
نئی دہلی ، 18اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دہلی کی ایک عدالت نے فروری 2020 کے فسادات کے ملزموں کو غیر ضروری تشدد کرنے پر پولیس پر جرمانہ عائد کردیا ہے۔ساتھ ہی عدالت نے کہا ہے کہ پولیس کمشنر اور دیگر سینئر افسران نے بار بار ان معاملات میں ذاتی مداخلت نہ کرنے کی دی جانی والی ہدایات کو نظر انداز کیا۔چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ ارون کمار گرگ نے پولیس کو شکایات کو الگ کرنے،اورساتوں ملزمان کے معاملہ میں مزید تفتیش کے لیے ایک عرضی دائر کرنے میں تاخیر پر 25 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا ہے۔
عدالت نے کہا کہ بار بار ڈی سی پی (نارتھ ایسٹ) ، جوائنٹ کمشنر آف پولیس (ایسٹرن رینج) اور پولیس کمشنر دہلی کو شمال مشرقی دہلی کے فسادات سے متعلق معاملات میں انہیں ذاتی مداخلت کی ہدایت دی گئی،تاہم ایسا لگتا ہے کہ ان تمام ہدایات کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ عدالت نے شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کے ان معاملات میں درست تفتیش اور اس سمت میں کئے گئے اقدامات کی تفصیلات پولیس آفیسر راکیش استھانہ کو 12اکتوبر کو ہدایات دی گئی تھیں ۔
نیز مرکزی حکومت کے سیکریٹری داخلہ کو بھی ہدایت دی تھی کہ وہ پورے معاملہ کی تحقیقات کرے اور غلطی کرنے والے عہدیداروں پر جرمانہ عائد کرے ۔یا پھر ان کی تنخواہ میں رقومات وضع کی جائیں ۔ واضح ہو کہ اس معاملہ پر مزید تفتیش کیلئے سماعت ملتوی کی جانے کی پولیس کی درخواست کی وجہ سے جرمانہ عائد کیا گیا ہے ۔
ستمبر میں ایڈیشنل سیشن جج نے سوال کیا تھا کہ دہلی کے بھجن پورہ علاقہ کی تین الگ الگ حلقوں میں مختلف تاریخوں پرہوئے فرقہ وارانہ فسادات کے پانچ واقعات کو ایک ایف آئی آر میں کیوں شامل کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے عقیل احمد کی شکایت کو الگ کرنے کی ہدایت بھی دی تھی۔لیکن تفتیشی حکام (آئی او ) کے ذریعہ دائر تفصیلاتی رپورٹ میں اس کی شکایت کا کو الگ کرنے کے بارے میں کوئی تذکرہ موجود نہیں تھا ۔
عدالت نے کہا کہ آئی او کی شکایت اور معاملہ کو الگ کرنے کی جانچ کی درخواست کو منظوری دی جاتی ہے ،کیوں کہ اس سے تاخیر ہونے کے باعث مبینہ ملزمان کا غیر ضروری استحصال ہوا ہے ، جس کے لیے ریاست پر 25 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔



