
عدالت نے علیحدگی پسند لیڈر شبیر شاہ سے پوچھا انھیں ہندوستانی عدالتی نظام پر بھروسہ ہے یانہیں؟
نئی دہلی، 29 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)#دہلی کی ایک #عدالت نے منگل کو منی لانڈرنگ کے الزام میں #گرفتار #کشمیری #علیحدگی پسند لیڈر# شبیر #شاہ سے پوچھا کہ کیا انہیں ملک کے عدالتی نظام اور آئین پر #اعتماد ہے؟۔خصوصی جج دھرمیندر رانا نے ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران شاہ کے وکیل سے یہ سوال پوچھا۔ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے سماعت کے دوران جج نے ایڈووکیٹ ایم ایس خان سے پوچھاکہ اپنے مؤکل سے پوچھیں کہ کیا انہیں عدالتی نظام اور آئین ہند پر اعتماد ہے؟۔
اس پر وکیل نے جواب دیا کہ شاہ کو #ملک کے امن و امان پر مکمل اعتماد ہے۔ جج نے کہاکہ ان سے ذاتی طور پر پوچھیں اور یکم جولائی کو عدالت کو آگاہ کریں۔ شاہ تہاڑ سینٹرل جیل میں بند ہیں۔انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے ان کی ضمانت کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ وہ 6 ماہ میں شواہد پورا کردے گی کیونکہ اسے اس معاملے میں متعدد گواہوں کی جانچ کرنی ہے۔
استغاثہ کے مطابق اگست 2005 میں احمد وانی اور ایک مبینہ حوالہ ڈیلر کو دہلی پولیس کے خصوصی سیل نے گرفتار کیا تھا اور اس سے 63 لاکھ روپے برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جس میں سے 52 لاکھ روپے مبینہ طور پر شاہ کو دیاجاناتھا۔استغاثہ کے مطابق تفتیش کے دوران وانی نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے شاہ کو 2.25 کروڑ روپے دئے تھے۔
بعد ازاں ای ڈی نے شاہ اور وانی کے خلاف 2007 میں منی لانڈرنگ کی روک تھام ایکٹ (پی ایم ایل اے) کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔



