
این آئی اے تفتیش: دہلی دھماکہ کیس میں عالمی کافی چین پر حملوں کا منصوبہ بے نقاب
دہلی دھماکہ کیس میں عالمی کافی چین کو نشانہ بنانے کی سازش سامنے آئی
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)دہلی کے تاریخی ریڈ فورٹ کے قریب گزشتہ برس 10 نومبر کو ہونے والے کار بم دھماکے کی تفتیش میں مرکزی ایجنسیوں کو ایک بڑے دہشت گرد منصوبے کا سراغ ملا ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق اس ماڈیول نے نہ صرف دہلی بلکہ دیگر بڑے شہروں میں ایک عالمی کافی چین کے آؤٹ لیٹس کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی تھی تاکہ زیادہ سے زیادہ سیاسی اور نفسیاتی اثرات مرتب کیے جا سکیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان اس عالمی برانڈ کو یہودی اثر و رسوخ کی علامت سمجھتے تھے کیونکہ عالمی سطح پر اس کی توسیع کے دوران اس کی قیادت ایک یہودی چیف ایگزیکٹو کے پاس رہی تھی۔ منصوبہ بند حملوں کو غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں سے جوڑ کر ایک سیاسی پیغام دینے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
مسلسل پوچھ گچھ کے دوران یہ انکشاف آٹھ ملزمان سے ہوا، جن میں تین طبی شعبے سے وابستہ افراد بھی شامل ہیں۔ ان میں جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے دو ڈاکٹرز اور اتر پردیش کی ایک خاتون ڈاکٹر شامل ہے۔ ملزمان نے تفتیشی حکام کو بتایا کہ ماڈیول کے اندر اہداف کے انتخاب پر شدید اختلاف پایا جاتا تھا۔
ذرائع کے مطابق ماڈیول کے کئی ارکان شہری مقامات کو نشانہ بنانے کے خلاف تھے اور چاہتے تھے کہ کارروائیاں صرف جموں و کشمیر میں سکیورٹی فورسز تک محدود رہیں۔ تاہم، کار بم حملہ آور کے طور پر شناخت کیے گئے شخص نے وادی سے باہر بڑے اور نمایاں اہداف پر حملے کے لیے زور دیا تاکہ عالمی توجہ حاصل کی جا سکے۔
تفتیشی حکام کے مطابق عالمی کافی چین کے آؤٹ لیٹس کو نشانہ بنانے کا مقصد عالمی توجہ حاصل کرنا تھا اور مبینہ طور پر مسلمانوں کے خلاف ہونے والی ناانصافیوں، بالخصوص غزہ کی صورتحال، کو بنیاد بنا رہے تھے۔
دھماکے کے سات دن بعد این آئی اے نے ایک تکنیکی ماہر کو گرفتار کیا، جسے ڈرونز کو ہتھیاروں میں تبدیل کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ تفتیش کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ ملک کے مختلف حصوں میں بیک وقت کار بم دھماکوں جیسے حملوں پر بھی بات چیت ہوئی تھی۔
پوچھ گچھ میں یہ انکشاف ہوا کہ حملہ آور نے ایک ملزم کو خودکش حملے کے لیے تیار کرنے کی کوشش کی، تاہم خوف کے باعث اس نے انکار کر دیا اور بعد میں معاون کردار میں شامل ہو گیا۔
ذرائع کے مطابق یہ ماڈیول ممنوعہ دہشت گرد تنظیموں سے منسلک تھا اور عالمی تنازعات کو مقامی دہشت گردی سے جوڑنے والی پروپیگنڈا سوچ سے متاثر تھا۔ تفتیشی ایجنسیوں کا ماننا ہے کہ ایک بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی 6 دسمبر کے آس پاس کی جا رہی تھی۔
ریڈ فورٹ کے قریب ہونے والا کار دھماکہ جموں و کشمیر پولیس کی تقریباً تین ہفتوں کی تفتیش کے بعد سامنے آیا، جس میں ایک نام نہاد “وائٹ کالر دہشت گرد ماڈیول” کے روابط دو ممنوعہ تنظیموں سے جوڑے گئے۔
یہ تفتیش اس وقت شروع ہوئی جب سری نگر میں ایک پمفلٹ برآمد ہوا، جس کے بعد نگرانی اور انٹیلی جنس سرگرمیوں میں اضافہ کیا گیا۔ بعد ازاں یہ معاملہ این آئی اے کے حوالے کر دیا گیا۔ اب تک نو افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جن میں تین ڈاکٹرز بھی شامل ہیں۔
ابتدائی تفتیش کے دوران حملہ آور کے موبائل فون سے ایک ویڈیو بھی ملی، جس میں وہ مبینہ طور پر خودکش حملے کی بات کرتا دکھائی دیتا ہے۔ مرکزی ایجنسیاں اب اس بات کی جانچ کر رہی ہیں کہ آیا عالمی کافی چین کو نشانہ بنانے کا منصوبہ محض بات چیت تک محدود تھا یا اس پر عملی سروے اور تیاری بھی کی جا چکی تھی۔معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔



