔ سکھوں کی تاریخ میں سب سے اہم خالصہ پنتھ کی بنیاد بھی شری گرو گوبند سنگھ جی نے رکھی تھی۔ اس کے ساتھ انہوں نے ملک اور مذہب کی حفاظت کے لیے اپنے چار بیٹوں کی قربانی بھی دی تھی۔
ایسی عظیم شخصیت کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ نئی دہلی کی تغلق روڈ جو کہ مغلیہ دور کی غلامی کی علامت ہے۔ کو ہٹا دیا جائے، اس کانام تبدیل کر کے شری گرو گوبند سنگھ مارگ رکھا جائے۔اس کے ساتھ ہی اکبر روڈ کا نام بدل کر مہارانا پرتاپ مارگ رکھ دیا جانا چاہیے تاکہ مہارانا پرتاپ کے 482 ویں یوم پیدائش کی یادمنائی جا سکے، جو ہندوؤں کے فخر اور میواڑ کے فخر ہیں، جنہوں نے مغلوں سے سختی سے لڑا تھا۔ یہ نہ صرف ہمارے نوجوانوں کو بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی طویل عرصے تک متاثر کرے گا۔
اس کے ساتھ غلامی کی علامت اورنگزیب لین کا نام تبدیل کر کے ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام لین رکھ دیا جائے جو میزائل مین، ہندوستان کے سابق صدر اور عظیم سائنسدان کے نام سے مشہورہیں۔ اسی طرح بابر لین کا نام نوجوان انقلابی خودی رام بوس لی کے نام پر رکھا جانا چاہیے جنھیں ملک کے لیے 18 سال کی عمر میں پھانسی دے گئی تھی۔اسی طرح ہمایوں روڈ کا نام مہارشی والمیکی روڈ کے نام پر رکھا جانا چاہیے، جو مہاکاوی رامائن کے مصنف ادیکوی کے نام سے مشہورہے۔ ساتھ ہی شاہجہاں روڈ کا نام بدل کر ہندوستان کے پہلے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت کے نام پررکھاجانا چاہیے۔



