قومی خبریں

دہلی فسادات: عدالت نے قتل کے معاملے میں 7 ملزمان کودی ضمانت کہا مقدمہ پورہونے تک جیل میں نہیں رکھ سکتے

نئی دہلی،30جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) #دہلی کی ایک #عدالت نے بدھ کے روز شہر کے شمال مشرق میں #تشدد سے متعلق #قتل کے ایک مقدمے میں سات #ملزمان کی #ضمانت #منظور کرلی۔ عدالت نے کہا کہ وہ انھیں مقدمے کی سماعت کی تکمیل تک جیل میں نہیں رکھ سکتی ہے،

جس میں کووڈ وبائی مرض کی وجہ سے تاخیرہونے کاامکان ہے۔یہ معاملہ گذشتہ سال 24 فروری کو فرقہ وارانہ #فسادات کے دوران شمال مشرقی #دہلی کے برہم پوری علاقے میں ونود کمار کے مبینہ قتل سے متعلق ہے۔ اس معاملے میں 12 افراد پر الزام ہے۔ایڈیشنل سیشن جج امیتابھ راوت نے سات ملزمان کو راحت دیتے ہوئے کہا کہ وہ انھیں #مقدمے کی سماعت تک جیل میں نہیں رکھ سکتے، خاص طور پر وبائی مرض کے پیش نظر بہت وقت لگے گا۔

جج نے اس حقیقت کو پیش نظررکھا کہ بیشتر ملزمان ایک سال سے زیادہ عرصے سے جیل میں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حقائق و حالات اور تحویل کی مدت کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام ملزمان کی درخواستیں قبول کی جاتی ہیں اور ان کی ضمانت منظور کی جاتی ہے۔#عدالت نے صغیر احمد، نوید خان، جاوید خان، ارشد، گلزار، محمد #عمران اور چاند بابوکو 20000 روپے کے ذاتی مچلکے اور اتنی ہی رقم کا ایک مقامی ضمانت دار پیش کرنے کاحکم دیا۔

عدالت نے ملزمان کو ہدایت دی کہ وہ کسی بھی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث نہ ہوں،عدالت کی اجازت کے بغیر دہلی-این سی آر سے باہر نہ جائیں اور ثبوت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کریں۔فسادات کے بعد تعزیرات #ہند کے قتل، قتل کی کوشش، فسادات، مذہبی بنیادوں پر دو گروہوں کے مابین #دشمنی کو فروغ دینے کے الزامات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔

دارالحکومت میں 23 فروری 2020 کو شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے حامیوں اور مخالفین کے مابین ہونے والے تصادم نے فرقہ وارانہ تشدد کی شکل اختیار کرلی تھی جس میں کم از کم 53 افراد ہلاک اور 700 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button