
دہلی فسادات کی صحیح جانچ کرکے اصل مجرموں کو پکڑنے کادہلی پولیس کوئی ارادہ نہیں آپ ایم ایل اے آتشی کا دعویٰ
نئی دہلی،5ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)عام آدمی پارٹی نے دہلی فسادات کی تحقیقات کے حوالے سے ایک بار پھر دہلی پولیس کو نشانہ بنایا ہے۔ عام آدمی پارٹی نے عدالت کے تبصرے کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت کے دہلی پولیس کی تفتیش پر بار بار سوال اٹھانے کے بعد دہلی پولیس کی نیت پر سوال اٹھایا ہے۔ آپ کی ایم ایل اے آتشی نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی دہلی پولیس دہلی فسادات کی صحیح طریقے سے تحقیقات نہیں کر رہی ہے اور پولیس کی تفتیش پر عدالت کی طرف سے بار بار سوال اٹھایا جا رہا ہے۔
ایک پریس کانفرنس میں آتشی نے کہا کہ فروری 2020 میں دہلی کو بہت تکلیف دہ فسادات کا سامنا کرنا پڑا، ہم سب نے دیکھا کہ شمال مشرقی دہلی میں فسادات، آتش زنی اور تشدد کیسے ہوا لیکن آج ان فسادات کے ڈیڑھ سال گزرنے کے بعد بھی دہلی پولیس نے نہ تو کوئی کارروائی کی اور نہ ہی مناسب طریقے سے تحقیقات کی۔ مختلف عدالتوں نے خود پولیس کی تحقیقات پر بار بار سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ دہلی پولیس ان فسادات کی ٹھیک طرح سے تحقیقات کیوں نہیں کر رہی ہے، وہ کارروائی کیوں نہیں کر رہی ہے؟
کیا دہلی پولیس ان فسادات میں کسی کو بچا رہی ہے؟ ان فسادات کے بعدجس دن سے کارروائی شروع ہوئی، ہر سطح کی عدالتوں نے دہلی پولیس کی تحقیقات پر بار بار سوالات اٹھایاہے۔
عدالت میں جاری سماعت کے دوران دئے گئے تبصروں کا حوالہ دیتے ہوئے آتشی نے کہا کہ ہم یہ سوال صرف اس لئے نہیں اٹھا رہے ہیں کہ ہم ایک سیاسی جماعت ہیں اور دہلی پولیس بی جے پی کے تحت آتی ہے،بلکہ اس ملک کی ہر سطح کی عدالتوں نے سوالات اٹھائے ہیں۔ سیشن کورٹ نے دہلی پولیس سے سوالات پوچھے، ہائی کورٹ نے دہلی پولیس سے سوالات پوچھے، سپریم کورٹ نے دہلی پولیس سے سوالات پوچھے۔
فروری 2020 میں ہی جب دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس مرلیدھرن نے دہلی پولیس سے پوچھا کہ آپ نے مختلف سیاستدانوں کی اشتعال انگیز تقاریر کی ویڈیوز پر کارروائی کیوں نہیں کی تو دہلی پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے وہ ویڈیوز نہیں دیکھی ہیں۔ اس دوران دہلی ہائی کورٹ نے وہ ویڈیوز دہلی پولیس کو خود عدالت میں دکھاتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی ہے؟ پھر نومبر 2020 میں عدالت نے دہلی پولیس کے خلاف بہت سخت تبصرے کئے۔ مختلف معاملات میں بار بار دہلی ہائی کورٹ نے دہلی پولیس سے کہا کہ آپ نے کوئی کارروائی نہیں کی، آپ نے ٹھیک طرح سے تفتیش نہیں کی۔
آپ صرف اپنے ہی کانسٹیبل اور افسران کو بطور گواہ اور ایسے گواہ لا رہے ہیں جن کے پاس نہ تو سی سی ٹی وی فوٹیج ہے اور نہ ہی کوئی اور گواہ مدد کے لیے۔ ایسا لگتا ہے کہ دہلی پولیس کے گواہ خود تیار ہو چکے ہیں اور جعلی ہیں۔
ایم ایل اے آتشی نے کہا کہ بہت سے کیسز میں عدالت نے گواہوں اور ان کے بیانات کو دہلی پولیس کے سامنے لانے سے انکار کر دیا۔ عدالت نے دہلی پولیس سے بار بار پوچھا کہ یہ کیسے ہے کہ دہلی شہر میں اتنے سارے سی سی ٹی وی کیمرے موجود ہیں، لیکن آپ کے گواہوں کی حمایت کے لیے کسی ایک جگہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج دستیاب نہیں ہے۔
عدالت نے ایک مقدمے میں ایک 65 سالہ شخص کو ضمانت دیتے ہوئے دہلی پولیس سے کہا کہ وہ فسادات کا شکار ہے، ایک شخص جو خود فسادات کا شکار ہوا ہے، آپ نے اسی کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے اور اس کیس کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ دہلی فسادات میں درج 750 مقدمات میں سے ان ڈیڑھ سال میں صرف 35 مقدمات میں چارج شیٹ دائر کی گئی ہیں۔ آج عدالت خود ان معاملات پر تبصرہ کر رہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ یہ کس قسم کی تفتیش ہے؟ آج عدالت کو کھڑے ہوکر کہنا پڑتا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ دہلی پولیس اس معاملے میں تحقیقات نہیں کرنا چاہتی۔



