
ٹکٹ سے محروم 7 ممبران اسمبلی کا عام آدمی پارٹی سے مبینہ استعفیٰ
عام آدمی پارٹی کو ایک دو نہیں بلکہ پانچ جھٹکے لگ گئے
نئی دہلی،31جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)دہلی اسمبلی انتخابات سے پہلے جمعہ کو عام آدمی پارٹی کو ایک دو نہیں بلکہ پانچ جھٹکے لگ گئے ۔ سب سے پہلے مہرولی کے ایم ایل اے نریش یادو نے استعفیٰ دیا۔ اس کے چند گھنٹوں بعد جنک پوری کے ایم ایل اے راجیش رشی نے پارٹی چھوڑ دی، پھر ترلوک پوری کے ایم ایل اے روہت کمار مہرولیا، کستوربا نگر ایم ایل اے مدن لال، بجواسن ایم ایل اے بھوپیندر سنگھ جون، پالم ایم ایل اے بھوانا گوڈ اور پھر آدرش نگر کے ایم ایل اے پون کمار شرما نے بھی استعفیٰ دے دیا۔غور طلب ہے کہ ان تمام ایم ایل اے کو پارٹی سے ٹکٹ نہیں ملا تھا۔ 5 فروری کو ہونے والی پولنگ سے پہلے پارٹی کے تین ایم ایل اے کامستعفی ہونا عام آدمی پارٹی کے لیے کتنا نقصان دہ ہوگا یہ تو 8 فروری کو ووٹوں کی گنتی کے دن ہی پتہ چلے گا۔
وہیں مہرولی کے ایم ایل اے نریش یادو نے اپنے استعفیٰ نامہ میں لکھا کہ عام آدمی پارٹی ہندوستانی سیاست کو بدعنوانی سے پاک کرنے کے لیے بدعنوانی کیخلاف انا ہزارے کی تحریک سے پیدا ہوئی تھی لیکن اب مجھے بہت دکھ ہے کہ عام آدمی پارٹی سے بدعنوانی بالکل کم نہیں ہوئی ہے ،بلکہ خود کرپشن کی دلدل میں پھنس چکی ہے۔ میں نے 10 سال ایمانداری سے کام کیا۔ میں نے عام آدمی پارٹی صرف ایمانداری کی سیاست کے لیے جوائن کی تھی۔ ایمانداری آج کہیں نظر نہیں آتی۔ مستعفی ایم ایل اے کا دعویٰ تھا کہ عام آدمی پارٹی میں صرف چند ہی لوگ رہ گئے ہیں جو ایماندارانہ سیاست کرتے ہیں۔
ان کے ساتھ میری محبت اور دوستی ہمیشہ قائم رہے گی اور میں مہرولی کے لوگوں کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے گزشتہ 10 سالوں میں مجھے بہت پیار اور نوزاشوں سے نوازا۔ مہرولی ودھان سبھا اور دہلی کے پیارے لوگوں سے میری عاجزانہ درخواست ہے کہ وہ ایماندارانہ سماجی خدمت کی سیاست میں میرے مستقبل کے لیے ہمیشہ مجھ پر اپنا آشیرواد اور محبت رکھیں۔ میں آپ سب سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں ہمیشہ ایمانداری، اچھے سلوک اور کام کی سیاست کروں گا۔



