دہلی ہائی کورٹ نے عآپ حکومت کو لگائی پھٹکار
بدقسمتی کی بات ہے کہ آپ سی اے جی کی رپورٹ کو اسمبلی کی میز پر رکھنے میں تاخیر کر رہے ہیں۔
نئی دہلی ،13جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)دہلی ہائی کورٹ نے سی اے جی کی 14 رپورٹوں کو اسمبلی میں پیش کرنے میں تاخیر پر دہلی حکومت کو پھٹکار لگائی ہے۔ جسٹس سنجیو نرولا کی بنچ نے کہا کہ وہ آج دوپہر 2.30 بجے دہلی اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلانے کے معاملے کی سماعت کرے گی۔ سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ آپ سی اے جی کی رپورٹ کو اسمبلی کی میز پر رکھنے میں تاخیر کر رہے ہیں۔ آپ کو فوری طور پر سی اے جی کی رپورٹ اسمبلی کے اسپیکر کو بھیجنی چاہیے تھی، تاکہ اس پر اسمبلی میں بحث ہو سکے۔جب عرضی گزار بی جے پی ایم ایل ایز نے اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلانے کی ہدایت کی مانگ کی تو عدالت نے کہا کہ ہم اس کی سماعت دوپہر ڈھائی بجے کریں گے، لیکن اب جبکہ انتخابات کا اعلان ہوچکا ہے، اس لیے اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ہائی کورٹ نے 24 دسمبر 2024 کو دہلی حکومت اور دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر کو نوٹس جاری کیا تھا۔
عرضی میں دہلی حکومت کو سی اے جی کی 14 رپورٹیں اسمبلی میں پیش کرنے کا حکم دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ میں دی گئی یقین دہانی کے باوجود ایک ہفتہ گزرنے کے بعد بھی دہلی حکومت نے سی اے جی کی رپورٹ اسمبلی میں پیش نہیں کی ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ 16 دسمبر کو دہلی ہائی کورٹ میں دہلی حکومت نے سی اے جی کی رپورٹ دو سے تین دن کے اندر دہلی اسمبلی اسپیکر کو بھیجنے کا یقین دلایا تھا۔ اس یقین دہانی کے ایک ہفتہ گزرنے کے بعد بھی دہلی کی عام آدمی پارٹی حکومت نے نہ تو یہ رپورٹیں اسپیکر کو بھیجی ہیں اور نہ ہی اس کے لیے اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ دہلی حکومت کو ہدایت جاری کرے کہ وہ فوری طور پر 14 سی اے جی رپورٹس اسپیکر کو بھیجے اور اس کے لیے اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلانے کا حکم دے۔
ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران دہلی حکومت نے کہا تھا کہ انہوں نے شراب پر ٹیکس، آلودگی اور مالیات سے متعلق سی اے جی کی رپورٹ اسمبلی میں پیش کرنے کے لیے لیفٹیننٹ گورنر کو بھیج دی ہے۔سماعت کے دوران لیفٹیننٹ گورنر کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے کہا تھا کہ 11 دسمبر کی رات اسمبلی کی میز پر رکھنے کے لیے دس فائلیں لیفٹیننٹ گورنر کے دفتر بھیجی گئیں۔عرضی میں کہا گیا کہ سی اے جی کی یہ رپورٹیں وزیر اعلیٰ اور وزیر خزانہ آتشی کے پاس زیر التواء ہیں اور لیفٹیننٹ گورنر سے بار بار درخواست کرنے کے باوجود انہیں اسمبلی کے سامنے پیش کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا ہے۔ عرضی میں کہا گیا کہ اس معاملے پر عرضی داخل کرنے سے پہلے بی جے پی ایم ایل اے نے اس معاملے پر وزیر اعلیٰ، چیف سکریٹری اور اسمبلی کے اسپیکر سے رابطہ کیا تھا، لیکن اب تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ اس کو لے کر بی جے پی ممبران اسمبلی نے آتشی مرلینا کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج بھی کیا۔



