دلچسپ خبریںسرورق

دہلی کے فائیو اسٹار ہوٹل لیلا پیلس کو 23 لاکھ کا چونا- مہمان ہوٹل کا بل ادا کئے بغیر فرار

پولیس اب اس کے فراہم کردہ دستاویزات کی جانچ کر رہی ہے۔

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) بالی ووڈ کی فلم بنٹی اور ببلی کی کہانی کو ایک شخص نے حقیقت کا رنگ دے دیا،ملک کی راجدھانی دہلی کے فائیو اسٹار ہوٹل لیلا پیلس میں ایک شخص نے 23 لاکھ روپے کی دھوکہ دہی کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔ ابوظہبی کے شاہی خاندان کا ملازم بن کے رہا، دہلی کے 5 اسٹار ہوٹل میں 4 ماہ قیام کیا اور 23 لاکھ کا بل دیئے بغیر رفو چکر ہوگیا۔ متحدہ عرب امارات کا شہری اور ابوظہبی کے شاہی خاندان کا ملازم ہونے کا دعویٰ کرنے والا یہ شخص ہوٹل میں قیام کے بعد چیک آؤٹ کی مقررہ تاریخ سے دو دن پہلے ہوٹل انتظامیہ کو بتائے بغیر چلا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ محمد شریف نامی ملزم کی تلاش کر رہے ہیں جو دہلی کے 5 اسٹار ہوٹل انتظامیہ کو دھوکا دے کر فرار ہوگیا۔

پولیس رپورٹ کے مطابق ہوٹل انتظامیہ نے بتایا کہ محمد شریف نے یکم اگست کو کمرہ نمبر 427 میں چیک ان کیا اور 20 نومبر کو خاموشی سے چلا گیا۔ہوٹل کے عملے کا دعویٰ ہے کہ اس نے کمرے سے چاندی کے برتن اور موتیوں کی ٹرے سمیت کئی قیمتی اشیاء چرا کر لے گیا ہے۔ہوٹل انتظامیہ کے مطابق محمد شریف نے بتایا تھا کہ وہ متحدہ عرب امارات کا رہائشی ہے اور ابوظہبی کے شاہی خاندان کے شیخ فلاح بن زید النہیان کے ساتھ کام کرتا ہے اور سرکاری کاروباری سلسلے میں بھارت آیا ہے۔یہاں تک کہ اس نے اپنی کہانی کی تصدیق کے لیے ایک بزنس کارڈ، متحدہ عرب امارات کا رہائشی کارڈ اور دیگر دستاویزات بھی فراہم کیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ محمد شریف نامی ملزم پر ہوٹل انتظامیہ کی جانب سے دھوکا دہی اور چوری کا الزام عائد کیا گیا ہے اور اس کی مہیا کئے گئے دستاویزات کی جانچ کی گئی ہے جو کہ تمام جعلی ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ ہوٹل انتظامیہ کے مطابق اس نے 4 ماہ قیام کے دوران اس کا 35 لاکھ روپے کا بل بنا تھا جس میں سے 11.56 لاکھ نقد ادا کئے اور 20 لاکھ کا چیک جمع دیا تھا۔اس کے چار ماہ کے قیام کے دوران کمرے اور خدمات کا بل 35 لاکھ تھا۔ اس نے 11.5 لاکھ روپے ادا کیے اور باقی رقم ادا کیے بغیر چلا گیا۔پولیس نے بتایا کہ شریف نے ہوٹل میں چیک ان کرنے کے لیے اپنا بزنس کارڈ، یو اے ای کا رہائشی کارڈ اور دیگر دستاویزات دی تھیں۔ پولیس کو شبہ ہے کہ یہ تمام دستاویزات جعلی ہیں۔ پولیس اب اس کے فراہم کردہ دستاویزات کی جانچ کر رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button