قومی خبریں
آرایس ایس کو بھاجپا کے وجود کی فکر لاحق ،دہلی میں موہن بھاگوت سمیت دس بڑے لیڈروں کا غور وفکر
کرونا اور کسان تحریک کے باعث ہونے والے نقصانات پر تبادلہ خیال
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اس وقت مودی سرکار کو چاروں سمت سے سخت تنقید کاسامنا ہے ، بی جے پی کی گرتی ہوئی ساکھ بچانے کے لئے آر ایس ایس نے کمرکس لی ہے ۔اسی کے پیش نظر آرایس ایس کے 10 بڑے عہدیدار ہفتہ کو دہلی میں منعقدہ میٹنگ میں شرکت کریں گے۔ اس میں بی جے پی کے سینئر رہنماؤں کی شمولیت کابھی ا مکان ہے ۔
آر ایس ایس کے سربراہ ڈاکٹر موہن بھاگوت سمیت کئی اعلیٰ عہدیدار بشمول بی جے پی کے مرکزی تنظیم کے سربراہ بی ایل سنتوش بھی دہلی پہنچ گئے ہیں۔ وہ کل کی میٹنگ کے حوالے سے آر ایس ایس کے دفتر میں ذہن سازی کر رہے ہیں۔ بھاگوت نے خود اس کی باگ ڈور سنبھالی ہے۔خیال رہے کہ ان چار بڑے موضوعات پرتبادلہ خیال اور سخت غور و خوض کیا جارہا ہے۔
1:- بنگال میں انتخابی شکست اور بنگال میں ہندوؤں پر تشدد اور بنگال میں فکری جنگ کس سمت رخ کرے گی ؟
2:- یوپی میں جاری سیاسی تعطل کو بہتر بناتے ہوئے پنچایتی انتخابات میں بی جے پی کی شکست کی وجوہ کی دریافت؟
3:- کرونا کی وبا کے دوران مودی حکومت اپنی ساکھ کیوں کھو بیٹھی ، اس سے نمٹنے میں مرکزی حکومت کیا ناکام رہی؟ مرکزی کابینہ میں تبدیلی سے پارٹی کو کیا فائدہ ہوگا؟
4:- مرکزی حکومت کیخلاف جاری کسان تحریک کا حل ،اور بی جے پی لیڈران متعدد ریاستوں کے دیہات میں داخل سے گریز کیوں کر رہے ہیں۔
بتایا جاتا ہے کے قومی صدر جے پی نڈا سمیت متعدد مرکزی وزرا بھی آر ایس ایس کے دفتر پہنچے تھے ، اور آرایس ایس کے اعلی عہدیداروں کو موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ہریانہ اور یوپی حکومت کے وزرائے اعلی کے کام پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع پر یقین کیا جائے تو کئی وزراء کے کام کاج کی بھی تحقیقات کی جارہی ہیں اور آنے والے وقت میں مودی کابینہ میں کچھ نئے چہرے سامنے آسکتے ہیں۔اس کے علاوہ مغربی بنگال میں انتخابی شکست اور ہندوؤں پر مبینہ تشدد کے حل کا بھی راستہ تلاش کیا جائے گا ۔



