دہلی فسادات کیس: سابق ایم ایل اے طاہر حسین اور دو دیگر کی ضمانت کی درخواست مسترد
موجودہ مرحلے پر تینوں ملزمان کو رہا نہیں کیا جا سکتا۔
نئی دہلی 29-جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)دہلی کی ایک عدالت نے جمعرات کے روز دہلی فسادات کے مقدمے میں عام آدمی پارٹی کے سابق ایم ایل اے طاہر حسین، سلیم ملک اور اطہر خان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں۔ عدالت نے کہا کہ موجودہ مرحلے پر تینوں ملزمان کو رہا نہیں کیا جا سکتا۔
ایڈیشنل سیشن جج سمیر باجپائی نے ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کے دوران کہا کہ ملزمان کے خلاف الزامات سنگین نوعیت کے ہیں اور مقدمے میں موجود شواہد کا تفصیلی جائزہ لیا جانا ابھی باقی ہے۔ تینوں ملزمان نے اس بنیاد پر ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا کہ سپریم کورٹ اسی مقدمے میں پانچ دیگر ملزمان کو ضمانت دے چکی ہے، لہٰذا وہ بھی برابری کے اصول کے تحت ضمانت کے حق دار ہیں۔
استغاثہ کے مطابق تینوں ملزمان پر سال 2020 کے دہلی فسادات میں مبینہ کردار کے الزام میں غیر قانونی سرگرمیاں روک تھام ایکٹ کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔ اطہر خان پر شمال مشرقی دہلی کے چاند باغ علاقے میں ہونے والے مظاہروں کے مرکزی منتظمین میں شامل ہونے اور اشتعال انگیز تقاریر کرنے کا الزام ہے۔
دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کے مطابق اطہر خان نے مبینہ طور پر خفیہ میٹنگوں میں شرکت کی، جہاں تشدد بھڑکانے کی باتیں کی گئیں، اور اس نے سی سی ٹی وی کیمروں کو نقصان پہنچانے میں بھی تعاون کیا۔
طاہر حسین دہلی فسادات سے متعلق مختلف مقدمات میں گزشتہ چار سال اور نو ماہ سے جیل میں ہیں۔ اس سے قبل 22 جنوری کو سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ میں ان کی ضمانت کی درخواست پر اختلافِ رائے سامنے آیا تھا، جس کے باعث کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا تھا۔
واضح رہے کہ دہلی میں فسادات 24 فروری 2020 کو شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کے دوران شروع ہوئے تھے۔ شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے ان فسادات میں 53 افراد ہلاک جبکہ 250 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ فسادات کے دوران متعدد علاقوں میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا اور مجموعی طور پر 520 ایف آئی آر درج کی گئیں۔ بعد ازاں 25 فروری کو حالات پر قابو پا لیا گیا۔



