قومی خبریں

عدالت میں مبینہ غلط بیان کا معاملہ،دہلی ہائی کورٹ کا 6 سی بی آئی افسران کے خلاف فوجداری کارروائی کا حکم

نئی دہلی، 8 اکتوبر (اردودنیانیوز/ایجنسیز): دہلی ہائی کورٹ نے عدالت کے سامنے مبینہ طور پر جان بوجھ کر غلط بیان دینے کے معاملے میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کے چھ افسران کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کی ہدایت دی ہے۔ معاملہ انڈین ریونیو سروس (آئی آر ایس) افسر اشوک کمار اگروال کے خلاف آمدنی سے زائد اثاثوں کے مقدمے اور اس میں ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے لیے انتظامی وزارت کے ساتھ مبینہ خط و کتابت سے متعلق ہے۔

جسٹس مدھو جین کی یک رکنی بنچ نے اشوک کمار اگروال کی جانب سے دائر فوجداری اپیل پر سماعت کرتے ہوئے یہ حکم دیا۔ اگروال نے راؤز ایونیو کورٹ کے خصوصی جج (پی سی ایکٹ) کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا، جس میں سی بی آئی کے متعلقہ افسران کے خلاف ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی) کی دفعہ 340 کے تحت کارروائی شروع کرنے سے انکار کیا گیا تھا۔

ہائی کورٹ نے خصوصی جج کو سشیل دیوان، ونیت ونایک، امیت کمار، رمن تیاگی، پریم کمار گوتم اور محمد آزاد کے خلاف انڈین پینل کوڈ (آئی پی سی) کی دفعہ 191، 193 اور 209 کے تحت مبینہ قابل سزا جرائم کے سلسلے میں تحریری شکایت درج کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے کہا کہ فیصلہ موصول ہونے کے چار ہفتوں کے اندر شکایت متعلقہ دائرۂ اختیار رکھنے والے مجسٹریٹ کو بھیجی جائے۔

یہ معاملہ بدعنوانی کی روک تھام کے قانون کے تحت اشوک کمار اگروال کے خلاف سی بی آئی کی جانب سے چلائے گئے آمدنی سے زائد اثاثوں کے مقدمے سے متعلق ہے۔ اس مقدمے کی بنیاد 26 نومبر 2002 کو جاری کیے گئے منظوری کے حکم پر تھی۔

جنوری 2016 میں دہلی ہائی کورٹ نے مذکورہ منظوری کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا، جس کے بعد خصوصی عدالت نے مارچ 2016 میں اشوک کمار اگروال کو مقدمے سے بری کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد سی بی آئی نے اسے اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کے امکان پر غور کیا۔

8 جون 2016 کو وزارت قانون و انصاف نے قانونی رائے دی کہ اس معاملے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کے لیے مناسب بنیاد موجود نہیں ہے۔ محکمہ برائے عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے یکم جولائی 2016 کو یہ رائے سی بی آئی تک پہنچا دی تھی۔

اس دوران اشوک کمار اگروال نے تحقیقات کے دوران ضبط کیے گئے دستاویزات جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ سی بی آئی نے 2 اگست 2016 کو عدالت میں داخل اپنے جواب میں کچھ دستاویزات فراہم کرنے کی مخالفت کی اور کہا کہ معاملے میں مزید قانونی کارروائی کے حوالے سے انتظامی وزارت کے ساتھ خط و کتابت جاری ہے۔

خصوصی جج نے اس کے بعد سی بی آئی کو ایک واضح جواب داخل کرنے کی ہدایت دی کہ آیا جنوری 2016 کے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف کوئی اپیل یا نظرثانی کی درخواست دائر کی گئی ہے یا ایسی کوئی درخواست زیر التوا ہے۔

اشوک کمار اگروال نے 8 اگست 2016 کو سی آر پی سی کی دفعہ 340 کے تحت درخواست دائر کرتے ہوئے سی بی آئی کے اس مؤقف پر اعتراض کیا۔ ان کا الزام تھا کہ عدالت میں دیا گیا بیان حقائق کے اعتبار سے غلط تھا، کیونکہ اس وقت انتظامی وزارت کے ساتھ ایسی کوئی خط و کتابت نہیں ہوئی تھی اور سی بی آئی کو وزارت قانون و انصاف سے پہلے ہی یہ قانونی رائے مل چکی تھی کہ معاملے کو اعلیٰ عدالت کے سامنے لے جانے کی مناسب بنیاد موجود نہیں ہے۔

تاہم، ہائی کورٹ کے سامنے پیش ریکارڈ سے معلوم ہوا کہ سی بی آئی نے 8 اگست 2016 کو ڈی او پی ٹی کو اس معاملے پر دوبارہ غور کرنے اور مزید قانونی رائے حاصل کرنے کی تجویز بھیجی تھی۔

اس کے اگلے روز، 9 اگست کو داخل کیے گئے اضافی جواب میں سی بی آئی نے کہا کہ اس نے اصولی طور پر جنوری 2016 کے ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں تجویز 8 اگست کو متعلقہ محکمہ کو بھیج دی گئی تھی۔

اشوک کمار اگروال نے درخواست میں کہا کہ سی بی آئی کا عدالت میں یہ بیان کہ انتظامی وزارت کے ساتھ مزید قانونی کارروائی کے حوالے سے خط و کتابت جاری ہے، حقائق کے مطابق نہیں تھا۔ انہوں نے اسی بنیاد پر متعلقہ افسران کے خلاف عدالتی کارروائی کی درخواست کی۔

ہائی کورٹ نے معاملے کے ریکارڈ، سی بی آئی کی جانب سے داخل جوابات اور دستیاب دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد چھ افسران کے خلاف مبینہ غلط بیان سے متعلق فوجداری کارروائی شروع کرنے کی ہدایت دی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button