فرضی ویزا ریکٹ کا پردہ فاش، بعدازمشقت وکیل سمیت تین گرفتار
پولیس نے قومی راجدھانی دہلی میں وکالت اور ٹریول ایجنسی کی آڑ میں چل رہے فرضی ویزا ریکٹ کا پردہ فاش کیا
نئی دہلی ، 7فروری :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) پولیس نے قومی راجدھانی دہلی میں وکالت اور ٹریول ایجنسی کی آڑ میں چل رہے فرضی ویزا ریکٹ کا پردہ فاش کیا ہے۔ پولیس کو ہریانہ اور دہلی سے تین ایجنٹوں کو تلاش کرنے میں ایک سال سے زیادہ وقت لگا۔ آئی اے این ایس کی رپورٹ کے مطابق ملزمان کی شناخت جنک پوری کے رہائشی ادیت موگھا (32)، لاڈ پور کے رہائشی ساگر ڈباس (25) اور ہریانہ کے کیتھل کے رہائشی کیول سنگھ (45) کے طور پر کی گئی ہے۔حکام نے بتایا کہ تینوں ایک گروہ کا حصہ تھے جو پرکشش قیمتوں پر بیرونی ممالک کے منظور شدہ ویزے کی پیش کش کر کے بیرون ملک بھیجنے کی لالچ دیتے تھے۔ رپورٹ کے مطابق 2022 میں تین ہندوستانی شہریوں گرمیت سنگھ، ساحل کمار اور وکرم سنگھ ایک فلائٹ سے استنبول سے حوالگی کے ذریعے آئی جی آئی ایئرپورٹ پہنچے، جس کے بعد اس معاملہ کی تفتیش شروع کر دی گئی۔
ڈپٹی کمشنر آف پولیس (آئی جی آئی ایئر پورٹ) اوشا رنگنانی نے کہا کہ ان کے سفری دستاویزات کی جانچ پڑتال کے دوران انکشاف ہوا کہ گرپریت نومبر 2022 کو آئی جی آئی ایئرپورٹ اور ساحل اور وکرم جے پور ایئرپورٹ سے روانہ ہوئے تھے۔ یہ سبھی باکو (آذربائیجان) کے لیے روانہ ہوئے اور وہاں سے استنبول پہنچے، جہاں انہوں نے گیانا کے فرضی ویزے کی بنیاد پر داخل ہونے کی کوشش کی ،مگر انہیں روک دیا گیا۔جانچ کے دوران ساحل نے انکشاف کیا کہ وہ معاش زندگی کے لیے بیرون ملک جانا چاہتا تھا اور اس کے سفر کا بندوبست کیول سنگھ اور ان کے معاون ایجنٹوں ادیت موگھا اور ساگر ڈباس نے 20 لاکھ روپے کے عوض کیا، جس میں سے دو لاکھ روپے پیشگی ادا کئے گئے، جبکہ بقیہ رقم گیانا پہنچنے کے بعد ادا کرنا طے پایا گیا۔ڈی سی پی نے کہاکہ تکنیکی نگرانی کی مدد سے ایک فرار ایجنٹ ادیت موگھا کو دہلی میں اس کے ٹھکانے سے گرفتار کیا گیا۔
ملزم نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا اور معلوم چلا کہ وہ ایم سی اے ہے اور روپالی ٹریولز پرائیویٹ لمیٹڈم مہیپال پور کا مالک ہے۔موگھا ٹکٹنگ اور منی ایکسچینج کا کاروبار کرتا تھا۔ ڈی سی پی نے کہا کہ بزنس کے دوران ان کی دوستی کیول سنگھ اور ساگر ڈباس سے ہو گئی۔ اس کے بعد انہوں نے متاثرین کو پرکشش قیمتوں پر بیرون ملک کے منظور شدہ پاسپورٹ اور ویزا کی پیشکش کر کے بیرون ملک بھیجنے کے بہانے مائل کرنا شروع کر دیا۔ملزم ادیت موگھا نے مزید انکشاف کیا کہ وہ رقم روپالی ٹریولز کے کھاتے میں حاصل کرتے تھے۔ڈی سی پی نے کہا کہ دیگر ایجنٹوں کے ملوث ہونے کا پتہ لگانے اور ملزمین کے بینک کھاتوں کی جانچ کرنے اور اسی طرح کی دیگر شکایات و مقدمات میں ان کے ممکنہ طور پر ملوث ہونے کا پتہ لگانے کے لیے معاملے کی تفتیش جاری ہے۔



