سرورققومی خبریں

دہلی میں کینسر کی سنگینی بے نقاب، ہر تین میں سے ایک متاثرہ 44 سال سے کم عمر

کینسر اب محض بڑھاپے تک محدود نہیں رہا، دہلی میں نوجوان طبقہ بھی تیزی سے اس مرض کی زد میں آ رہا ہے۔

نئی دہلی۔ 31 جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)دہلی میں کینسر ایک خاموش مگر خطرناک بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ دہلی حکومت کے تازہ ترین اعداد و شمار نے راجدھانی میں اس مہلک بیماری کی ایک تشویشناک تصویر پیش کی ہے۔ گزشتہ 20 برسوں کے دوران دہلی میں کینسر سے تقریباً ایک لاکھ دس ہزار افراد اپنی جان گنوا چکے ہیں، جن میں سے ہر تین میں سے ایک متاثرہ فرد کی عمر 44 سال سے کم رہی۔ یہ حقیقت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کینسر اب صرف معمر افراد تک محدود نہیں رہا بلکہ نوجوانوں اور کام کرنے کی عمر کے لوگوں کو بھی تیزی سے اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ان دو دہائیوں میں کینسر سے ہونے والی تقریباً 93000 اموات اسپتالوں میں درج کی گئیں۔ سال 2005 میں کینسر سے اموات کی تعداد 2000 سے کچھ زیادہ تھی، جو 2024 تک بڑھ کر تقریباً 7400 تک پہنچ گئی۔ اگرچہ یہ اضافہ ہر سال یکساں نہیں رہا، تاہم 2011 میں یہ تعداد تشویشناک حد تک بڑھ کر تقریباً 10000 تک جا پہنچی، جو اس بیماری کے بڑھتے ہوئے خطرے کی واضح علامت ہے۔

عمر کے لحاظ سے جائزہ لیا جائے تو 45 سے 64 سال کی عمر کے افراد سب سے زیادہ متاثر نظر آتے ہیں، جن کی شرح 41 فیصد سے زائد رہی۔ 14 سال سے کم عمر بچوں کی حصہ داری تقریباً 8 فیصد جبکہ 15 سے 24 سال کی عمر کے نوجوانوں کی شرح 5.8 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ ان 20 برسوں کے دوران دہلی کے اسپتالوں میں 7298 بچوں اور 5415 نوجوانوں، یعنی 24 سال سے کم عمر افراد کی کینسر سے موت درج کی گئی۔

ماہرین کے مطابق دہلی میں کینسر سے ہونے والی اموات میں سالانہ اوسطاً 7 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو راجدھانی کی آبادی میں اضافے کی رفتار سے تقریباً 3 گنا زیادہ ہے۔ مجموعی اموات میں سے 90 فیصد سے زائد اسپتالوں میں ہوئیں، جبکہ 2018 میں یہ تناسب بڑھ کر تقریباً 98 فیصد تک پہنچ گیا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ رجحان بہتر رپورٹنگ نظام اور علاج کے لیے اسپتالوں پر بڑھتے ہوئے انحصار کی عکاسی کرتا ہے۔

اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ 2005 سے 2024 کے درمیان اسپتالوں میں 45 سے 64 سال کی عمر کے 38481 افراد جبکہ 25 سے 44 سال کے 18222 افراد کینسر کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔ صنفی بنیاد پر دیکھا جائے تو مردوں میں کینسر سے اموات کی تعداد زیادہ رہی۔ اس عرصے میں مردوں کی تقریباً 55300 اور خواتین کی 37600 سے زائد ادارہ جاتی اموات ریکارڈ کی گئیں۔ تاہم عمر کے لحاظ سے دونوں میں پیٹرن تقریباً یکساں رہا۔

خواتین میں 25 سے 44 سال کی عمر کے گروپ میں اموات کی تعداد مردوں کے مقابلے میں کچھ زیادہ رہی، جس کی بڑی وجہ چھاتی اور رحم کے کینسر کو بتایا جا رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق خواتین میں چھاتی کے کینسر سے 411 اور رحم کے کینسر سے 194 اموات درج کی گئیں۔ دوسری جانب مردوں میں سانس کے کینسر سے 553 اور پروسٹیٹ کینسر سے 117 اموات رپورٹ ہوئیں۔

تمباکو سے متعلق کینسر بھی دہلی میں اموات کی ایک بڑی وجہ بنا رہا۔ منہ کے کینسر سے مردوں میں 607 جبکہ خواتین میں 214 اموات ہوئیں۔ اس کے علاوہ نظام ہضم سے وابستہ کینسر، جن میں معدہ، آنت اور لبلبہ شامل ہیں، نے بھی بڑی تعداد میں قیمتی جانیں لے لیں۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی آلودگی، غیر صحت مند طرز زندگی، تمباکو اور الکحل کا استعمال، اور دیر سے تشخیص جیسے عوامل دہلی میں کینسر کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات ہیں۔ ان کے مطابق اگر بروقت اسکریننگ، آگاہی اور احتیاطی اقدامات کو فروغ نہ دیا گیا تو آنے والے برسوں میں صورت حال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button