
کینیڈا میں بیوی کو چھوڑنے کا الزام، دہلی ہائی کورٹ نے وزارتِ خارجہ کو فوری کارروائی کی ہدایت دے دی
شوہر نے جان بوجھ کر اس کا پاسپورٹ ضبط کر لیا اور اسے سفر کرنے سے روک دیا۔
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)دہلی ہائی کورٹ نے ایک نہایت سنگین اور حساس معاملے میں وزارتِ خارجہ کو سخت ہدایات جاری کی ہیں، جس میں ایک ہندوستانی خاتون کو مبینہ طور پر اس کے شوہر کی جانب سے کینیڈا میں بے یار و مددگار چھوڑ دیے جانے کا الزام سامنے آیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے کو انسانی حقوق اور سفارتی ذمہ داریوں سے جڑا ہوا قرار دیا۔
متاثرہ خاتون کی جانب سے عدالت میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ کینیڈا میں مقیم تھی، جہاں شوہر نے جان بوجھ کر اس کا پاسپورٹ ضبط کر لیا اور اسے سفر کرنے سے روک دیا۔ درخواست کے مطابق شوہر بعد ازاں خاتون کو وہیں چھوڑ کر بھارت آ گیا اور ان کی 11 سالہ بیٹی کو بھی بغیر کسی قانونی اجازت کے اپنے ساتھ لے آیا۔
خاتون نے الزام عائد کیا کہ وہ اس وقت کینیڈا میں بغیر کسی سفری دستاویز کے پھنسی ہوئی ہے اور اپنی کمسن بیٹی کی سلامتی کے حوالے سے شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ شوہر کی اس حرکت نے اسے نہ صرف قانونی مسائل میں الجھا دیا بلکہ ماں اور بیٹی کو زبردستی جدا بھی کر دیا۔
دہلی پولیس نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ متاثرہ خاتون کی جانب سے فراہم کردہ پتے پر تلاشی کے دوران مکان بند پایا گیا اور وہاں کوئی فرد موجود نہیں تھا۔ پولیس کے مطابق ملزم شوہر اور بچی کی تلاش کے لیے تکنیکی شواہد اور ڈیجیٹل ذرائع سے مدد لی جا رہی ہے۔
عدالت نے اس صورتحال پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے وزارتِ خارجہ کو ہدایت دی کہ وہ متاثرہ خاتون کے لیے نیا پاسپورٹ اور ویزا حاصل کرنے میں فوری مدد فراہم کرے۔ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کینیڈا میں بھارتی ہائی کمیشن نے اب تک اس معاملے میں فوری کارروائی کیوں نہیں کی۔
ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ بیرونِ ملک کسی ہندوستانی شہری کو بغیر دستاویزات کے چھوڑ دینا ایک نہایت سنگین معاملہ ہے اور ایسے حالات میں متعلقہ سفارتی اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فوری اور مؤثر اقدامات کریں، تاکہ متاثرہ خاتون اور اس کی کمسن بیٹی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔



