قومی خبریں

دہلی کار بم دھماکہ کیس: این آئی اے عدالت نے ڈاکٹر شاہین سمیت 7 ملزمان کی عدالتی تحویل میں توسیع کر دی

دہلی کار بم دھماکہ کیس میں این آئی اے عدالت کی سماعت

نئی دہلی (اردودنیا.اِن/ایجنسیز):دہلی کے سنسنی خیز کار بم دھماکہ کیس میں پٹیالہ ہاؤس کمپلیکس میں قائم خصوصی این آئی اے عدالت نے بدھ کے روز اہم فیصلہ سناتے ہوئے ڈاکٹر شاہین سعیدہ سمیت سات ملزمان کی عدالتی تحویل میں 8 جنوری تک توسیع کر دی۔ عدالت نے یہ حکم نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کی درخواست پر سماعت کے بعد جاری کیا۔

خصوصی جج پرشانت شرما نے این آئی اے کے خصوصی پبلک پراسیکیوٹر کے دلائل سننے کے بعد ملزمان کی عدالتی تحویل میں توسیع کی منظوری دی۔ سماعت بند کمرۂ عدالت میں ہوئی، جہاں ملزمان کو تحویل کی مدت مکمل ہونے پر پیش کیا گیا تھا۔

عدالت نے جن ملزمان کی عدالتی تحویل میں توسیع کی، ان میں ڈاکٹر مزمل شکیل گنائی، ڈاکٹر عدیل احمد راتھر،عامر رشید علی، جاصر بلال وانی عرف دانش، ڈاکٹر شاہین سعیدہ، سویاب اور مفتی عرفان احمد وگے شامل ہیں۔ این آئی اے نے مؤقف اختیار کیا کہ تفتیش ابھی ایک نازک مرحلے میں ہے اور مزید پوچھ گچھ ناگزیر ہے۔

نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کے مطابق یہ کیس وزارتِ داخلہ، حکومتِ ہند کی ہدایت پر حملے کے فوراً بعد ایجنسی کے سپرد کیا گیا تھا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ عامر رشید علی دہلی آیا تھا تاکہ اس گاڑی کی خریداری میں سہولت فراہم کرے جس میں بعد ازاں دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلہ (IED) نصب کیا گیا۔

این آئی اے کا کہنا ہے کہ فرانزک جانچ کے بعد اس گاڑی کے ڈرائیور کی شناخت عمر النبی کے طور پر ہوئی، جو ضلع پلوامہ کا رہائشی تھا اور فرید آباد کی ایک نجی یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

تفتیشی ایجنسی کے مطابق جاصر بلال وانی عرف دانش نے ترمیم شدہ ڈرونز کے ذریعے دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے تکنیکی مدد فراہم کی۔ اس پر راکٹ بنانے کی کوشش اور خودکش بمبار عمر النبی کے ساتھ قریبی سازش میں شامل ہونے کا بھی الزام ہے۔ این آئی اے نے اسے وادیٔ کشمیر میں کارروائی کے دوران گرفتار کیا تھا۔

یہ دھماکہ 10 نومبر کی شام تقریباً 7 بجے دہلی میں ایک چلتی ہوئی ہونڈائی i20 کار میں ہوا تھا، جس میں کم از کم 15 افراد جاں بحق اور 24 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ تفتیشی حکام کے مطابق حملہ انتہائی منظم منصوبہ بندی کے تحت انجام دیا گیا تھا۔

این آئی اے نے واضح کیا ہے کہ وہ مختلف ریاستی پولیس فورسز کے ساتھ قریبی تال میل کے ساتھ کام کر رہی ہے تاکہ اس خونریز حملے میں شامل پورے دہشت گرد ماڈیول کو بے نقاب کیا جا سکے۔ ایجنسی کے مطابق آنے والے دنوں میں مزید گرفتاریاں بھی ممکن ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button